ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ اور نیب کے درمیان متاثرین کو رقم کی واپسی کیلئے مذاکرات جاری

اپ ڈیٹ فروری 07 2020

ای میل

دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا — فائل فوٹو: ڈان
دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا — فائل فوٹو: ڈان

قومی احتساب بیورو (نیب) اور پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے درمیان فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی (ایف ایچ ایس کے) کے متاثرین سے وصول کی گئی رقم واپس دینے سے متعلق مذاکرات جاری ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بیان تفتیشی افسر اسلم پرویز ابڑو نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں 18 ارب روپے کی مبینہ فراڈ سے متعلق احتساب عدالتوں کے ایڈمنسٹریٹو جج فرید انور قاضی کو جمع کروائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر حراست ملزمان میکسم پراپرٹیز کے تنویر احمد اور بلال نے فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کے نام پر عوام کو دھوکا دیا اور الزام لگایا تھا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا آغاز غیر قانونی طور پر پاک فضائیہ کے اشتراک سے 2015 میں کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہاؤسنگ اسکیم: پاک فضائیہ کی نیب کو 5700 متاثرین کی شکایات کے ازالے کی پیشکش

اس میں مزید کہا گیا کہ پاک فضائیہ نے پہلے ہی نیب میں متاثرین کی رقم کی واپسی کے لیے درخواست جمع کروائی تھی اور تمام واجبات کی ادائیگی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور اس میں شامل پی اے ایف کے تمام افسران کو دوبارہ نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ ’پاک فضائیہ نے اپنے ملازمین کو یونٹس فروخت کیے ہیں، تنویر احمد اور بلال عام لوگوں کو ہاؤسنگ یونٹس فروخت کرنے کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے 18 ارب روپے جمع کیے‘۔

مشتبہ ملزمان کے دفاعی وکیل روی پنجانی نے کہا کہ نیب صرف ان کے موکلوں کو نشانہ بنارہا ہے جبکہ اس فراڈ میں ملوث دیگر افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

سماعت کے دوران اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر شہباز سہوترا نے عدالت میں کچھ دستاویز پیش کیں اور آگاہ کیا کہ نیب اور فضائیہ حکام کے دوران متاثرین کو رقم کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی کے لیے خط و کتابت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہدا کیلئے منظور فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم میں اربوں روپے کا فراڈ ہوا، نیب

رپورٹ میں تفتیشی افسر نے کہا کہ دونوں بلڈرز نے اب تک فضائیہ ہاؤسنگ اسکیم کراچی کی زمین پر تعمیر کیے جانے والے گھروں کی تعداد کا تعین نہیں کیا تھا، انہوں نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے عوام کو ہاوسنگ سوسائٹی کی ممبرشپ کی طرف لے جانے کے لیے اشتہاری مہم چلائی تھی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ایف ایچ ایس کے کسی حکومتی ایجنسی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں لیکن بلڈرز نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک لاکھ 60 ہزار فارمز فی کس ایک ہزار روپے یا اس سے زائد میں فروخت کیے تھے۔

بلڈرز نے رجسٹریشن کے وقت قابلِ واپسی رقم کے طور پر لوگوں سے غیر منصفانہ طور پر ایک ارب 54 کروڑ 88 لاکھ 70 ہزار روپے لیے اور اب تک بینک سے منافع حاصل کررہے تھے لیکن 40 کروڑ 20 لاکھ 80 ہزار روپے واپس کرنے میں ناکام ہوئے تھے۔