عدالت نے میشا شفیع کے 2 ارب ہرجانے کے کیس کی سماعت روک دی

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف دعویٰ دائر کر رکھے ہیں—فوٹو: انسٹاگرام/ فیس بک
دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف دعویٰ دائر کر رکھے ہیں—فوٹو: انسٹاگرام/ فیس بک

لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے اداکار علی ظفر کے خلاف دائر کیے گئے 2 ارب روپے کے ہرجانے کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور عدالت نے کیس کی سماعت روک دی۔

میشا شفیع نے ستمبر 2019 میں لاہور کی سیشن کورٹ میں علی ظفر کے خلاف جھوٹ بولنے اور میڈیا میں بیان بازی کرنے کے الزامات پر 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

میشا شفیع نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ علی ظفر کے جھوٹے الزامات کی وجہ سے ان کی ساکھ اور شخصیت متاثر ہوئی ہے کیوں کہ علی ظفر نے میڈیا پر کہا تھا کہ میشا شفیع نے ان پر پیسوں کی لالچ میں جنسی ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا۔

میشا شفیع نے درخواست میں یہ بھی لکھا تھا کہ علی ظفر کے بیانات کی وجہ سے انہیں ذہنی طور پر پریشانی ہوئیں، اس لیے گلوکار کو 2 ارب روپے ہرجانا ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

میشا شفیع کی جانب سے 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیے جانے پر علی ظفر نے عدالت میں مذکورہ کیس کی سماعت روکنے کے لیے درخواست دائر کی تھی اور عدالت سے استدعا کی تھی کہ پہلے ان کی درخواست پر فیصلہ سنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: میشا شفیع نے علی ظفر کو 200 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا

مذکورہ عدالت میں علی ظفر نے پہلے ہی میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے جس کی درجنوں سماعتیں ہو چکی ہیں اور علی ظفر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ پہلے ان کے دائر کردہ کیس پر فیصلہ سنایا جائے اور اس کے بعد میشا شفیع کا کیس سنا جائے۔

ابتدائی طور پر میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
ابتدائی طور پر میشا شفیع نے اپریل 2018 میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

علی ظفر کی درخواست پر عدالت میں گزشتہ ایک ہفتوں سے سماعتیں جاری تھیں اور عدالت میں میشا شفیع اور علی ظفر کے وکلا نے دلائل دیے جس کے بعد 13 فروری کو عدالت نے علی ظفر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے میشا شفیع کے دائر کردہ کیس کی سماعت روک دی تھی۔

ایڈیشنل سیشن جج امجد علی شاہ نے گلوکار علی ظفر کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ پہلے علی ظفر کے ایک ارب ہرجانے کے کیس کی سماعت مکمل ہوگی۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ علی ظفر کے ہتک عزت کے کیس کا فیصلہ ہونے تک مشیا شفیع کی درخواست پر سماعت نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: میشا شفیع نے بھی علی ظفر کے خلاف 2 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا

خیال رہے کہ اسی عدالت میں علی ظفر کے ایک ارب روپے کے ہرجانے کے کیس میں اب میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات قلمبند ہوں گے جس کے بعد ان سے جرح کی جائے گی۔

میشا شفیع اور ان کی والدہ صبا حمید عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروا چکی ہیں جب کہ ان سے قبل علی ظفر اور ان کے 11 گواہوں نے بیانات قلمبند کروائے تھے جن پر جرح بھی مکمل ہوچکی ہے۔

دونوں ماضی میں انتہائی قریب رہ چکے ہیں—فوٹو: ٹوئٹر
دونوں ماضی میں انتہائی قریب رہ چکے ہیں—فوٹو: ٹوئٹر

مذکورہ کیس 2018 سے سیشن کورٹ میں جاری ہے اور اس کیس کے دوران ایک جج بھی تبدیل کیا جا چکا ہے، یہ کیس علی ظفر نے اس وقت میشا شفیع کے خلاف دائر کیا تھا جب گلوکارہ نے ان پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔

میشا شفیع نے اپریل 2018 میں ٹوئٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا اور گلوکار نے انہیں ایک ایسے وقت میں نشانہ بنایا جب وہ بچوں کی ماں بن چکی تھیں تاہم علی ظفر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں ان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے دعویٰ پر اب میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات قلمبند ہوں گے—فوٹو: انسٹاگرام
علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے دعویٰ پر اب میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات قلمبند ہوں گے—فوٹو: انسٹاگرام