سینیٹ سے انسدادِ منی لانڈرنگ سمیت دو بل منظور

اپ ڈیٹ 12 فروری 2020

ای میل

سینیٹ میں غیر ملکی زرمبادلہ کی ریگولیشن کا بل بھی منظور کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
سینیٹ میں غیر ملکی زرمبادلہ کی ریگولیشن کا بل بھی منظور کیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سینیٹ نے ترمیم کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور غیر ملکی زرمبادلہ کی ریگولیشن کے بلز کو منظور کرلیا۔

واضح رہے کہ یہ دونوں بلز قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور کیے جاچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں بلز کا مقصد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پر پورا اترنا ہے اور انہیں اب ایوان بالا کی تجویز کردہ ترمیم پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس قومی اسمبلی بھیجا جائے گا۔

جون 2018 سے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے، یہ کیٹیگری ان ممالک کے لیے ہے جن کا میکانزم منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے سے قاصر ہے۔

16 فروری کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کے حوالے سے نظر ثانی کی جائے گی جبکہ امکان یہی ہے کہ پاکستان کو فی الحال آئندہ چند ماہ تک گرے لسٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کو ناقابل ضمانت جرم بنائے جانے کا امکان

قومی اسمبلی سے منظور شدہ اینٹی منی لانڈرنگ بل تحقیقاتی افسروں کو منی لانڈرنگ کے مشتبہ افراد کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کرنے کا اختیار دیتا تھا تاہم سینیٹ کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کردیا گیا۔

ایک اور ترمیم کے تحت منی لانڈرنگ کو جرم قرار دینے کی پیشکش کی شق کو نکالنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

سینیٹ نے جرمانے میں اضافے کی منظوری دی اور قید کی حد میں تبدیلیوں کی بھی منظوری دی۔

اس بل کے ایکٹ بننے کے بعد منی لانڈرنگ کے مرتکب افراد کو ایک سے 10 سال تک قید کی سزا ہوگی جبکہ جرمانہ بھی 10 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک بڑھ جائے گا۔

ایک اور ترمیم کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا فنانشل مینجمنٹ یونٹ (ایف ایم یو) فوری طور پر منی لانڈرنگ کے بارے میں معلومات کو 'ضروری انتظامی عمل' کا انتظار کرنے کے بجائے دائرہ کار میں آنے والے غیر ملکی اداروں کو فراہم کرنے کا پابند ہوگا، اسی طرح بینک 7 دن کے اندر مشکوک لین دین کی فوری طور پر اطلاع دینے کے پابند ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ پر سزا میں اضافے کا بل قائمہ کمیٹی نے منظور کرلیا

اس ترمیمی بل میں تفتیشی افسران کو یہ اختیار دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ وہ منی لانڈرنگ میں ملوث املاک کو موجودہ 3 ماہ کی مدت کے مقابلے میں چھ ماہ سے منسلک کرے۔

بینک مشکوک لین دین کی رپورٹس درج کرنے کے پابند ہوں گے اور ایسا نہ کرنے پر متعلقہ افراد کو 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

سینیٹ نے فی فرد غیر ملکی کرنسی کی اندرون ملک نقل و حرکت کو صرف 10 ہزار ڈالر تک محدود رکھنے کی تجویز کو چھوڑ کر حکومت کی جانب سے غیر ملکی زرمبادلہ ریگولیشنز ایکٹ 1947 میں پیش کردہ بیشتر ترامیم کی منظوری دے دی۔