متحدہ عرب امارات نے نیوکلیئر پاور پلانٹ کیلئے ری ایکٹر کا لائسنس جاری کردیا

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

یہ تاریخی لمحہ ہے جس سے یو اے ای خطے میں جوہری پاور پلانٹ چلانے والا پہلے عرب ملک بن جائے گا، حماد الکعبی— فائل فوٹو: رائٹرز
یہ تاریخی لمحہ ہے جس سے یو اے ای خطے میں جوہری پاور پلانٹ چلانے والا پہلے عرب ملک بن جائے گا، حماد الکعبی— فائل فوٹو: رائٹرز

متحدہ عرب امارات نے براکا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں عرب دنیا کے پہلے ری ایکٹر کا لائسنس جاری کردیا اور اسے ’ تاریخی لمحہ‘ قرار دیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس توانائی کے وافر ذخائر موجود ہیں لیکن یو اے ای نے توانائی کے متبادل ذرائع کی تیاری میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔

باراکا پلانٹ ابوظبی پر خلیی ساحل پر واقع ہے جو 2017 کے اواخر میں آن لائن ہونا تھا لیکن اسے کافی تاخیر جسے حکام حفاظت اور ریگولیٹری ضروریات سے منسوب کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں پہلی یہودی عبادت گاہ کا افتتاح 2022 میں ہوگا

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) میں متحدہ عرب امارات کے نمائندے حماد الکعبی نے کہا کہ اب نیشنل نیوکلیئر ریگولیٹر نے پاور پلانٹ میں پہلے 4 ری ایکٹرز کے آپریٹنگ لائسنس کی منظوری دے دی ہے۔

حماد الکعبی نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ متحدہ عرب امارات کے لیے تاریخی لمحہ ہے جس سے یہ خطے میں جوہری پاور پلانٹ چلانے والا پہلے عرب ملک بن جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل متحدہ عرب امارات کے وژن اور اس کی قیادت کی جانب سے مستقبل میں ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرامن جوہری توانائی پروگرام بنانے کے باعث حاصل ہوا۔

خیال رہے کہ یہ خطے کو پہلا جوہری پاور پلانٹ ہے، سعودی عرب نے 16 نیوکلیئر ری ایکٹرز قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن اس منصوبے پر ابھی عملدرآمد نہیں ہوا۔

ابوظبی حکام نے جنوری میں کہا تھا کہ جوہری پلانٹ چند ماہ میں فعال ہوجائے گا، اس حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن حماد الکعبی نے کہا تھا کہ یہ جلد فعال ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں باراکاپلانٹ کی فعالی متحدہ عرب امارت کی ترقی اور استحکام کی کوششوں میں کردار ادا کرے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ کمرشل آپریشن کے لیے تیار کرنے میں کمیشننگ کا عرصہ لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا تارکین وطن کو مستقل رہائش دینے کا فیصلہ

یہ پلانٹ کوریا الیکٹرک پاور کارپوریشن کی قیادت میں کنسورٹیم کی جانب سے 24 ارب 40کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی جارہا ہے۔

مکمل طور پر آپریشنل ہونے کے بعد چاروں ری ایکٹرز 5 ہزار 6 سو میگاواٹ بجلی تیار کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں جو ملک کی ضروریات کو 25 فیصد، دیگر 3ری ایکٹرز آپریشن کے لیے تقریباً تیار ہیں۔

باراکا پلانٹ اماراتی ساحل پر واقع ہے جو خلیج کے پانیوں کے ذرعے ایران سے علیحدہ ہے، یہ سعودی عرب کے ساحل سے 50 کلومیٹرز کے فاصلے پر واقع ہے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ سے اتنا قریب ہے جتنا ابوظبی سے ہے۔

تہران کے جوہری پروگرام پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کا پروگرام نیوکلیئر ری پروسیسنگ ٹیکنالوجیز تیار نہیں کرے گا۔