اسٹیٹ بینک کے منافع میں 600 فیصد اضافے سے مالی خسارے میں کمی

اپ ڈیٹ 15 فروری 2020

ای میل

رواں مالی سال کی  پہلی ششماہی میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد یا 995 ارب روپے تک محدود رہا— ڈان:فائل فوٹو
رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد یا 995 ارب روپے تک محدود رہا— ڈان:فائل فوٹو

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 600 فیصد اضافے اور غیر محصولاتی ریونیو میں 221 فیصد اضافے سے رواں مالی سال کے پہلے ششماہی میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.3 فیصد یا 995 روپے تک محدود رکھنے میں مدد ملی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں مجموعی طور پر مالی خسارہ ایک ہزار 30 ارب روپے (جی ڈی پی کا 2.7 فیصد) سے کم ہے جبکہ پورے سال میں ملک کی آمدنی اور اخراجات میں خلا جی ڈی پی کا 8.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کا دسمبر 2018 کے 12 کھرب 74 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.3 فیصد) کے مالی خسارے کے مقابلے میں دسمبر 2019 کے آخر میں مالی خسارہ تقریباً نہ تبدیل ہونے کے برابر 12 کھرب 86 ارب روپے (جی ڈی پی کا 2.9 فیصد) سامنے آیا تھا تاہم چاروں صوبوں نے وفاق کے مالی خسارے کو کم کرنے میں 324 ارب روپے کے کیش سرپلس کی پیشکش سے مدد کی جو اس سے گزشتہ سال پیش کیے گئے 247 ارب روپے سے 31 فیصد زیادہ تھا۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

یہ معلومات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کی گئیں جس میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا منافع 427 ارب روپے کا ظاہر کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے دوران حاصل کیے گئے 63 ارب روپے سے 578 فیصد زیادہ ہے۔

اسٹیٹ بینک کا منافع زیادہ تر حکومت کے قرضوں اور شرح سود کو 6 فیصد سے بڑھا کر 13.25 فیصد کرنے سے ہوا۔

غیر محصولاتی ریونیو، جو اسٹیٹ بینک کے منافع کا حصہ بھی ہے، دسمبر 2019 کے آخر میں 719 ارب روپے رہا جو دسمبر 2018 کے اختتام پر 224 ارب روپے تھا اور یہ 221 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

سب سے بڑا غیر محصولاتی ریونیو پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ٹیلی کام فی کے طور پر حاصل کیے گئے 112 ارب روپے کی شکل میں سامنے آیا۔

پی ٹی اے کا منافع گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران صرف 16 ارب روپے تھا۔

138 ارب روپے کا ایک اور بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کے طور پر سامنے آیا جو گزشتہ سال کے 82 ارب روپے کے مقابلے میں 68 فیصد زیادہ تھا۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 'دیگر ٹیکسز' کی مد میں حاصل کی گئی رقم 157 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے 99 ارب روپے سے 60 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 19-2018: اسٹیٹ بینک کے منافع میں 95 فیصد کمی، وزارت خزانہ

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں ملک کا کُل ریونیو 32 کھرب 30 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال اس ہی عرصے کے دوران 23 کھرب 30 ارب روپے تھا اور یہ 39 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

دسمبر 2019 تک کل ٹیکس ریونیو 24 کھرب 60 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال اس ہی عرصے کے دوران 20 کھرب 80 ارب روپے تھا اور یہ 18.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اکٹھا کیا گیا ٹیکس رواں مالی سال 21 کھرب رہا جو گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 17 کھرب 90 ارب روپے تھے اور یہ بجٹ میں 43 فیصد کے کیے گئے وعدے کے برعکس 16.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔