بھارت مظاہرے: جامعہ ملیہ کے بعد شاہین باغ میں بھی مسلح نوجوان کی فائرنگ

اپ ڈیٹ 01 فروری 2020

ای میل

پولیس نے نوجوان کو گرفتار کرلیا—فوٹو: بشکریہ نیوز18
پولیس نے نوجوان کو گرفتار کرلیا—فوٹو: بشکریہ نیوز18

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جامعہ ملیہ میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے تیسرے روز شاہین باغ کے علاقے میں ایک اور مسلح نوجوان نے فائرنگ کی جہاں بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف مسلمان خواتین کا احتجاج جاری ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے جامعہ نگر میں شاہین باغ میں ایک مسلح نوجوان نے فائرنگ کی تاہم کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا جبکہ پولیس نے نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

سوشل میڈیا میں زیر گردش ویڈیو میں واضح طور پر سنا جاسکتا ہے کہ پولیس کی حراست میں موجود نوجوان چلا رہا ہے کہ ‘ہمارے دیش میں اور کسی کی نہیں چلے گی، صرف ہندوؤں کی چلے گی’۔

شاہین باغ کے رہائشی ابوالاعلیٰ سہانی کا کہنا تھا کہ ‘فائرنگ کرنے والے نوجوان کی عمر 20 سال کے لگ بھگ تھی اور جب انہیں حراست میں لیا گیا تو ہم نے پولیس کو ان کا نام لیتے ہوئے سنا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے کہا کہ اس کا نام کپِل گجر ہے اور وہ اتر پردیش کے گاؤں دالوپورا سے تعلق رکھتا ہے’۔

ابوالاعلیٰ سہانی کے مطابق وہ چلا رہا تھا کہ ‘ہندو راشٹرا زندہ باد’ اور فائرنگ کی۔

رپورٹ کے مطابق شاہین باغ میں فائرنگ کا واقعہ تقریباً شام 5 بجے پیش آیا، مسلح نواجوان کی جانب سے بھارت کے متنازع شہریت قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں میں گھس کر فائرنگ کا ایک ہفتے میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت: ہندو قوم پرست نے 'یہ لو آزادی' کہہ کر مظاہرین پر فائرنگ کردی

عینی شاہدین کے مطابق نوجوان نے اپنی شناخت کپِل گجر کے نام سے کرائی اور اس نے پولیس کے ناکے کے قریب فائرنگ کی جو احتجاج کے لیے بنائے گئے اسٹیج سے چند فرلانگ دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں قابو کیا اور حراست میں لے لیا۔

ڈپٹی کمشنر پولیس چنمائے بسوال کا کہنا تھا کہ ‘ملزم نے پولیس ناکے کے قریب ہوئی فائرنگ کی تاہم پولیس نے ان کو حراست میں لیا اور مزید تفتیش جاری ہے’۔

پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اس کی شناخت کی کھوج لگا رہے ہیں۔

قبل ازیں اسلحے کا مقامی ٹھیکیدار بھی مسلح حالت میں چند روز قبل احتجاج کے مقام پر آیا تھا اور مظاہرین کو اپنا احتجاج ختم کرنے کو کہا تھا۔

یاد رہے کہ 30 جنوری کو نئی دہلی میں ایک ہندو قوم پرست نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلبہ پر فائرنگ کرکے ایک طالب علم کو زخمی کردیا تھا۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص نے نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ پر یہ کہہ کر فائرنگ کردی کہ 'یہ لو آزادی' اور 'نئی دہلی پولیس زندہ باد'۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک (بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان) سے غیرقانونی طور پر بھارت آنے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اس بل کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم شہروں میں انٹرنیٹ کی معطلی اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔

شہریت ترمیمی قانون ہے کیا؟

شہریت ترمیمی بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت فراہم کرنا ہے، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: بھارت: متنازع شہریت بل کےخلاف احتجاج، کرفیو نافذ، درجنوں گرفتار

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔