اعلیٰ افسران کے بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث ہونے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 02 فروری 2020

ای میل

متعدد کلیکٹوریٹز پر درآمدی اشیا کی قیمتیں غلط ظاہر کرنے، غلط بیانیوں کا سراغ چند ماہ قبل لگایا گیا تھا — اے پی پی: فائل فوٹو
متعدد کلیکٹوریٹز پر درآمدی اشیا کی قیمتیں غلط ظاہر کرنے، غلط بیانیوں کا سراغ چند ماہ قبل لگایا گیا تھا — اے پی پی: فائل فوٹو

اسلام آباد: محکمہ کسٹمز انٹیلی جنس نے 900 کنٹینرز میں درآمد کی گئی اشیا کی قیمتیں غلط ظاہر کرنے میں اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق غلط بیانیوں کا چند ماہ قبل کراچی میں قائم کلیکٹروریٹس، طورخم کسٹم اسٹیشنز اور کوئٹہ کے کلکٹریٹ آف اپریزمنٹ میں سراغ لگایا گیا تھا لیکن اس معاملے کو کئی مہینوں سے چھپایا جارہا تھا۔

ڈان کو موصول سرکاری دستاویزات اور سینئر ٹیکس عہدیداروں کے انٹرویو سے معلوم ہوا ہے کہ 'کلیکٹرز یا چیف کلکٹرز' کے عہدے پر تعینات افراد سیاسی حلقوں یا اعلی بیوروکریسی سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

محکمہ کسٹم میں ہونے والی کلیکٹرٹ سطح پر بدعنوانی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ڈی جی کسٹمز انٹیلی جنس محمد زاہد نے ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی کو ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے متعدد خطوط لکھے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈیٹا بیس کے مربوط نظام کی بدولت احساس پروگرام سے کرپشن ختم ہوئی، وزیراعظم

طورخم کے کسٹم اسٹیشن میں دھوکہ دہی سے متعلق خصوصی رپورٹ بھی چیئرمین کو 6 دسمبر 2019 کو ارسال کی گئی تھی۔

اسی طرح کوئٹہ کے اپریزمنٹ کلکٹریٹ، پورٹ قاسم کلکٹریٹ اور اپریزمنٹ ایسٹ میں بدعنوانی سے متعلق متعدد رپورٹیں بھی چیئرمین کو ارسال کی گئیں۔

تاہم بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف تا حال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

اہم اقدام جمعے کے روز سامنے آیا جب پشاور اور کوئٹہ میں تعینات چند کسٹمز افسران کا تبادلہ اور اور کچھ کو نوکری سے برطرف کردیا گیا۔

ایف بی آر میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ 'نوٹی فکیشن جاری کرنے سے قبل اس میں کراچی سے شامل اعلیٰ عہدوں پر تعینات چند سینئر کسٹمز افسران کے نام نکال دیے گئے ہیں'۔

آمدنی میں ہونے والے نقصان اور بدعنوانی کے حوالے سے تحقیقات کی ذمہ داری حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو دے دی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ 'ہم نے ایف آئی اے سے طورخم اور کوئٹہ کے معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی ہے'۔

تاہم چیف کلیکٹر شمال ڈاکٹر آصف محمود نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے بھی اس اسکینڈل کی انکوائری کا آغاز کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اسکینڈل کے بارے میں لاعلم ہیں جبکہ اسلام آباد کے ڈرائی پورٹ، اسلام آباد ایئرپورٹ اور سوست ڈرائی پورٹ پر بھی چند غلط بیانیوں کے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے جو ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رپورٹ کرپشن میں اضافے کی عکاسی نہیں کرتی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'میں اپنی انکوائری دو ہفتوں میں مکمل کرلوں گا'۔

ڈی جی انٹیلی جنس کی جانب سے ایف بی آر کے چیئرمین کی بھیجی گئی رپورٹس کے مطابق درآمدی اشیا کے 355 کنٹینرز جعلی اشیا ظاہر کرکے بغیر کسی ڈیوٹی اور ٹیکسز کے طورخم کے کسٹمز اسٹیشن سے جاری کیے گئے۔

ایف آئی اے ڈائریکٹوریٹ افسران کے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی تحقیقات کرے گی جو اسکینڈل کو سامنے لانے میں ناکام رہے۔

سینئر کسٹمز انٹیلی جنس حکام کے مطابق طورخم کسٹمز اسٹیشن کے کیس میں جس طرح اشیا سے لیس ٹرک بغیر کچھ ظاہر کیے اور ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کیے گزرے ہیں، یہ نہایت منفرد ہے۔

یہ نیٹ ورک اتنا طاقتور ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس پر کھل کر بات کی ہے۔

پنڈ دادن خان میں 26 دسمبر 2019 کو اپنی تقریر میں وزیر اعظم عمران خان نے محکمہ کسٹمز میں کرپشن کا حوالہ دیا اور کہا کہ 'ہمیں ایک علاقے میں ایسا کلیکٹر کسٹمز ملا ہے جو ماہانہ 70 کروڑ روپے کما رہا ہے'۔

کوئٹہ میں مقیم کسٹمز حکام نے ڈان کو غلط بیانی، ریفائنڈ اسٹیل کو اسکریپ بتا کر اور ڈیزل کی کلیئرنس کے واقعے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ایف بی آر کے حکام تک سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ان کرپشن کے واقعات کے بارے میں پیغامات پہنچائے ہیں، کوئی بھی یقین نہیں کرے گا کہ ایف بی آر کوئٹہ کلیکٹوریٹ میں اس بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کے بارے میں لاعلم ہے۔

انٹیلی جنس آفس میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ کراچی میں 500 سے زائد کنٹینرز کا سراغ لگایا گیا ہے جن کی غلط بیانی کی گئی تھی جس کے ذریعے کراچی میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری کی گئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 'ہم نے اسٹیل کی تجارت کے 100 کنٹینرز کی غلط بیانی کی رپورٹ ایف بی آر کو ارسال کی ہیں جنہیں ضبط کیا گیا تھا اور یہ 1 سے 1.5 ارب روپے کے ٹیکس کے تھے'۔

ریفائن شدہ اسٹیل کو بندرگاہوں سے اایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے لیے بغیر ڈیوٹی کے کلیئر کیا گیا جنہیں حقیقت میں دیگر مقاصد کے لیے بدل دیا گیا۔

تاہم تخمینہ لگایا گیا ہے کہ کراچی پورٹ سے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے لیے نکلنے والے کنٹینرز کی تعداد 500 سے زائد ہے۔

چند حکام کا ماننا ہے کہ کنٹیرز کی کل تعداد 1500 سے بھی زئاد ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ لنڈا (استعمال شدہ کپڑے) کے نام پر الیکٹرانکس کا سامنا کراچی پورٹ سے کلیئر کیا جاتا ہے، ہم نے یہ تمام رپورٹس ایف بی آر کو بھیج دی ہیں، اور ٹیکس اتھارٹی کی جانب سے بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیا جانا باقی ہے'۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی آفس نے پورٹ قاسم، اپریزمنٹ ایسٹ اور دیگر دفاتر میں غلط بیانیوں کے حوالے سے متعدد خطوط ارسال کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اب اعلیٰ حکام کی ذمہ داری ہے کہ ان افسران کے خلاف کارروائی کریں جو اب بھی اپنے عہدوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں'۔