توانائی پالیسی میں ہر سطح پر لاگت وصول کرنے کی تجویز

اپ ڈیٹ 10 فروری 2020

ای میل

مسودہ منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا —تصویر: اے ایف پی
مسودہ منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا —تصویر: اے ایف پی

اسلام آباد: حکومت نے نیشنل الیکٹرک سٹی پالیسی 2020 کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مقصد ہر سطح پر مکمل لاگت کی وصولی کے ذریعے توانائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ’متوازن ترقی‘ اور تمام درآمدی ایندھن کے استعمال کو بتدریج ختم کرنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پالیسی کا مسودہ منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

مسودے میں اس بات پر بھی غور کیا گیا ہے کہ ’شعبہ توانائی کے جو واجبات، صوبوں اور ان کے محکموں پر واجب الادا ہیں انہیں محکمے کے بجٹ اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے خودکار طریقے سے ایڈجسٹ کرنے پر اتفاق کیا جائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے نیا ٹیرف پلان متعارف کروانے کا امکان

اس پالیسی کے تحت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) بجلی کے شعبے کی لیکویڈٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ ایسے منصوبوں میں سہولت کاری فراہم کرے گی جس کے لیے حکومت اضافی سرچارج عائد کرسکتی ہے اور انہیں تقسیم کار کمپنیوں یا بجلی فراہم کرنے والوں کے اخراجات کے طور پر سمجھا جائے گا۔

ڈان کی جانب سے دیکھے گئے دستاویزات کے مطابق ’یہ اضافی چارجز استحکام، لیکویڈیٹی اور تجارتی عملداری، صارفین کی قوت خرید اور یکساں ٹیرف کی پالیسی کے زمرے میں لگائے جاسکتے ہیں‘۔

فوری اقدام کے طور پر انٹیگریٹڈ جینریشن کپیسٹی ایکسپنشن پلان (آئی جی سی ای پی) وہ رہنما دستاویز ہے جسے ریگولیٹر سے منظور کروانا ہے اور اس کے بعد ترسیلی نظام کی توسیع (ٹی ایس ای پی) کا نیا منصوبہ پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: توانائی کے شعبے کو مستحکم نظام، سستی بجلی کی پیداوار جیسے چیلنجز کا سامنا

آئی جی سی ای پی اور ٹی ایس ای پی پر تمام اسٹیک ہولڈز عمل کریں گے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ون ونڈو سہولت قائم کی جائے گی اور منصوبوں کو سالانہ بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

یہ نئی پالیسی بغیر کسی امتیاز کے تمام شرکا کی مارکیٹ تک رسائی اور مسابقتی انتظامات کو فروغ دے کر ہول سیل مارکیٹ کا اعلیٰ مراحل میں جائزہ یقینی بنائے گی۔