'یورپی یونین اپنا رویہ ٹھیک کرلے، ایران جوہری معاہدے کی پابندی کیلئے تیار ہے'

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ امور سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا—فوٹو: ارنا نیوز ایجنسی
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ امور سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا—فوٹو: ارنا نیوز ایجنسی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ جوہری معاہدے کی شرائط کی تکمیل میں عدم دلچسپی پر مبنی یورپی یونین کے رویے سے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔

ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق میونخ سیکیورٹی کانفرنس (ایم ایس سی) کے دوران ایران کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی ہم منصب ژان یوس لی دریان سے ملاقات میں واضح کیا کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی پاسداری کرے تو ایران جوہری پابندیوں کو دوبارہ اپنا لے گا۔

مزیدپڑھیں: ایران کا ایک ہزار سے زائد سینٹری فیوجز کو گیس فراہمی کا اعلان

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ امور، علاقائی پیش رفت اور جے سی پی او اے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

جواد ظریف نے کہا کہ ایران یورپی یونین کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی بنیاد پر اپنے اقدامات کو روکنے کے بارے میں سوچے گا۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ‘ایران جے سی پی او اے کے تحت معاہدے سے اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے چوتھے قدم پر ایک ہزار 44 سینٹری فیوجز کو گیس کی فراہمی شروع کررہا ہے۔

صدر حسن روحانی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ان احکامات کی روشنی میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کی نگرانی میں یوایف6 سلینڈر فوردو میں نصب کردیے تھے۔

قبل ازیں ایران نے 2015 میں امریکا سمیت عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے میں یورینیم کی افزودگی کو تین فیصد تک لے جانے کا اتفاق کرلیا تھا جو ایران کے متنازع جوہری مسئلے کو حل کرنے کے لیے طے پا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا افزودہ یورینیم کی پیداوار میں 10 گنا اضافے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدر منتخب ہونے کے بعد سابق صدر بارک اوباما کے اس معاہدے کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا اور اس پر باقاعدہ عمل کرتے ہوئے نہ صرف معاہدے سے دست بردار ہوا بلکہ ایران پر معاشی پابندیاں بھی عائد کردی تھیں۔

ایران نے چین، برطانیہ، روس، فرانس اور جرمنی پر زور دیا تھا کہ وہ معاشی پابندیاں ہٹا کر ایران کو عالمی مارکیٹ تک آزادانہ رسائی کو ممکن بنائیں ورنہ وہ معاہدے پر نظر ثانی کرے گا۔

امریکا کے علاوہ دیگر عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد مرتبہ مذاکرات کیے لیکن وہ امریکی پابندیاں ہٹانے میں ناکام ہوئے جس پر ایران نے افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے 5 نومبر کو یورینیم کی پیداوار میں مزید 10 گنا اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اعلان کیا تھا کہ ایران نے دو نئے جدید سینٹری فیوجز بھی قائم کردیے ہیں جن میں سے ایک زیر آزمائش ہے۔

مزیدپڑھیں: ایران نئے سینٹری فیوجز نصب کررہا ہے، عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی

علی اکبر صالحی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افزودہ یورینیم کی پیداوار 5 کلو گرام یومیہ تک پہنچ گئی ہے جو دو ماہ قبل 450 گرام یومیہ تھی۔

گزشتہ برس مئی میں ایران نے امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور دوبارہ پابندیاں کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعد ازاں یکم جولائی2019 کو ایران نے کہا کہ تھا کہ اس نے معاہدے کے برخلاف 300 کلو افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر مزید کہا تھا کہ یورینیم کے ذخیرے میں 3 اعشاریہ 67 فیصد کا اضافہ کرلیا ہے۔