وزیراعظم نے سی پیک پر تنقید مسترد کرتے ہوئے اسے 'احمقانہ' قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے دوران ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیا —فوٹو: عمران خان فیس بک
وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے دوران ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیا —فوٹو: عمران خان فیس بک

وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر تنقید کو 'احمقانہ' کہتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی 'اصل مدد کررہا' ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے زور دیا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے امریکی صدر اور اقوام متحدہ کردار ادا کریں۔

دوران انٹرویو جب میزبان ہیڈلے گیمبل کی جانب سے پوچھا گیا کہ یہ منصوبہ (سی پیک) پاکستان کے لیے قرضوں کا جال ہے؟ تو اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ 'جب چینی اس بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) اور سی پیک کے ساتھ ہماری مدد کے لیے آئے تو اس وقت ہم واقعی پتھروں کے نیچے تھے'۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے سی پیک سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا

انہوں نے کہا کہ 'لہٰذا ہم چینیوں کے حقیقت میں بہت شکر گزار ہیں کہ وہ آئے اور ہمیں ریسکیو کیا'۔

وزیراعظم نے اس مفروضے کہ سی پیک قرضوں کا جال تھا، کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ احمقانہ' بات ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'وہ آئے اور ہمیں تحریک دلائی، نہ صرف انہوں نے ہمیں قرضے دیے (بلکہ) یہ قرض مجموعی پورٹ فولیو کا بمشکل 5 یا 6 فیصد ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ چینیوں نے اصل میں سرمایہ کاری سے پاکستان کی مدد کی اور اس وجہ سے اب ملک 'کے پاس موقع ہے کہ وہ بیرونی سرمایہ کاری کو (اپنی طرف) متوجہ کرے'۔

عمران خان نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری کو اپنی طرف لانے کے لیے ان کی حکومت اب خصوصی اقتصادی زونز بنا رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ابھی 2 (زونز) کھولیں ہیں اور ہم مزید کھول رہے ہیں جہاں صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات دی جارہی ہیں'۔

پاک چین اقتصادی راہدری سے متعلق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک 'بی آر آئی سے الگ ہے کیونکہ چین ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے، وہ خصوصی طور پر زراعت میں مدد کررہا ہے کیونکہ (اس شعبے میں) چینی ٹیکنالوجی ترقی کو (فروغ دے سکتی) ہے (کیونکہ) یہ پاکستان سے کافی بہتر ہے جبکہ ہماری پیداوار کافی کم ہے'۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں سے جس چیز کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے وہ ہنر ہے اور یہ منصوبہ پاکستانیوں کو ہنر بھی فراہم کررہا ہے، 'یہ پاکستان میں ہنرمند مراکز قائم کررہا ہے جو ہمیں مدد فراہم کر رہے ہیں جس پر ہم بہت شکرگزار ہیں'۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں بھی سی پیک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، تاہم حالیہ معاملہ امریکی سینئر سفیر ایلس ویلز کے بیان کے بعد سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پر ہمیں اپنے مفاد کو دیکھنا ہے، وزیر خارجہ

گزشتہ دنوں تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب میں ایلس ویلز نے اسلام آباد سے سی پیک میں شمولیت کے فیصلے پر نظرثانی کا کہا تھا اور چین کے ون بیلڈ ون روڈ انیشی ایٹو منصوبے پر تنقید کی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں، پاکستان کا قرض چین کی فنانسنگ کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

تاہم چینی اور پاکستانی حکام نے امریکی تنقید کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا لیکن وزیراعظم کے اس بیان سے اسلام آباد کے سی پیک کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔