انڈر19 ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 10وکٹوں سےشکست

اپ ڈیٹ 04 فروری 2020

ای میل

پاکستان کے کپتان روہیل نذیر نے 62رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو بشکریہ پی سی بی
پاکستان کے کپتان روہیل نذیر نے 62رنز کی اننگز کھیلی— فوٹو بشکریہ پی سی بی

بھارت نے اوپنرز یشسوی جیسوال اور دیوینش سکسینا کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 10وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔

جنوبی افریقہ کے شہر پوشفسٹروم میں کھیلے گئے انڈر19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کے کپتان روہیل نذیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کچھ اچھا ثابت نہ ہوا۔

بھارت کو اننگز کی ابتدا میں ہی اہم کامیابی مل گئی اور محمد ہریرا صرف 4 رنز بنانے کے بعد سوشانت مشرا کی وکٹ بن گئے۔

فہد منیر پوری اننگز کے دوران مشکلات کا شکار نظر آئے اور 16 گیندیں کھیلنے کے باوجود کھاتا کھولنے کی زحمت کیے بغیر ہی روی بشنوئی کو وکٹ دے کر چلتے بنے۔

34 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد دوسرے اینڈ پر موجود حیدر علی کا ساتھ دینے کپتان روہیل نذیر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے اسکور کو بتدریج آگے بڑھانا شروع کیا۔

دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ کے لیے 62 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت ٹیم کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر پاتی، یشسوی جیسوال نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 56 رنز بنانے والے حیدر کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

مشکلات میں گھری پاکستانی ٹیم کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب قاسم اکرم وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں رن آؤٹ ہو کر پویلین واپسی پر مجبور ہو گئے۔

قاسم اکرم نے شاٹ کھیل کر رن لینے کی کوشش کی لیکن کپتان روہیل نذیر نے ابتدائی طور پر رن کے لیے آمادگی ظاہر کی اور پھر واپس مڑ گئے جس کے سبب دونوں ہی کھلاڑی ایک ہی اینڈ پر پہنچ گئے اور وکٹ کیپر دھروو جیورل نے باآسانی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو چوتھی کامیابی دلا دی۔

نئے بلے باز محمد حارث نے جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی اور 15 گیندوں پر 21 رنز بنا کر اسکور کو 146 تک پہنچا دیا لیکن ایک سوئپ شاٹ پر دیوینش سکسینا کے شاندار کیچ نے ان کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

بھارت کو اگلی وکٹ کے لیے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور کارتھک تیاگی نے 3 رنز بنانے والے عرفان خان کی وکٹیں بکھیر کر اپنی ٹیم کو چھٹی کامیابی دلائی۔

اگلے ہی اوور میں روی بشنوئی نے عباس آفریدی کو چلتا کردیا جنہیں وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار دیا گیا۔

یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے سبب پاکستان کی رنز بنانے کی رفتار انتہائی کم ہو گئی اور بڑا شاٹ مارنے کی کوشش میں کپتان روہیل نذیر بھی 62 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

کپتان کے آؤٹ ہونے کے بعد بھارت کو پاکستان کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری پاکستانی ٹیم 172رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

پاکستانی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری 6 وکٹیں صرف 26 رنز کے اضافے سے گریں جبکہ 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔

بھارت کی جانب سے سشانت مشرا 3 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ کارتھک تیاگی اور روی بشنوئی نے 2، 2 وکٹیں لیں۔

ہدف کے تعاقب میں بھارتی اوپنرز نے شاندار کھیل پیش کیا اور تمام باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے ہدف حاصل کر لیا۔

بھارتی اوپنرز نے تمام پاکستانی باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور 88 گیندوں قبل ہی بغیر کسی نقصان کے ہدف تک رسائی حاصل کر کے فائنل میں جگہ بنا لی۔

مین آف دی میچ جیسوال نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 105 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ سکسینا 59 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔