کشمیر میں بی جے پی کی پریشانی قریب آگئی؟

10 فروری 2020

ای میل

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، 1951ء میں وجود میں آنے والے اس کے سیاسی حلقے جنا سنگھ اور اس کی جانشیں یعنی موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گزشتہ 70 برسوں سے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کی ’منسوخی‘ کے لیے شور مچاتے رہے۔

وہ آئین سے اس آرٹیکل کے خاتمے سے کم پر کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں تھے۔ کشمیر کو خودمختار حیثیت دینے کے لیے مرتب کردہ اس شق کے شریک خالق جواہر لال نہرو نے 1964ء میں اپنی موت سے پہلے تک آرٹیکل 370 کو برائے نام قانون تک محدود کردیا تھا۔

1949ء میں آئین ساز اسمبلی کا اختیار کردہ آرٹیکل 370 کوئی عام قانون نہیں تھا۔ یہ آرٹیکل ایک طرف 1949ء میں مئی سے اکتوبر یعنی 5 ماہ تک وزیرِاعظم نہرو اور ان کے نائب ولبھ بھائی پٹیل اور دوسری طرف کشمیر کے وزیرِاعظم شیخ محمد عبداللہ اور ان کے بااعتماد ساتھی اور ممتاز وکیل مرزا محمد افضل بیگ کے مابین مذاکراتی عمل کے ذریعے طے پانے والے آپسی سمجھوتے کا پیش خیمہ تھا۔

مگر 5 اگست 2019ء کو وزیرِاعظم نریندر مودی نے جو اقدام اٹھایا وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی تک ہی محدود نہیں بلکہ کشمیر کی آئینی اور سیاسی تباہی کے مترادف ہے۔

اس منسوخی نے نہ صرف کشمیر سے اس کی خودمختار حیثیت چھین کر اسے ’یونین ٹیریٹری‘ کا حصہ بنا دیا بلکہ وادئ کے پورے سیاسی منظرنامے کو بُری طرح سے بدل رکھ دیا گیا۔

کشمیر میں نئی حلقہ بندیوں، وہاں کی 2 اہم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں اختلافات پیدا کرنے کی سازشوں، بی جے پی کے خوشامدیوں اور اس کی جی حضوری کرنے والوں پر مشتمل ایک نئے سیاسی محاذ کے قیام اور جموں کو برتری دینے پر زور و شور سے کام جاری ہیں۔

بی جے پی کے خوشامدی ٹولے میں پی ڈی پی کے 2 سینئر رہنما بھی شامل ہیں جبکہ کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو جیل میں بند کردیا گیا تھا۔ یہ ساری مشق اس اندازے پر کی گئی کہ کشمیر کے رہنما، پریس اور سیاسی طبقہ بی جے پی کے منصوبوں پر سرخم تسلیم کرلیں گے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر پوری وادئ کشمیر میں خوف و ہراس سے بھرا ماحول پیدا کیا گیا۔

بی جے پی کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ بالآخر کشمیر میں سارے لوگ ان کے عزائم کے آگے جھک جائیں گے اور ہار جائیں گے۔ بی جے پی کے اس اندازے کی بھرپور عکاسی کشمیریوں کے بارے میں اس کے رہنماؤں کی کمزور رائے کرتی ہے۔

سیاستدانوں کو اس لیے جیل میں بند نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کوئی جرم کرنے جا رہے تھے بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ انہیں اس خوف کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا کہ کہیں وہ بی جے پی حکومت کی اس بدنیت اسکیم کو مسترد نہ کردیں اور عوام کو بھی اپنی اس رائے کا ساتھی منا لیں۔ وہ کسی بھی طور پر دہشتگرد نہیں تھے۔

پی ڈی پی اور این سی کے رہنما جب کشمیر میں بطور وزیراعلیٰ صاحبِ اقتدار تھے تو اس وقت انہوں نے مسلح بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دہلی کی سرکار کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ دراصل بی جے پی کی اس اسکیم کو جب عوام اور دیگر تمام حلقوں نے مسترد کردیا تو حکمراں جماعت ان سیاسی قوتوں کو سیاسی سرگرمی سے جبری طور پر دُور کرنے پر مجبور ہوگئی۔

آخر یہ استحصال و ظلم کا نظام کب تک رائج رہ سکتا ہے؟ کب تک ان سیاسی رہنماؤں کو حراست میں رکھا جاسکتا ہے؟ حکمرانوں کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات اپنے قیدیوں کے کانوں تک پہنچا ہی دیتے ہیں۔ قریب 2 دہائیوں پہلے نئی دہلی نے اسی طریقے کو اپناتے ہوئے جیل میں بند حریت رہنماؤں کے درمیان اختلافات پیدا کردیے تھے۔ مگر اس بار معاملہ یکسر مختلف ہے۔

کشمیریوں کو کہا جارہا ہے کہ وہ جدوجہد سے بھرپور ماضی، عظیم ثقافت اور 1586ء میں مغل شہنشاہ اکبر کے آزاد کشمیر پر قبضے کے بعد سے شروع ہونے والی صدیوں پرانی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ سمیت اس قدیم تاریخی سرزمین کی سیاسی شناخت کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔

کشمیریوں نے نہ تو کبھی اپنی تاریخ کو مسخ کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کریں گے۔ بی جے پی نے جو حربہ استعمال کیا ہے وہ کلونیل دور کا خاصہ ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ، 1898ء خود اپنے اندر ایک غیر شفاف ماضی سموئے ہوئے ہے۔ اگرچہ 1973ء میں اس کے اندر ’تبدیلی‘ کی گئی تھی لیکن نیا کوڈ بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔

دفعہ 107 کے مطابق: جب کسی ایگزیکیٹو مجسٹریٹ کو یہ اطلاع موصول ہو کہ کوئی شخص نقص امن یا عوامی سکون کو خراب کرنے کے درپے ہے یا پھر ایسا کوئی اقدام اٹھانے جا رہا ہے جس کے باعث مذکورہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں اور مجسٹریٹ کے خیال میں اگر اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گنجائش نکلتی ہے تو وہ اس شخص کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے پُرامن رہنے کی یقین دہانی کے عوض مچلکے جمع کروانے کا حکم دے سکتا ہے۔

دفعہ 151 کے مطابق: اگر کسی پولیس افسر کو یہ پتا چلتا ہے کہ کوئی شخص کسی جرم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اگر افسر یہ محسوس کرتا ہے کہ جرم کو روکنے کے لیے سوائے اس شخص کی گرفتاری کے اور کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ مجسٹریٹ کے احکامات اور وارنٹ کے بغیر اس شخص کو حراست میں لے سکتا۔

5 فروری کو حراست میں لیے جانے والے افراد کی گرفتاری کو 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ وہ مچلکوں پر دستخط کرنے سے انکاری ہیں۔ ایک افسر نے دی ٹربیون کو بتایا کہ حکومت اب صرف مشاورتی بورڈ کی سفارش کے بعد ہی 6 فروری کے بعد انہیں حراست میں رکھنے کی مجاز ہے۔ جموں و کشمیر کی حکومت نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 107 کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مجسٹریٹوں کے ذریعے تقریباً 6 ہزار سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہوا ہے۔‘

3 سابق وزرائے اعلیٰ سمیت تقریباً ایک ہزار افراد کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفع 107 اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اب بھی قید ہیں۔

ایک پولیس افسر کے مطابق اگر پولیس سیاسی رہنماؤں یا دیگر افراد کو دفعہ 151 کے تحت حراست میں لیتی تو ان سب کو ضمانت پر رہائی مل جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی راج کے قانون کی دفع 107 ایسے وقت میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔

کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا حصہ، سازشیں عوامی رائے کو زیر نہیں کرسکتیں۔ شہریت ترمیمی ایکٹ جیسا بدنیت قانون اور 5 اگست 2019ء کی اسکیم مودی حکومت کے لیے اپنے ہاتھوں سے کھودا ہوا گڑھا ثابت ہوگی۔


یہ مضمون 8 فروری 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔