'جب تک ملک درست نہیں ہوتا فوجی اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے'

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2020

ای میل

انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹا بحران سے متعلق نئے نئے انکشاف سامنے آرہے ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹا بحران سے متعلق نئے نئے انکشاف سامنے آرہے ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سندھ میں آٹے کے بحران پر صوبائی حکومت کو مصنوعی بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک درست نہیں ہوتا فوجی اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

کراچی میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں حلیم عادل شیخ اور خرم شیر زمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ 'اگرچہ تھوڑا بہت اعتبار رہ گیا ہے، اس ملک کی مجبوری ہے کہ جب تک درست نہیں ہوتا کہ ہمیں فوجی اداروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے'۔

مزیدپڑھیں: کل سے آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی، خسرو بختیار

فردوس شمیم نقوی نے اپنی وضاحت میں کہا کہ 'اس لیے کیوں کہ وہاں (فوجی اداروں میں) اب بھی کچھ ڈسپلن اور احتساب باقی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹا بحران سے متعلق نئے نئے انکشاف سامنے آرہے ہیں۔

صوبائی رہنما کا کہنا تھا کہ 'معلوم ہونا چاہیے کہ سندھ حکومت میں فلور ملز کس کی ہیں، ہر رکن سندھ و قومی اسمبلی کے پاس ایک دو فلورملز ہیں اور متعدد شراکت دار ہیں'۔

علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (سندھ ) کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے گندم کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کے لیے پاسکو سے 4 میں سے صرف ایک لاکھ ٹن گندم اٹھائی جبکہ باقی گوداموں میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

انہوں نے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے 4 لاکھ ٹن گندم سندھ حکومت کو فراہم کی لیکن موجودہ سندھ حکومت نے فلور ملز کو گندم فراہم نہیں کی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سندھ حکومت نے اپنی 4 لاکھ ٹن گندم بھی مارکیٹ میں بھیجی'۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا افغانستان کو گندم برآمد کرنے کا معاہدہ گزشتہ برس جولائی میں ختم کردیا تھا جس کے بعد سندھ حکومت کا دعویٰ جھوٹ ہے کہ گندم کابل کو فراہمی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے ان کی کارکردگی مایوس کن ہے، محکمہ فوڈ سندھ 90 ارب روپے کا مقروض ہے۔

حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت سے جواب مانگتے ہوئے کہا کہ محکمہ فوڈ 90 ارب روپے کا مقروض کیوں اور کیسے ہوا؟ 8لاکھ ٹن گندم میں سے 4 لاکھ ٹن گندم کہاں گئی؟ ادھار پر جو گندم بیرون ملک حوالے کی اس کی ادائیگی کتنی ہوئی؟

مزیدپڑھیں: 7 ماہ میں آٹے کی قیمت میں فی کلو 16 روپے تک اضافہ

انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد گندم کی خریداری صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے

علاوہ ازیں خرم شیر زمان نے کہا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو گندم کے بحران کا جواب دینا ہوگا۔