یورپی پارلیمنٹ کا مقبوضہ کشمیر کے الحاق، شہریت قانون کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ کا فیصلہ

27 جنوری 2020

ای میل

قرارداد پر 30 جنوری کو ووٹنگ ہوگی — فائل فوٹو: اے ایف پی
قرارداد پر 30 جنوری کو ووٹنگ ہوگی — فائل فوٹو: اے ایف پی

یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے ساتھ الحاق اور ملک میں نئے شہریت قوانین کے نفاذ کے خلاف پیش کی گئی قرار داد پر بحث اور رائے شماری کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے نئے شہریت قوانین پر مسلمانوں کے خلاف امتیازی ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔

رینیو گروپ کے قانون سازوں کی جانب سے پیش کی گئی اور حمایت کردہ قرارداد میں یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک سے ’مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے فروغ‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں کی گئی یکطرفہ تبدیلیوں کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد کے مسودے میں کہا گیا کہ بھارت نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جس کے تحت کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے ریفرنڈم کروانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: اراکین یورپی پارلیمنٹ دورہ مقبوضہ کشمیر کیلئے بھارت پہنچ گئے

بھارت کو شہریت قانون میں ’متنازع ترامیم‘ واپس لینے پر زور دیتے ہوئے قرارداد کے مسودے میں کہا گیا کہ نیا قانون نسل اور قومی بنیاد پر شہریت سے محروم رکھنے کے خاتمے سے متعلق قانون، بھارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتا ہے جو انٹرنیشنل کانوننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) اور دیگر انسانی حقوق کے معاہدوں میں درج ہے۔

قرار داد میں نئے شہریت قانون سے پولیس اور حکومت کے حامی گروہوں کی جانب سے تشدد کی ’حوصلہ افزائی‘ ہوئی ہے جو بھارت اور اس کے پڑوسی ممالک کے رہائشیوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر فوری طور پر آبادی کے مختلف حصوں سے پُرامن مذاکرات میں مصروفِ عمل ہونے پر زور دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی قرارداد میں زور دیا گیا کہ بھارتی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ سیکیورٹی فورسز طاقت اور ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے اصولوں کی تعمیل کریں۔

قرارداد میں رواں ماہ کے آغاز میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تشدد کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی کو طلبی کے لیے سی اے اے اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف مظاہروں کا مرکزی مقام قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ پولیس نے حملہ دیکھا لیکن مشتعل ہجوم کو قابو کرنے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا۔

اس میں کہا گیا کہ ’بھارتی آئین کے مطابق بھارت ایک خودمختار سیکولر جمہوری ملک ہے اور اسی لیے مذہب کو شہریت کے معیار کے طور پر شامل کرنا بنیادی طور پر غیرآئینی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی سفرا نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کی بھارتی دعوت مسترد کردی

یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود شیڈول کے مطابق مذکورہ قرارداد پر 29 جنوری کو بحث کی جائے گی۔

اس حوالے سے قرار داد پر 30 جنوری کو رائے شماری کی جائے گی جس میں کہا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور بھارتی حکومت کے ہندو قومیت ایجنڈے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سی اے اے کو الگ دیکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ ترامیم اور این آر سی دونوں ہی اقلیتوں کو ان کی بھارتی شہریت سے محروم کرسکتی ہیں جبکہ این آر سی سے خارج مسلمانوں کو غیر ملکی ٹریبونلز میں اپنے کیسز جیتنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

قبل ازیں یورپی یونین کے ممالک کے کئی سفارت کاروں نے بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے غیر معمولی دورے کی دعوت مسترد کردی تھی جہاں گزشتہ برس 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے اور مواصلاتی بلیک آؤٹ ہے۔

یورپی ممالک کے سفیروں نے بھارتی پیشکش مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کی سربراہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کے بجائے لوگوں سے ملاقات کی مکمل آزادی دی جائے۔

اس کے ساتھ ہی یورپی سفرا نے مقبوضہ کشمیر کی گرفتار سیاسی قیادت، خاص طور پر سابق وزرائے اعلیٰ فاروق، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔


یہ خبر 27 جنوری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی