'جی حضوری کرنے والا نہیں، صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے والا افسر چاہیے'

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

مراد علی شاہ نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی پالیسی پر ہر سرکاری ملازم کو عمل کرنا پڑے گا — ڈان نیوز اسکرین شاٹ
مراد علی شاہ نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی پالیسی پر ہر سرکاری ملازم کو عمل کرنا پڑے گا — ڈان نیوز اسکرین شاٹ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کو جی حضوری کرنے والا نہیں بلکہ عوام کی خدمات اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے والا افسر چاہیے۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے 15 جنوری 2020 کو انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی کلیم امام کو ہٹانے سے روک دیا

تاہم وفاق نے انہیں فوری طور پر ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے نئی تعیناتی تک سندھ ہائی کورٹ نے بھی آئی جی سندھ کو ہٹانے سے روک دیا تھا۔

جمعہ کو خیرپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیس نے بہت قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے، اس صوبے کی منتخب سیاسی حکومت کی پالیسیاں لوگوں کی بہتری کے لیے ہی ہوں گی کیونکہ ہم عوام کے نمائندے ہیں اور پولیس افسران ان کے خادم ہیں۔

رانی پور میں ایک کروڑ کی ڈکیتی اور بدامنی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پولیس کی وجہ سے رانی پور سمیت چند اضلاع میں بدامنی کا ماحول پیدا ہوا ہے اور اس بدامنی کے ماحول کی وجہ سے ہی کابینہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ اس کا حل یہی ہے کہ آئی جی سندھ کو تبدیل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاق کا حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی کلیم امام کو فوری ہٹانے سے انکار

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے صوبے اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے جو جانیں دی ہیں، انہیں ہم چند نااہل افسران کی وجہ سے رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں جی حضوری کرنے والا بندہ نہیں بلکہ وہ آدمی چاہیے جو صوبے میں امن و امان برقرار رکھ سکے اور صوبے کے عوام کی خدمت کر سکے کیونکہ وہ خادم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نااہل افسران کو بچایا جائے گا تو نقص امن کی صورتحال پیدا ہو گی اور اگر نااہل افسران اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوامی نمائندوں پر بھونڈے الزام عائد کریں گے تو یہ عوام کی تذلیل ہے۔

مزید پڑھیں: سعید غنی کی ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان پر کڑی تنقید، 'تھرڈ کلاس شخص' قرار دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں، عوام کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی لاتے ہیں اور اس پالیسی پر ہر سرکاری ملازم اور خادم کو عمل کرنا پڑے گا۔

آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی و صوبائی حکومت میں تناؤ

واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے 15 جنوری 2020 کو انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ پولیس کے نئے آئی جی کے لیے وفاق کو 3 نام بھجوا دیئے گئے

صوبائی حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کے دور میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور ساتھ ساتھ سندھ پولیس کے سربراہ پر حکومت کے احکامات نہ ماننے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

اس بارے میں ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے آئی جی سندھ کے لیے غلام قادر تھیبو، مشتاق احمد مہر اور ڈاکٹر کامران کے نام تجویز کیے تھے۔

تاہم وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔

بعد میں سماجی کارکن جبران ناصر نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹانے کے نوٹیفکیشن کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کا جواب آنے تک صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہٹانے سے روک دیا تھا۔