خطے میں محاذ آرائی کسی فریق کیلئے سود مند نہیں ہوگی، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2020

ای میل

شاہ محمود قریشی نے دوحہ میں قطر کے ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی، ترجمان دفتر خارجہ — فوٹو: نوید صدیقی
شاہ محمود قریشی نے دوحہ میں قطر کے ہم منصب شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی، ترجمان دفتر خارجہ — فوٹو: نوید صدیقی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ خطے میں محاذ آرائی کسی فریق کے لیے سود مند نہیں ہوگی اور ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو سفارتی کوششیں بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی جائے۔

دفتر خارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے دوحہ میں قطر کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قطر کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین کثیرالجہتی تعاون کو بڑھانے کا متمنی ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے کہا کہ مقبوضہ وادی کے نہتے 80 لاکھ معصوم کشمیری گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل لاک ڈاؤن، قید و بند کی صعوبتوں سمیت طرح طرح کے بھارتی مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمان بھارتی مظالم سے نجات حاصل کرنے کے لیے اقوام عالم بالخصوص مسلم امہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: 'پرامن جنوبی ایشیا کا خواب مسئلہ کشمیر کے حل تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا'

بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے سفارتی کاوشیں بروئے کار لانے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خطے میں محاذ آرائی کسی فریق کے لیے سود مند نہیں ہوگی، ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو سفارتی کوششیں بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے اپنے قطری ہم منصب کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے پاکستان کی طرف سے جاری کاوشوں سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ، مصالحانہ کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے جبکہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی سے 40 سالہ طویل محاذ آرائی کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کی راہ ہموار ہونے کے روشن امکانات بن رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی کو خطے میں کیے گئے اپنے حالیہ دوروں اور مختلف وزرائے خارجہ سے ہونے والے ٹیلی فونک رابطوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں تناؤ اور کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق رائے کا پایا جانا خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے اپنا متحرک اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان فریقین کو محاذ آرائی سے بچنے اور سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا تاکہ خطے کا امن خطرات سے دو چار نہ ہو۔

قطری ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے شاہ محمود قریشی کے دورہ قطر کو سراہتے ہوئے افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ماضی کی طرح افغانستان کو نظر انداز نہ کرے، وزیر خارجہ

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی اپنا دورہ امریکا مکمل کرنے کے بعد دوحہ پہنچے تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر امریکا کا دورہ کر رہے تھے۔

دورے کے پہلے دن وہ نیویارک پہنچے اور اقوامِ متحدہ کی سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقات کی۔

اقوامِ متحدہ کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کو دہرایا اور بتایا کہ کشمیر کی صورتحال خطے میں کسی بڑے تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔

بعد ازاں واشنگٹن پہنچ کر شاہ محمود قریشی نے امریکی قانون سازوں، انڈر سیکریٹری ڈیفنس اور سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو سے ملاقات کی۔

ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کے سیاسی تصفیے، افغان امن عمل اور پرامن ہمسائیگی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے امریکا کے مشیر قومی سلامتی ایمبیسیڈ رابرٹ او برائن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

خیال رہے کہ یہ رابرٹ و برائن کی ستمبر 2018 میں مشیر قومی سلامتی کے عہدے پر تعیناتی کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔

اس سے قبل شاہ محمود قریشی سعودی عرب اور ایران کا دورہ کرچکے ہیں جس میں دونوں ممالک کی قیادت سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔