نواز شریف کی والدہ بیمار بیٹے سے ملاقات کیلئے لندن روانہ

اپ ڈیٹ 15 فروری 2020

ای میل

انہوں نے مزید کہا کہ 'آپی جی ضعیف اور بیمار ماں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے لندن روانہ ہورہی ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے مزید کہا کہ 'آپی جی ضعیف اور بیمار ماں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے لندن روانہ ہورہی ہیں —فائل فوٹو: ڈان نیوز

برطانیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی ہارٹ سرجری کے پیش نظر ان کی والدہ شمیم بی بی بیٹے سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہوگئیں۔

اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'شمیم بی بی (آپی جی) کی لندن روانگی محمد نواز شریف کو دل کی تکلیف کے تناظر میں ہورہی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'آپی جی ضعیف اور بیمار ماں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے لندن روانہ ہورہی ہیں'۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ 'آپی جی سے درخواست کی گئی تھی وہ اپنی صحت اورعمر کی بنا پر (لندن کا) سفر نہ کریں لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کے علاج کے موقع پر موجود ہونے کی خواہش ظاہر کی'۔

علاوہ ازیں مریم اورنگزیب نے قوم سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جلد صحت یابی کی درخواست کی۔

واضح رہے کہ 7 فروری کو حکومت کے میڈیکل بورڈ نے بیمار سابق وزیراعظم نواز شریف کی ’تازہ‘ طبی رپورٹس کو ناکافی قرار دے دیا کہ جس کی بنیاد پر ان کے بیرونِ ملک قیام میں توسیع کے حوالے سے کوئی رائے دی جاسکے۔

14 رکنی میڈیکل بورڈ نے طبی رپورٹس وزارت داخلہ اور صحت کو کوئی رائے دینے کے لیے ناکافی قرار دے کر واپس کردیں اور نواز شریف کے پلیٹلیٹس کے لیے نئی رپورٹس مانگ لیں تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان کی کئی خواہشات ہیں لیکن ’ہم ان کی خواہشات کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتے‘۔

مزیدپڑھیں: لندن میں نواز شریف کے مرض کی تشخیص کیلئے مختلف ٹیسٹ

یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے علاج کے لیے نواز شریف کو بیرونِ ملک قیام کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی جس کے اختتام پر سابق وزیراعظم نے 23 دسمبر کو قیام میں توسیع کی درخواست کے ساتھ میڈیکل رپورٹس جمع کروائی تھیں جنہیں صوبائی حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

نواز شریف کی صحت اور بیرونِ ملک قیام

گزشتہ سال 21 اکتوبر 2019 کو نیب کی تحویل میں چوہدری شوگر ملز کیس کی تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کو خرابی صحت کے سبب تشویشناک حالت میں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کی خون کی رپورٹس تسلی بخش نہیں اور ان کے پلیٹلیٹس مسلسل کم ہورہے تھے۔

مقامی طور پر مسلسل علاج کے باوجود بھی بیماری کی تشخیص نہ ہونے پر نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر انہیں علاج کے سلسلے میں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 'نواز شریف کو علاج کے لیے امریکا جانا چاہیے'

جس پر سابق وزیراعظم 19 نومبر کو اپنے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔

علاج کے لیے لندن جانے کی غرض سے دی گئی 4 ہفتوں کی مہلت ختم ہونے پر 23 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نے بیرونِ ملک قیام کی مدت میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کے ساتھ انہوں نے ہسپتال کی رپورٹس بھی منسلک کی تھیں۔

تاہم لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں نواز شریف کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ان کی بیماری کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا جس پر صوبائی حکومت متعدد مرتبہ ان کی تازہ میڈیکل رپورٹس طلب کرچکی ہے۔