مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

اپ ڈیٹ 08 فروری 2020

ای میل

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مریم نواز کی درخواست کی سماعت کے لیے نیا 2 رکنی بینچ تشکیل دے دیا— فائل فوٹو: عدنان شیخ
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مریم نواز کی درخواست کی سماعت کے لیے نیا 2 رکنی بینچ تشکیل دے دیا— فائل فوٹو: عدنان شیخ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوگیا۔

تاہم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کے بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے درخواست کی سماعت کے لیے نیا 2 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی ہوں گے جبکہ جسٹس طارق سلیم شیخ بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ مریم نواز کی درخواست پر ابتدائی سماعت جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں بینچ نے کی تھی۔

مزید پڑھیں: حکومت پنجاب نواز شریف کی طبی رپورٹس سے غیر مطمئن

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں قائم بینچ کے تحلیل ہونے کی وجہ سے کیس دوسرے بینچ کو منتقل ہوگیا تھا تاہم بعد ازاں اس بینچ کے بھی تحلیل ہونے کے بعد یہ بینچ واپس جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں تشکیل دے دیا گیا۔

خیال رہے کہ نیب نے نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس فائل کرتے ہوئے ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے تھے۔

بعدازاں طبی بنیادوں پر نواز شریف کو گزشتہ سال نومبر میں بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی تھی لیکن ای سی ایل میں نام شامل ہونے کے سبب مریم نواز ان کے ہمراہ نہیں جا سکی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ سال نومبر میں چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو ضمانت دے دی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ عدالت میں اپنا پاسپورٹ جمع کرائیں گی۔

9 دسمبر کو مریم نواز نے ای سی ایل سے نام نکالنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے حکومت کو معاملے پر 7 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

حکومت کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر انہوں نے 21 دسمبر کو ایک اور درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ انہیں 6ہفتوں کے لیے ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

مریم نواز نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنے بیمار والد کی تیمارداری کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی ہیں۔

البتہ دسمبر کے مہینے میں ہی وفاقی کابینہ نے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس فیصلے سے مریم نواز کو آگاہ کردیا تھا۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ نیب نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کو دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرلیا تھا۔

مریم نواز کی درخواست

خیال رہے کہ ہفتہ 7 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر 6 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مریم نواز نے امجد پرویز ایڈووکیٹ کے توسط سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں وزارت داخلہ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین اور ڈی جی نیب لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں مریم نواز کی جانب سے موقف اپنایا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے باوجود بیمار والدہ کو چھوڑ کر بیرون ملک سے والد کے ساتھ واپس آئی لیکن میرا موقف سنے بغیر ہی نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام شامل کرنے کا میمورنڈرم غیر قانونی اور آئین کی خلاف ورزی ہے جبکہ نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا میمورنڈم اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا علاج مریم کے نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، شہباز شریف

مریم نواز نے موقف اپنایا تھا کہ والدہ کی وفات کے بعد والد نواز شریف کی دیکھ بھال وہ ہی کرتی رہی ہیں اور وہ بیماری میں مجھ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں مریم نواز نے پاسپورٹ واپس لینے کے لیے بھی لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی۔

نواز شریف کی صحت اور بیرونِ ملک قیام

یاد رہے کہ گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے سبب تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

مقامی طور پر مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

جس پر سابق وزیراعظم 19 نومبر کو اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ، حکومت سے جواب طلب

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

تاہم لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں نواز شریف کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا جس پر صوبائی حکومت متعدد مرتبہ ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کی تھی۔

چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو لندن میں نواز شریف کے پاس آنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے پہلے سے طے شدہ ان کے علاج کی تاریخ کو دو مرتبہ تبدیل کیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے مریم نواز کو اپنے والد کی دیکھ بھال کی اجازت نہیں دی گئی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو ان کے والد کے پاس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے'۔