چین میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کا معاملہ: ریاست اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے، عدالت

11 فروری 2020

ای میل

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ —فائل فوٹو: ڈان
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ —فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چین میں پھنسے پاکستانی خاص طور پر طلبہ کی واپسی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت چاہتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے۔

عدالت عالیہ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق میاں فیصل ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ پاکستان اپنے شہریوں کو چین سے واپس کیوں نہیں لارہا؟ بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک اپنے شہریوں کو وہاں سے نکال رہے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ بنگلہ دیش اپنے شہریوں کو نکال سکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتا، اس پر وزارت صحت کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو الگ کیا جائے۔

مزید پڑھیں: چین سے شہریوں کی واپسی کے لیے تمام آپشنز زیر غور ہیں، ظفر مرزا

وزارت صحت کے نمائندے نے بتایا کہ ویکسین ابھی تک نہیں لائی گئی ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارا سوال ہے کہ صرف ہم اپنے شہریوں کو کیوں نہیں نکال رہے، آپ اپنے شہریوں کو وہاں سے نکال کر کسی اور جگہ رکھ لیں۔

اس دوران حکومتی نمائندے نے بتایا کہ 194 ممالک میں سے صرف 23 ممالک نے شہریوں کو نکالا ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 23 ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ کرنے کے انتظامات کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں؟

سماعت کے دوران وزارت خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ووہان کو چینی حکومت نے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے، ووہان شہر میں ایک ہزار پاکستانی شہری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی وزیرخارجہ نے شاہ محمود قریشی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستانیوں کا خیال رکھا جائے گا، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا باقی ممالک نے اپنے شہریوں کو ووہان سے نہیں نکالا۔

عدالتی استفسار پر نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ دوسرے ممالک نے اپنے شہریوں کو ووہان سے نکالا ہے۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ شہریوں کو نکالا تو کسی ملک سے تعلقات خراب ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں پر پھنسے ہمارے شہری ہیں، یہ کوئی وضاحت نہیں کہ شہریوں کو نکالا تو کسی ملک سے تعلقات خراب ہو جائیں گے، پاکستانی شہریوں کو واپس لائیں۔

سماعت کے دوران وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے اپنے شہریوں کو واپس نکالنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے، بھارت نے کچھ لوگ نکالے ہیں تاہم ان کے لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، پاکستانی وزارت خارجہ اس صورتحال کو مانیٹر کررہی ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ملک اور طلبہ کے مفاد میں ہوگا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ریاست پاکستان بیان حلفی دے گی کہ شہریوں کو نہ نکالنے کی وجہ سے کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں چاہتے وہ وائرس یہاں منتقل ہو بلکہ چاہتے ہیں کہ وزارت خارجہ بہترین انداز میں مسئلہ حل کرے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میں اور آپ اس کے ماہر نہیں ہے تاہم عدالت چاہتی ہے کہ پاکستانیوں کے تحفظ کویقینی بنایا جائے، چین میں پھنسے پاکستانیوں سے متعلق فیصلہ کرنا وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے، اس پر نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم نے چینی حکومت سے کہا تھا کہ ہمارے سفیر کو ووہان شہر جانے کی اجازت دی جائے، تاہم چینی حکومت کا جواب تھا وہ کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے۔

اس پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی ذمہ داری لے، عدالت کسی قسم کا حکم نامہ جاری نہیں کرے گی لیکن جو کرنا ہے وہ وزارت خارجہ کو کرنا ہے۔

خیال رہے کہ چین میں مہلک کورونا وائرس کے وار سے اب تک 900 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار کے قریب اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کے صوبے ہوبے کے شہروں کا لاک ڈاؤن اور ملک سے زمینی و فضائی روابط منقطع کردیے گئے تھے جبکہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت بھی روک دی گئی.

اس کے علاوہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے تھے تاہم پاکستان نے وہاں سے پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم گزشتہ دنوں حکومت پر پڑنے والے دباؤ کے باعث معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ اس حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں اور جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس پھیلانے والے ممکنہ جاندار کا نام سامنے آگیا

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔