انٹرپول کے سابق سربراہ کو 13 برس قید، جرمانے کی سزا

اپ ڈیٹ 21 جنوری 2020

ای میل

ژو یونگ کانگ نے 2004 میں مینگ ہونگے کو نائب سیکیورٹی وزیر مقرر کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز
ژو یونگ کانگ نے 2004 میں مینگ ہونگے کو نائب سیکیورٹی وزیر مقرر کیا تھا—فائل فوٹو: رائٹرز

بیجنگ: چین کی عدالت نے بین الاقوامی پولیس (انٹرپول) کے سابق صدر مینگ ہونگوے کو رشوت وصول کرنے کے الزام میں 13 سال سے زائد قید کی سزا سنادی۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں بیجنگ نے مینگ ہونگوے وائی کو حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی۔

مزید پڑھیں: انٹرپول کے سابق سربراہ پر رشوت خوری، دیگر جرائم کا الزام

11 مئی 2019 کو چینی پراسیکیوٹر نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مینگ ہونگوے نے نائب وزیر پبلک سیکیورٹی اور میری ٹائم پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور غیر قانونی طور پر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے رقم اور املاک حاصل کیں، بیان میں کہا گیا کہ یہ رقم بہت خطیر ہے۔

قبل ازیں چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کی نظم وضبط کمیٹی نے کہا تھا کہ تحقیقات میں ہی بات سامنے آئی کہ مینگ ہونگوے نے اپنے اہلِ خانہ کے پرتعیش انداز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

خیال رہے کہ مینگ ہونگوے کو اپریل 2019 میں عہدے سے برطرف کیا گیا جبکہ پارٹی سے نکالتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا کیوں کہ انٹرپول کی سربراہی کے دوران انہوں نے وزارت کا عہدہ بھی برقرار رکھا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق تینجن فرسٹ انٹرمیڈیٹ پیپلز عدالت نے فصیلہ سنایا کہ 66 سالہ مینگ ہونگوے کو 13 سال 6 ماہ قید اور 2 لاکھ 90 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انٹرپول کے سابق سربراہ پر رشوت لینے کا الزام، فردِ جرم عائد

گزشتہ جون میں مینگ ہونگوے کے خلاف 20 لاکھ 10 ہزار ڈالر رشوت لینے کا الزام عائد ہوا تھا۔

جس کے بعد عدالت نے کہا کہ انہوں نے اپنی حیثیت اور عہدوں کا 'ناجائز استعمال' کیا۔

عدالتی بیان میں کہا گیا کہ 'چوری شدہ رقم اور چوری شدہ سامان برآمد نہیں کیا جاسکتا'۔

عدالت نے کہا کہ مینگ ہونگوے وائی نے 'تمام مجرمانہ سرگرمیوں کا اعتراف کیا اور وہ اس فیصلے پر اپیل نہیں کریں گے'۔

چین کے پبلک سیکیورٹی بیورو نے مینگ ہونگوے کے معاملے کو ژو یونگ کانگ سے منسلک کیا جنہیں 2015 میں رشوت، اقتدار کے ناجائز استعمال اور ریاستی راز افشا کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ژو یونگ کانگ نے 2004 میں مینگ ہونگوے کو نائب سیکیورٹی وزیر مقرر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چین نے انٹرپول کے صدر کو حراست میں لینے کی تصدیق کردی

مینگ ہونگوے کو ملک کے انسداد دہشت گردی ڈویژن سمیت متعدد حساس محکموں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مینگ ہونگوے فرانس کے شہر لایون میں واقع انٹرپول کے صدر دفتر سے 25 ستمبر 2018 کو اپنے آبائی وطن چین کے دورے کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن اس کے بعد سے ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مینگ ہونگوے کی بیوی اپنے شوہر سے رابطہ نہ ہونے پر لایون میں پولیس کے پاس گئیں اور انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنے شوہر سے آخری بار رابطہ 10 دن قبل ہوا تھا اور حال ہی میں انہیں سوشل نیٹ ورک اور ٹیلی فون کے ذریعے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ فرانس انٹرپول کے صدر کے لاپتا ہونے کے معاملے کو دیکھ رہا ہے، معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور ہمیں ان کی بیوی کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے تشویش ہے جس کو دیکھتے ہوئے ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر دیے گئے ہیں۔

بعد ازاں چین نے مینگ ہونگوے کو حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی۔