پاکستان، بھارت 'کشیدگی' میں کمی کی کوشش کریں، انتونیو گوتریس

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مصافحہ کرر رہے ہیں — فوٹو بشکریہ دفتر خارجہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مصافحہ کرر رہے ہیں — فوٹو بشکریہ دفتر خارجہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں زبانی اور عسکری کشیدگی کی کمی پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور خصوصاً پاک بھارت کشیدگی، مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت ہے، انتونیو گوتریس

ملاقات کے بعد وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں دونوں ملکوں سے مستقل تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دے رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق صرف ڈپلومیسی اور مذاکرات سے ہی امن اور استحکام ممکن ہے اور اگر دونوں ملک چاہیں تو میں اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال کرتارپور راہداری کے افتتاح کو بھی سراہا اور کہا کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کی کوششوں کا مظہر ہے، یہ مذہبی رواداری کی علامت ہے اور سرحد پار تعلقات کے قیام میں ایک انوکھا تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا دورہ پاکستان، افغان مہاجرین سے ملاقات

شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ میرے دورہ پاکستان کا سب سے بنیادی مقصد اصل پاکستان کی منظر کشی کرنا ہے جس میں بے پناہ صلاحیت ہے۔

ان سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے چارٹر کے محافظ ہیں اور اسی وجہ سے ہماری ان سے چند توقعات وابستہ ہیں جس کے بارے میں میری ان سے بات بھی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے انہیں آگاہ کیا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ آج پاکستان اس تنازع کے حل کا حصہ ہے حالانکہ ماضی میں پاکستان کو اس تنازع کے مسائل کا سبب سمجھا جاتا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو حکومت کی جانب سے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا اور ہمارے پائیدار ترقی کے اہداف، احساس پروگرام، صحت سہولت پروگرام کے حصول کے بارے میں آگاہ کیا اور ہمارا ماحولیاتی تبدیلی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

مزید پڑھیں: متنازع شہریت قانون کیخلاف مظاہروں میں شرکت، مسلمان شاعر کو ایک کروڑ کا نوٹس

شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات خصوصاً گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے پر انتونیو گوتریس کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اقدام قرار دیا۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن اور مواصلات کی مستقل بندش کی جانب بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ذہنیت کے حامل افراد کے سوا تمام کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے ان جابرانہ اقدامات کو مسترد کردیا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل افغان مہاجرین پر عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے چار روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں۔

اپنے دورے کے دوران وہ 17فروری سے 'پاکستان میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40سال' کے عنوان سے شروع ہونے والی دو روزہ عالمی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب سمیت خلیجیی ممالک سے سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوسکے، قطر

پاکستان اور اقوام متحدہ کی مہاجرین ایجنسی کے تعاون سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح وزیر اعظم عمران خان کریں گے جس میں متعدد امریکی حکام کی شرکت بھی متوقع ہے۔

دورے کے دوران انتونیو گوترین کی وزیر اعظم عمران خان اور دیگر اہم حکام سے ملاقات بھی متوقع ہے جبکہ وہ پیر کو صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کریں گے۔

وہ منگل کو دورہ لاہور کے دوران طلبہ سے ملاقات کے بعد پولیو مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے جبکہ وہ کرتارپور راہداری کا دورہ بھی کریں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بدھ کو دورہ ختم کر کے واپس نیویارک لوٹ جائیں گے۔