سندھ، خیبر پختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز کی تصدیق

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

لکی مروت میں 19 جنوری کو بھی پولیو کا ایک کیس سامنے آیا تھا—فائل/فوٹو:عمیر علی
لکی مروت میں 19 جنوری کو بھی پولیو کا ایک کیس سامنے آیا تھا—فائل/فوٹو:عمیر علی

خیبر پختونخوا (کے پی) کے علاقے لکی مروت اور سندھ کے ضلع سجاول میں پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آگئے جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 4 ہوگئی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق لکی مروت میں 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور اس بچے کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے گئے تھے۔

سینٹر کا کہنا تھا کہ 8 ماہ کے بچے کے پیشاب کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی لیبارٹری کو بھیجے گئے تھے جہاں وائرس کی موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

—فوٹو:سراج الدین
—فوٹو:سراج الدین

سندھ کے ضلع سجاول میں بھی پولیو کیس کی تصدیق کی گئی جبکہ اس قبل سندھ کے شہر ٹنڈوالہیار میں ایک کیس کی تصدیق کی گئی تھی۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر عبدالباسط نے پولیس مہم کو مزید موثر بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موثر انسداد پولیو مہم میں ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے ورنہ اس مرض کا خاتمہ ممکن نہیں اس لیے کوئی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے بچوں کے والدین سے درخواست کی کہ پولیو مہم میں ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔

آپریشن سینٹر سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک ملک بھر میں سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 4 ہوگئی ہے جن میں سے 2 لکی مروت اور 2 سندھ میں سامنے آئے ہیں۔

سندھ میں 22 جنوری کو نئے سال میں پولیو کا نیا کیس ٹنڈوالہیار میں سامنے آیا تھا۔

خیال رہے کہ نئے سال کے پہلے پولیو کیس کی لکی مروت میں تصدیق ہوئی تھی جہاں ایک سالہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہوا تھا جبکہ انہیں ایک مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا: لکی مروت میں نئے سال کے پہلے مہینے میں پولیو کا پہلا کیس

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پولیو وائرس نے بچے کی دونوں ٹانگوں کو متاثر کیا جس سے ان کے معذور ہونے کے علامات نظر آرہی تھیں اور دائیں ٹانگ میں زیادہ اثر ہوا تھا۔

انسداد پولیو پروگرام کے مطابق گزشتہ برس پورے پاکستان میں پولیو کے 136 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سب سے زیادہ کے پی میں 96 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد سندھ میں 25، بلوچستان میں 11 اور پنجاب میں 8 کیسز سامنے آئے تھے۔

پولیو وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اعصابی نظام میں داخل ہوکر تاحیات معذور بنا سکتا ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک پولیو کے مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں اور اس کا انسداد نہ ہوسکا۔

پاکستان تاحال پولیو سے متاثرہ ملک ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکار ہے اور 2014 سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو پولیو سے متعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ 4 جنوری کو 5 پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی اور 2 جنوری کو مزید 6 پولیو کیسز سامنے آئے تھے لیکن ان کیسز کے نمونے 2019 میں حاصل کیے گئے تھے اس لیے ان کو گزشتہ سال میں شمار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر سے مزید 5 پولیو کیسز کی تصدیق

قومی ادارہ صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پولیو وائرس کے متحرک ہونے کے لیے کم از کم 3 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے، لہٰذا نمونے حاصل کرنے کے 3 ہفتوں بعد پولیو کیس کی تصدیق ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عین ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں تک ہم 2019 کے مزید پولیو کیسز کی تصدیق کریں‘۔

قبل ازیں 30 دسمبر کو وزارت قومی صحت کے انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیو پروگرام گزشتہ 6 ماہ میں کئی تنازعات کا سامنا کرنے کے بعد آخر کار اپنی 'درست سمت پر گامزن' ہے۔

انسداد پولیو پروگرام نے دعویٰ کیا تھا کہ دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی اور ملک بھر میں 3 کروڑ 96 لاکھ بچوں کے ہدف کے مقابلے میں 4 کروڑ 39 بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔

یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے۔