پاکستانی نژاد برطانوی وزیر خزانہ ساجد جاوید نے استعفیٰ دے دیا

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

حکومت میں وزارت خزانہ کا قلمدان حکومت میں دوسرا بڑا عہدہ سمجھا جاتا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
حکومت میں وزارت خزانہ کا قلمدان حکومت میں دوسرا بڑا عہدہ سمجھا جاتا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

برطانیہ کے وزیر خزانہ ساجد جاوید نے غیر متوقع طور پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق حکومت نے اعلان کیا کہ ساجد جاوید کی جگہ رشی سنک وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالیں گے جو پہلے وزارت میں ساجد جاوید کے نائب تھے۔

مزید پڑھیں: ساجد جاوید بھی برطانوی وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل

واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانس بعض کابینہ ارکان کو برطرف کر کے جونیئر وزرا کو ان کی جگہ لے کر آئے ہیں۔

برطانوی سیاسی منظرنامے میں حالیہ پیش رفت کے بعد امید کی جاری تھی کہ ساجد جاوید اپنے منصب پر فائز رہیں گے۔

خیال رہے کہ وزارت خزانہ کا قلمدان برطانوی حکومت میں دوسرا بڑا عہدہ سمجھا جاتا ہے۔

ساجد جاوید کے مستعفیٰ ہونے کے بعد ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ ساجد جاوید نے ڈاؤننگ اسٹریٹ آفس میں وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات کی تھی۔

ساجد جاوید کے استعفیٰ کی خبروں کے بعد خبریں آئیں کہ وزیر خزانہ ساجد جاوید کا بورس جانسن کے انتہائی قریبی ساتھی و مشیر ڈومینک کمنگز سے جھگڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ، برطانوی وزیر اعظم کو بدترین شکست

خیال رہے کہ ساجد جاوید کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپنا سالانہ بجٹ پیش کرنا تھا لیکن ان کے استعفے نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ رواں سال کے آخر تک 27 ممالک کے یورپی یونین کے ساتھ ایک نئے تعلقات پر بات چیت کا چیلنج درپیش ہے۔

برطانیہ کی پریس ایسوسی ایشن کی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی کہ ساجد جاوید کو بتایا گیا کہ ان کے تمام ساتھیوں کو برطرف کر کے ان کی جگہ وزیر اعظم کے دفتر کا مقرر کردہ عملہ ذمہ داری سنبھالے گا۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن سب سے سینئر وزرا کو ان ملازمت پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب، سیکریٹری داخلہ پریتی پٹیل، سیکریٹری انصاف رابرٹ بکلینڈ اور کابینہ کے دفتر کے وزیر مائیکل گوف اپنے موجودہ عہدوں پر فائز رہیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نژاد ساجد جاوید برطانیہ کے سربراہِ خزانہ مقرر

بورس جانسن کی حکومت کے متعدد اہم شخصیات بشمول سیکریٹری تجارت آندریا لیڈسم، ماحولیات کی سیکریٹری تھیریسا ویلیئرز اور وزیر ہاؤسنگ ایسٹر میک وے نے بتایا کہ انہیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

علاوہ ازیں بورس جانسن نے ایک اور خلاف توقع اقدام اٹھایا اور شمالی آئرلینڈ کی سیکریٹری جولین اسمتھ کو بھی برخاست کردیا۔

واضح رہے کہ جولین اسمتھ نے بریگزٹ سے متعلق سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا تھا اور ان کی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا تھا۔

پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان ساجد جاوید

خیال رہے کہ جولائی 2019 میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک 'چانسلر خزانہ' (سربراہِ خزانہ) پر پاکستانی نژاد برطانوی سیاست دان ساجد جاوید کو مقرر کیا تھا۔

بطور اقلیتی شہری ساجد جاوید اس اعلیٰ سطح کے عہدے پر پہنچنے والے پہلے برطانوی ہیں، وہ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں بھی شامل رہے۔

ساجد جاوید برطانیہ کی سبکدوش ہونے والی وزیراعظم تھریسا مے کی کابینہ میں سیکریٹری داخلہ (وزیر داخلہ) کے طور پر کام کرتے رہے۔

ساجد جاوید کے والد کا تعلق پاکستان سے تھا جو 1960 کی دہائی میں برطانیہ میں مقیم ہوئے جہاں وہ ایک بس ڈرائیور تھے۔

ساجد جاوید کو کنزرویٹو پارٹی کا ایک ابھرتا ہوا ستارہ بھی کہا جاتا ہے جو بورس جانسن کے مقابلے میں وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل تھے، تاہم جب وہ اس دوڑ سے باہر ہوئے تو انہوں نے بورس جانسن کی ہی حمایت کی۔