بھارت: لائبریری میں طلبہ پر پولیس کے بدترین تشدد کی ویڈیو وائرل

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

انہوں نے دہلی پولیس سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیے —فائل فوٹو: رائٹرز
انہوں نے دہلی پولیس سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہیں شرم آنی چاہیے —فائل فوٹو: رائٹرز

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم جامعہ ملیہ کے اندر دو ماہ قبل پولیس کی جانب سے طلبہ پر بدترین تشدد کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 15 دسمبر کو پولیس نے نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر جامعہ ملیہ میں گھس کر طلبہ پر تشدد کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت: شہریت قانون کے خلاف جامعہ دہلی میں شدید احتجاج، 100 سے زائد زخمی

محض دو ماہ بعد ہی اسی واقعہ کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جامعہ ملیہ کی لائبریری میں 10 سے 20 طلبہ مطالعہ کررہے ہیں اور اس دوران لاٹھی بردار پولیس لائبری میں گھس کر انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔

ویڈیو شیئر کرتے ہوئے جامعہ کے کوآرڈینیشن کمیٹی (جے سی سی) نے کہا کہ 'پولیس نے پہلی منزل پر واقع ایم اے، ایم فل سیکشن کی لائبریری میں طلبہ کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا'۔

انہوں نے دہلی پولیس سے مخاطب ہو کر کہا کہ 'تمہیں شرم آنی چاہیے'۔

دوسری جانب جامعہ کے حکام نے تصدیق کی کہ وائرل ہونے والی ویڈیو لائبریری کے اندورنی حصے کی ہے تاہم ویڈیو یونیورسٹی کی جانب سے شیئر نہیں کی گئی۔

جامعہ ملیہ کے ترجمان احمد عظیم نے مذکورہ ویڈیو کی تصدیق کی لیکن واضح کیا کہ 'ویڈیو یونیورسٹی نے جاری نہیں کی'۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ 'جے سی سی، یونیورسٹی کا نامزد ادارہ نہیں ہے اور جے سی سی کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی بیان یونیورسٹی کی نمائندگی نہیں کرتا'۔

اس پر ڈی سی پی آر پی مینا نے کہا کہ 'معاملہ کرائم برانچ میں زیر تفتیش ہے اس لیے ویڈیو کی تصدیق کے بعد ہی رائے دے سکتے ہیں'۔

مزیدپڑھیں: بھارت مظاہرے: جامعہ ملیہ کے بعد شاہین باغ میں بھی مسلح نوجوان کی فائرنگ

ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی وڈرا نے کہا کہ دہلی پولیس نے واقعے کے بارے میں جھوٹ بولا تھا کہ انہوں نے 15 دسمبر کو جامعہ ملیہ کی لائبریری میں کسی طلبہ پر تشدد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'دیکھیں کہ کس طرح دہلی پولیس تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اندھا دھند مار رہی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ویڈیو میں واضح طور پر دکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکا کتاب دکھا رہا ہے لیکن پولیس والا لاٹھیاں چلا رہی ہے۔۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں دارالحکومت نئی دہلی کی مرکزی جامعہ میں اس بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال سے 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اس دوران جامعہ کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی کہ ایک طالب علم واش روم کے فلور پر بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا ہے جبکہ دوسرا ایک کونے پر موجود ہے اور اس کا چہرا کپڑے سے چھپا ہوا ہے جس پر خود کے داغ موجود ہیں۔

یونیورسٹی میں پولیس کے لاٹھی چارج کے دوران طلبہ کو تشدد سے بچانے کے لیے سامنے آنے والی طالبات میں سے چند نے صحافی برکھا دت سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'ہمیں تشدد کا کوئی خوف نہیں ہے، ہمیں اگر کسی چیز کا خوف ہے وہ شہریت کا متنازع قانون اور ہندوتوا کو فروغ دینے والی حکومت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ہمارے وجود کا معاملہ ہے، پہلے اس طرح کے معاملے کو کشمیر میں چھیڑا گیا اس وقت ہم خاموش رہے، پھر بابری مسجد کیس کا فیصلہ آیا جس کے بعد ہمارا عدلیہ پر سے اعتبار اٹھ گیا، اس قانون کے بعد ہمیں اندیشہ ہے کہ اب ان کا ہدف پورا ملک ہوگا۔'

علاوہ ازیں اسکرول ان نے رپورٹ کیا تھا کہ واقعے کی ویڈیو میں ہال کے اندر افراتفری کے مناظر دیکھے گئے، اس دوران مختلف چیزوں کی آوازیں آرہی تھیں، طلبہ بھاگ رہے تھے اور ڈیسکس کو گھسیٹ رہے تھے۔

اس حوالے سے ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے کیمپس کی طرف پیش قدمی شروع کی تو مختلف طلبہ واپس ہاسٹل کی طرف آنا شروع ہوگئے تاہم 'کچھ طلبہ پولیس لاٹھی چارج کا شکار ہوئے'، جس میں سے کچھ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن باقی ہاسٹل میں چھپے ہوئے تھے۔

اسکرول ان نے مزید رپورٹ کیا تھا کہ طالب علموں کا کہنا تھا کہ پولیس انہیں مارتے وقت 'بے قابو' تھی، کچھ مقامات پر روشنی کو بند کردیا گیا تھا، یہاں تک کہ 'خالی عمارتوں میں بھی چھاپے مارے گئے جبکہ 'کچھ پولیس اہلکار باتھ روم میں داخل ہوئے اور طلبہ پر تشدد کیا'۔

شہریت ترمیمی بل ہے کیا؟

شہریت بل کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت دینا ہے جبکہ اس میں مسلمان شامل نہیں ہیں، اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس بل کی کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا نے بھی مخالفت کی اور کہا کہ مرکز اس بل کے ذریعے ملک میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

بھارتی شہریت کے ترمیمی بل 2016 کے تحت شہریت سے متعلق 1955 میں بنائے گئے قوانین میں ترمیم کی جائے گی۔

اس بل کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

خیال رہے کہ آسام میں غیر قانونی ہجرت ایک حساس موضوع ہے کیونکہ یہاں قبائلی اور دیگر برادریاں باہر سے آنے والوں کو قبول نہیں کرتیں اور مظاہرین کا ماننا ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد ریاست آسام میں مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔