ایرانی میزائلوں سے متاثرہ امریکی فوجیوں کی تعداد 109ہو گئی، پینٹاگون

اپ ڈیٹ 11 فروری 2020

ای میل

ایران نے گزشتہ ماہ امریکی فوجی اڈے پر بلیسٹک میزائل کا حملہ کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے پی
ایران نے گزشتہ ماہ امریکی فوجی اڈے پر بلیسٹک میزائل کا حملہ کردیا تھا—فائل/فوٹو:اے پی

امریکی حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ عراق میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں ہونے والے ایران کے میزائل حملے میں متاثر ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 109 ہوگئی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ عراق میں ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں دماغی چوٹوں سے متاثر ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اب تک مجموعی تعداد 109 تک پہنچ چکی ہے جن کا علاج کیا گیا اور 64 اہلکاروں میں گزشتہ ہفتے علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے 8 جنوری کو عراق میں الاسد ایئر بیس پر ایرانی حملے سے متاثر ہونے والے فوجیوں کی تعداد جاری کیے جانے کے بعد اس میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں:ایرانی میزائل حملوں میں 34 فوجیوں کو دماغی چوٹ لگی ہے، پینٹاگون

پینٹاگون حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس تعداد میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ فوجیوں میں سے 76 اہلکار طبی امداد کے بعد واپس ڈیوٹی پر پہنچ گئے ہیں جبکہ 26 اہلکار امریکا یا جرمنی میں زیر علاج ہیں۔

متاثرہ فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عراق سے 7 اہلکاروں کو علاج کے لیے جرمنی بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی ڈیفنس سیکریٹری مارک ایسپر نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ ڈپارٹمنٹ جنگ کے میان میں ذہنی چوٹوں سے بچنے، تشخیص اور علاج کے لیے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ چند کیسز میں ایرانی میزائل حملوں سے متاثرہ فوجیوں میں علامات ایک یا دو سال تک ظاہر نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج اپنے سپاہیوں میں اس کی تشخیص اور علاج کے لیے پہلے مرحلے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری ایلیسا فراہ نے طبی ماہرین کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسی خدمات انجام دی ہیں جس کے نتیجے میں 70 فیصد کیسز میں اہلکار ٹھیک ہوگئے اور واپس ڈیوٹی پر جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جسمانی اور ذہنی صحت دونوں سطح پر مسائل کا حل مل کر نکالنا ہوگا۔

یاد رہے کہ پینٹاگون نے 25 جنوری کو پہلی مرتبہ تسلیم کیا تھا کہ ایران کے میزائل حملوں کے نتیجے میں 34 فوجیوں کو دماغی چوٹیں لگی ہیں جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل 11 اہلکاروں کے متاثر ہونے کی خبر دی تھی۔

پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوف مین نے صحافیوں کو بتایا کہ زخموں کا شکار ہونے والے 17 فوجی صحت یاب ہو کر پہلے ہی عراق میں واپس اپنی ڈیوٹی پر آگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 اہلکاروں کو جرمنی منتقل کیا گیا تھا جنہیں اب امریکا لایا گیا ہے اور ان کو والٹر ریڈ ملٹری ہسپتال یا گھروں میں علاج کی سہولت دی جائے گی۔

ہوف مین نے بیان میں کہا تھا کہ فوجی اہلکاروں کا جزوقتی مریضوں کے طور پر علاج کیا جارہا ہے اور ان کو امریکا واپس لایا گیا تھا، 9 اہلکار اب بھی جرمنی میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو سر درد، چکر، روشنی سے حساسیت اور متلی کی شکایات ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا نے 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ کے قریب ایک فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی پیراملٹری کمانڈر اور دیگر 9 افراد کے ہمراہ نشانہ بنایا تھا جبکہ ایران نے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے جوابی وار کرتے ہوئے اربیل اور عین الاسد ایئربیس پر دو فوجی اڈوں پر 15 بلیسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔

ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک ہوئے اور کوئی میزائل روکا نہیں جاسکا۔

مزید پڑھیں:عراق: امریکی فوج کے انخلا کیلئے ہزاروں افراد کا مظاہرہ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی ہیلی کاپٹرز اور فوجی ساز و سامان کو بھی ’سخت نقصان‘ پہنچا ہے۔

دوسری جانب امریکی اور عراقی حکام نے کہا تھا کہ عمارتوں کی تلاشی جاری ہے تاہم ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوف مین نے فوری ردعمل میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق میں عین الاسد فضائی اڈے اور ایربیل میں ایک اور اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ہم نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’جیسے ہی صورت حال اور نقصانات کا اندازہ ہوگا اسی کے مطابق خطے میں موجود امریکی اہلکاروں، اتحادیوں اور شراکت داروں کا دفاع اور حفاظت کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کیے جائیں گے‘۔