ہاروی وائنسٹن کے خلاف چھٹی اور آخری خاتون جیوری کے سامنے پیش

ای میل

فلم ساز نے 22 سال کی عمر میں نشانہ بنایا، لورین میری ینگ—فوٹو: اے پی
فلم ساز نے 22 سال کی عمر میں نشانہ بنایا، لورین میری ینگ—فوٹو: اے پی

بدنام زمانہ ہولی وڈ پروڈیوسر 67 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف نیویارک کی عدالت کی جانب سے قائم کی گئی جیوری کے سامنے چھٹی اور آخری خاتون بھی پیش ہوگئیں۔

گزشتہ ماہ جنوری میں نیویارک کی عدالت کی جانب سے ہاروی وائنسٹن کے خلاف ’ریپ، جنسی استحصال اور جنسی جرائم‘ کی سماعت کے لیے قائم کی گئی 12 رکنی جیوری میں اس سے قبل 5 خواتین پیش ہو چکی ہیں۔

12 رکنی جیوری نے سماعت کا آغاز 24 جنوری 2020 کو کیا تھا اور سب سے پہلے 59 سالہ اداکارہ اینابیلا شیورہ جیوری کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔

اینابیلا شیورہ نے جیوری کو بتایا تھا کہ کس طرح ہاروی وائنسٹن نے انہیں 25 سال قبل 1993 سے 1994 کے درمیان انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا۔

جیوری کے سامنے پہلی خاتون اینابیلا شیورہ 24 جنوری کو جیوری میں پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے ایف پی
جیوری کے سامنے پہلی خاتون اینابیلا شیورہ 24 جنوری کو جیوری میں پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے جیوری کو بتایا تھا کہ فلم پروڈیوسر نے انہیں 1993 یا 1994 میں اپنے فلیٹ پر چلنے کی دعوت دی اور جب وہ وہاں پہنچیں تو فلم ساز نے ان پر جنسی حملہ کرکے انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کے سامنے پہلی خاتون پیش

اینابیلا شیورہ کے بعد دوسری خاتون 42 سالہ مریم ہیلی 28 جنوری کو جیوری کے سامنے پیش ہوئی تھیں اور انہوں نے جیوری کو بتایا تھا کہ پہلی بار جولائی 2006 میں فلم پروڈیوسر نے انہیں منہٹن میں واقع اپنے فلیٹ میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

ماڈل و اداکارہ کا کہنا تھا کہ حیض کی حالت میں بھی فلم پروڈیوسر نے ان کا جنسی استحصال کیا اور ان کے ساتھ زبردستی کی اور وہ اس استحصال کو ’ریپ‘ ہی سمجھتی ہیں، اداکارہ جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے اشکبار ہوگئی تھیں اور بتایا تھا کہ دوسری ملاقات کے دوران بھی فلم پروڈیوسر نے ان کا استحصال کیا۔

جیوری کے سامنے دوسری خاتون 28 جنوری کو مریم ہیلی پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے پی
جیوری کے سامنے دوسری خاتون 28 جنوری کو مریم ہیلی پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے پی

جیوری کے سامنے مزید 2 خواتین ڈانس بار کی سابق ویٹر و ابھرتی ہوئی اداکارہ ڈان ڈننگ اور ماڈل و اداکارہ ترالے وولف 30 جنوری کو پیش ہوئیں اور دونوں نے جیوری کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق آگاہ کیا۔

دونوں خواتین نے جیوری کے سامنے اعتراف کیا کہ پہلی بار ہاروی وائنسٹن کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے باوجود وہ دوسری بار بھی ان سے ملیں اور دوسری بار بھی فلم پروڈیوسر نے ان کا جنسی استحصال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف دوسری خاتون بھی جیوری کے سامنے پیش

دونوں اداکاراؤں نے اعتراف کیا کہ جب ان کے ساتھ زیادتی کی گئی تب انہوں نے اس حوالے سے کسی کو کچھ نہیں بتایا

مذکورہ دونوں خواتین کے بعد پانچویں خاتون 34 سالہ جیسیکا مان یکم فروری کو جیوری کے سامنے پیش ہوئی تھیں۔

جیسیکا مان نے پروڈیوسر پر الزام لگاتے ہوئے جیوری کو بتایا تھا کہ 2013 میں انہوں نے مینہٹن کے ایک ہوٹل کے کمرے میں انہیں ریپ کا نشانہ بنایا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کی تشکیل 19 جنوری کو دی گئی تھی—فوٹو: اے پی
ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کی تشکیل 19 جنوری کو دی گئی تھی—فوٹو: اے پی

مذکورہ پانچوں خواتین کے بعد اب جیوری کے سامنے چھٹی اور آخری خاتون 30 سالہ ماڈل و ابھرتی ہوئی اداکارہ لورین میری ینگ بھی پیش ہوگئیں اور انہوں نے بھی جیوری کو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف مزید 2 خواتین جیوری کے سامنے پیش

خبر رساں ادارے ’ایسویسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق لورین میری ینگ نے جیوری کو بتایا کہ ہاروی وائنسٹن نے 8 سال قبل انہیں 22 سال کی عمر میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

ماڈل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہاروی وائنسٹن سے 2012 میں ایک ہوٹل میں ملاقات کی تھی جس دوران فلم ساز انہیں دیکھتے ہی متشدد ہوگئے اور ان پر جنسی حملہ کردیا۔

ڈان ڈننگ اور ترالے وولف جیوری کے سامنے 29 جنوری کو پیش ہوئی تھیں—فوٹو: نیو یارک ٹائمز/ شٹر اسٹاک
ڈان ڈننگ اور ترالے وولف جیوری کے سامنے 29 جنوری کو پیش ہوئی تھیں—فوٹو: نیو یارک ٹائمز/ شٹر اسٹاک

ماڈل کے مطابق وہ اس دن اپنا پسندیدہ لباس پہن کر فلم ساز سے ملنے گئی تھیں تاہم وہ جیسے ہی وہاں پہنچیں تو فلم ساز انہیں زبردستی ہوٹل کے واش روم میں لے گئے جہاں انہوں نے ان کا جنسی استحصال کیا۔

اداکارہ نے جیوری کو بتایا کہ فلم ساز نے انہیں بری طرح تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان کے جسم پر نشانات بھی بن گئے جس کے بعد ان کے دل میں فلم ساز کا خوف بیٹھ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف پانچویں خاتون جیوری کے سامنے پیش

ماڈل و اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کا جنسی استحصال کرتے وقت فلم ساز نے انہیں بتایا کہ وہ کیوں ڈر رہی ہیں، یہ تو کچھ بھی نہیں بڑی اداکارائیں بھی ان کے ساتھ یہ سب کر چکی ہیں۔

اس موقع پر ہاروی وائنسٹن نے ایک بار پھر ماڈل و اداکارہ لورین میری ینگ کے الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہر کام خواتین کی باہمی رضامندی سے کیا.

جیسیکا مان یکم فروری کو جیوری کے سامنے پیش ہوئیں — فوٹو: اے ایف پی
جیسیکا مان یکم فروری کو جیوری کے سامنے پیش ہوئیں — فوٹو: اے ایف پی

چھٹی خواتین کے بیان ریکارڈ کرائے جانے کے بعد جیوری نے سماعت ملتوی کردی اور اب خیال کیا جا رہا ہے کہ جیوری میں ہاروی وائنسٹن کے گواہاں پیش ہوں گے جس کے بعد جیوری آئندہ ماہ تک کیس کا فیصلہ سنائے گی۔

جیوری کے سامنے پیش ہونے والی 6 میں سے محض 2 خواتین کے مقدمات کے تحت ہاروی وائنسٹن کو سزا ہوگی کیوں کہ باقی 4 خواتین نے فلم ساز کے خلاف مذکورہ عدالت میں فوجداری مقدمات دائر نہیں کیے۔

تاہم جیوری کے سامنے پیش ہونے والی دیگر 4 میں سے ایک خاتون نے فلم ساز کے خلاف لاس اینجلس کی عدالت میں فوجداری مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور لاس اینجلس کی عدالت میں بھی ہاروی وائنسٹن کے خلاف مقدمہ زیر التوا ہے۔

لاس اینجلس اور نیوریاک کے علاوہ بھی ہاروی وائنسٹن کے خلاف دیگر امریکی عدالت میں کیسز زیر التوا ہیں اور مجموعی طور پر ان پر 80 سے زائد خواتین نے جنسی استحصال ریپ اور جنسی جرائم جیسے الزامات لگا رکھے ہیں۔

ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے 2017 میں خواتین نے جنسی ہراسانی اور ریپ کے الزامات لگائے تھے جس کے بعد دنیا بھر میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا اور ان کے خلاف تفتیش شروع کردی گئی تھی۔

اگر نیویارک کی عدالت میں ہاریو وائنسٹن پر الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں جیل اور جرمانے کی سزا ہوگی۔

ہاروی وائنسٹن پر مجموعی طور پر 80 سے زائد خواتین نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے
ہاروی وائنسٹن پر مجموعی طور پر 80 سے زائد خواتین نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے