ہاروی وائنسٹن کے خلاف دوسری خاتون بھی جیوری کے سامنے پیش

اپ ڈیٹ جنوری 30 2020

ای میل

مریم ہیلی نے پورے واقعے کو جیوری کے سامنے بیان کیا—فوٹو: اے ایف پی
مریم ہیلی نے پورے واقعے کو جیوری کے سامنے بیان کیا—فوٹو: اے ایف پی

امریکی شہر نیویارک کی عدالت نے رواں ماہ 19 جنوری کو ہولی وڈ پروڈیوسر 67 سالہ ہاروی وائنسٹن کے خلاف ’ریپ‘ اور خواتین کے جنسی استحصال کی سماعت کے لیے 12 رکنی جیوری کو منتخب کیا تھا۔

7 مرد اور 5 خواتین پر مشتمل جیوری ہاروی وائنسٹن کے خلاف ’ریپ‘ اور ’جنسی استحصال‘ کے الزامات لگانے والی خواتین سے جرح کے بعد فلم پروڈیوسر کے خلاف فیصلہ دے گی۔

عدالت نے مذکورہ جیوری اس وقت بنائی تھی جب ہاروی وائنسٹن نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جو بھی کیا وہ خواتین کی باہمی رضامندی سے کیا۔

عدالت میں فرد جرم کو تسلیم کرنے سے انکار کے بعد عدالت نے جیوری منتخب کرکے ان پر الزام لگانے والی خواتین سے جرح کرنے کا حکم دیا اور اس جیوری میں اب تک 2 خواتین پیش ہوچکی ہیں۔

جیوری کے سامنے پہلی خاتون 59 سالہ امریکی اداکارہ اینابیلا شیورہ 24 جنوری کو پیش ہوئی تھی جنہوں نے جیوری کو بتایا کہ کس طرح ہاروی وائنسٹن نے انہیں 25 سال قبل 1993 سے 1994 کے درمیان انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کی تشکیل 19 جنوری کو دی گئی تھی—فوٹو: اے پی
ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کی تشکیل 19 جنوری کو دی گئی تھی—فوٹو: اے پی

اینابیلا شیورہ کے بعد اب ہاروی وائنسٹن کے خلاف دوسری خاتون 42 سالہ اداکارہ و ماڈل مریم ہیلی بھی جیوری کے سامنے پیش ہوئیں اور وہ اپنے ساتھ ہونے والے ہولناک واقعے کو بیان کرتے ہوئے اشکبار ہوگئیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی امریکی ماڈل 42 سالہ مریم ہیلی نے جیوری کے سامنے 14 سال قبل 2006 میں پیش آنے والے واقعے کو بیان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے ’ریپ‘ ٹرائل کے لیے جیوری منتخب

مریم ہیلی نے جیوری کو بتایا کہ پہلی بار جولائی 2006 میں فلم پروڈیوسر نے انہیں منہٹن میں واقع اپنے فلیٹ میں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

ماڈل و اداکارہ کا کہنا تھا کہ حیض کی حالت میں بھی فلم پروڈیوسر نے ان کا جنسی استحصال کیا اور ان کے ساتھ زبردستی کی اور وہ اس استحصال کو ’ریپ‘ ہی سمجھتی ہیں۔

جیوری کے سامنے پہلی خاتون اینابیلا شیورہ پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے ایف پی
جیوری کے سامنے پہلی خاتون اینابیلا شیورہ پیش ہوئی تھیں—فوٹو: اے ایف پی

مریم ہیلی جیوری کے سامنے واقعے کو بیان کرتے وقت اشکبار بھی ہوگئیں جب کہ جیوری ارکان نے ان سے جرح بھی کی اور پوچھا کہ انہوں نے اس وقت اس عمل کے خلاف بات کیوں نہیں کی؟

جیوری ارکان کے سوال پر مریم ہیلی کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ہاروی وائنسٹن کی طاقت سے ڈر گئی تھیں جب کہ وہ اس وقت امریکا میں وزٹ ویزا پر تھیں اور انہیں فلم پروڈیوسر کے اثر و رسوخ کا اندازہ تھا۔

مریم ہیلی نے اعتراف کیا کہ ہاروی وائنسٹن کے جنسی استحصال پر بروقت نہ بولنا ان کی کمزوری ہے۔

مریم ہیلی نے جیوری کو بتایا کہ مذکورہ واقعے کے بعد وہ ایک بار پھر ہاروی وائنسٹن سے ان کی دعوت پر ان سے نیویارک کے ایک نجی ہوٹل میں ملیں جہاں ان کا ’ریپ‘ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف جیوری کے سامنے پہلی خاتون پیش

فن لینڈ نژاد ماڈل نے اعتراف کیا کہ ہاروی وائنسٹن کی جانب سے جنسی استحصال کے باوجود وہ فلم پروڈیوسر سے ملیں کیوں کہ انہیں ان کی ضرورت بھی تھی اور وہ کیریئر میں آگے بڑھنا چاہتی تھیں تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔

ماڈل کے مطابق اپنے فلیٹ میں جنسی استحصال اور نیویارک کے ہوٹل میں ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے کے بعد تیسری بار بھی وہ ہاروی وائنسٹن سے ایک نجی ہوٹل میں ملیں جہاں فلم پروڈیوسر اگرچہ ان کے ساتھ ادب سے پیش آئے تاہم انہیں پھنسانے کی کوشش کرتے رہے۔

مریم ہیلی کو جب نشانہ بنایا گیا اس وقت ان کی عمر 28 سال تھی—فوٹو: اے پی
مریم ہیلی کو جب نشانہ بنایا گیا اس وقت ان کی عمر 28 سال تھی—فوٹو: اے پی

ماڈل نے بتایا کہ تیسری ملاقات کے دوران ہاروی وائنسٹن نے انہیں پیرس ساتھ چلنے کا کہا مگر انہوں نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

جیوری ارکان نے ماڈل مریم ہیلی کے بیان کے دوران ان سے پوچھا کہ پہلی بار جنسی استحصال کے بعد دوسری بار فلم پروڈیوسر سے ملنے کے دوران کہیں انہیں فلم پروڈیوسر سے محبت تو نہیں ہوگئی تھی یا ان کے لیے جذبات دوسرے تو نہیں ہوگئے تھے؟

جیوری ارکان کے سوال پر مریم ہیلی نے فلم پروڈیوسر سے محبت یا ان کے لیے دوسرے جذبات رکھنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنی تذلیل کرنے والے شخص کے ساتھ کبھی بھی محبت نہیں کرسکتیں۔

مریم ہیلی کی جانب سے بیان دیے جانے کے وقت ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے جیوری کے سامنے دستاویزی ثبوت بھی رکھے جن کے مطابق فلم پروڈیوسر اور ماڈل کے درمیان تمام معاملات باہمی رضامندی سے ہوئے۔

ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے جیوری کو بتایا کہ ایک بار ماڈل کا ایک ماہ تک ہاروی وائنسٹن سے رابطہ نہیں ہو پایا تھا تو انہوں نے فلم پروڈیوسر کے عملے کو ای میل بھیجا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ فلم ساز کو بہت یاد کر رہی ہیں۔

مریم ہیلی جیوری ارکان کو تفصیل بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں—فوٹو: اے پی
مریم ہیلی جیوری ارکان کو تفصیل بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں—فوٹو: اے پی

خیال رہے کہ مریم ہیلی سے قبل 24 جنوری کو اسی جیوری کے سامنے 59 سالہ امریکی اداکارہ اینابیلا شیورہ بھی پیش ہوئی تھیں جنہوں نے جیوری کے سامنے اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو بیان کیا تھا۔

انہوں نے جیوری کو بتایا تھا کہ فلم پروڈیوسر نے انہیں 1993 یا 1994 میں اپنے فلیٹ پر چلنے کی دعوت دی اور جب وہ وہاں پہنچیں تو فلم ساز نے ان پر جنسی حملہ کرکے انہیں ’ریپ‘ کا نشانہ بنایا۔

اینابیلا شیورہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلم پروڈیوسر سے خود کو بچانے کی بہت کوشش کی تاہم وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور انہیں گراکر انہوں نے ان کے ساتھ زبردستی کی۔

اینابیلا شیورہ اور مریم ہیلی کے بعد اب مذکورہ جیوری میں تیسری خاتون آئندہ ہفتے تک پیش ہوں گی اور مجموعی طور پر فلم ساز کے خلاف جیوری کے سامنے 6 خواتین پیش ہوں گی۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف مذکورہ جیوری کے سامنے باقی امریکی میک اپ آرٹسٹ، ہیئر ڈریسر و اداکارہ جیسیکا من، اداکارہ و ماڈل ڈان ڈننگ، ماڈل ترالے وولف اور اداکارہ و ماڈل لورین ینگ پیش ہوں گی۔

جیوری کے سامنے پیش ہونے والی تمام 6 خواتین میں سے اگر ہاروی وائنسٹن پر کسی بھی خاتون کے ساتھ جنسی استحصال یا ’ریپ‘ کا جرم ثابت ہوگیا تو انہیں قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے اور انہیں 28 سال قید سمیت لاکھوں ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے۔

اس اہم ترین کیس سمیت ہاروی وائنسٹن کے خلاف نیویارک، لاس اینجلس اور منہٹن کی عدالتوں سمیت دیگر عدالتوں میں بھی ان کے خلاف کیسز زیر سماعت ہیں اور ان پر 80 سے زائد خواتین نے جنسی استحصال، ریپ اور جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔

ہاروی وائنسٹن پر ابتدائی طور پر 2017 میں خواتین سامنے آئی تھیں اور ان کے اوپر الزام لگائے جانے کے بعد ہی دنیا بھر میں ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔

ہاروی وائنسٹن پر مجموعی طور پر 80 سے زائد خواتین نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے
ہاروی وائنسٹن پر مجموعی طور پر 80 سے زائد خواتین نے الزامات لگا رکھے ہیں—فوٹو: یو ایس ٹوڈے