مہاجرین کی واپسی تک عسکریت پسندی کے خاتمے کی ضمانت نہیں دے سکتے، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 17 فروری 2020

ای میل

اسلام آباد میں  ملک میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے 2 روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز
اسلام آباد میں ملک میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے 2 روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے — فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی تک عسکریت پسندی کے خاتمے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ملک میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال پاکستان کے عوام کے لیے بہت مشکل حالات رہے لیکن ہم نے تمام تر مشکلات کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان، افغان مہاجرین کی میزبانی کے 40 سال مکمل ہونے کی خوشی منارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ دنیا میں اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ مہاجرین ایسے اعزاز کے ساتھ رہے ہوں اور میزبانوں نے گزشتہ 20 برسوں میں معاشی چیلنجز کے باوجود افغان مہاجرین کے ساتھ بہتر طریقے سے اپنے تعلق کو برقرار رکھا ہو۔

مزید پڑھیں: پاکستان، بھارت 'کشیدگی' میں کمی کی کوشش کریں، انتونیو گوتریس

وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال کا ایک خوشگوار اثر یہ ہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے کرکٹ دیکھنے کے بعد اب افغانستان کی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم بھی موجود ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سخاوت کا بینک بیلنس سے کوئی لینا دینا نہیں، اسلام ہمیں اخوت اور انسانوں کو متحد کرنے کا درس دیتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ میرا ماننا ہے کہ گزشتہ 40 سالوں میں افغانستان کے عوام دیگر کمیونیٹیز کے مقابلے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور میں دل سے دعا کرتا ہوں کہ افغانستان میں امن مذاکرات کامیاب ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے امن مذاکرات میں سہولت کی ہر ممکن کوشش کی ہے، زلمے خلیل زاد جانتے ہیں کہ پورا ملک ایک پیج پر ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں، اس وقت ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ یہ اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان میں 14 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین ہیں، ہم مہاجرین کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں بلکہ اس لیے کے افغانستان کے عوام امن کے مستحق ہیں۔

’پاکستان میں عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں‘

کانفرنس میں افغانستان کے دوسرے نائب صدر سرور دانش کی تقریر کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا عام ہوگیا کیونکہ اسلام اور دہشت گردی کو ساتھ جوڑا گیا تھا جس سے دنیا بھر میں مسلمان مہاجرین کو مشکلات کا سامنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایسا ممکن ہے کہ نائن الیون کے بعد کچھ عسکریت پسند کو افغانستان میں لڑرہے تھے وہ یہاں آکر رہے ہوں، یہاں 5 لاکھ سے زائد لوگوں کے کیمپس موجود ہیں، ان لاکھوں افراد کے بیچ میں رہنے والے کچھ ہزار عسکریت پسندوں کو حکومت کیسے پکڑ سکتی ہے؟

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں امن بحال ہونا اس لیے اہم ہے کہ وہاں حالات ایسے ہوں کہ افغان مہاجرین واپس جاسکیں، اس کے بعد اگر کوئی عسکریت پسند یہاں سے کام کرتا ہے تو ہم ذمہ داری قبول کرسکیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 27 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں ہمارے لیے اس حوالے سے مکمل ضمانت دینا ممکن نہیں، ہم سرحد پر باڑ لگارہے ہو جوتقریباً مکمل ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود مہاجرین کی واپسی تک یہ ضمانت دینا ممکن نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان کا تنازع ہمارے مفاد میں نہیں ہے، ہم افغانستان میں انسانی بنیادوں پر امن چاہتے ہیں، قیامِ پاکستان سے قبل بھارت کے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی توجہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جانب مبذول کرواتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’دنیا بھر میں قوم پرست جماعتیں، ایک اور انسانی برادری کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سامنے آرہی ہیں اور بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 2 قوانین متعارف کروائے گئے ہیں جو مستقبل میں ہمارے ملک کے لیے پریشانی کا باعث ہوگی کیونکہ یہاں مہاجرین کا ایک بڑا مسئلہ موجود ہے‘۔

پاکستان کیلئے عالمی حمایت بہت کم رہی ہے، انتونیو گوتریس

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 2 روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو تسلیم کرنا چاہیے کہ افغان مہاجرین کے لیے (پاکستان کی) کوششوں کے مقابلے میں پاکستان کے لیے عالمی حمایت بہت کم رہی ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہم یکجہتی اور ہمدردی کی قابل ذکر کہانی کا اعتراف کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، ایسا کرنا اہم ہے کیونکہ یہ کہانی دہائیوں پر محیط ہے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ 40 سال سے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ 40 برس سے افغان عوام مسائل کا شکار ہیں، پاکستان میں افغان مہاجرین کی 40 سالہ میزبانی کی کہانی برادارنہ تعلقات اور قربانی کے جذبوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 40 سالوں سے افغانستان کے عوام نے کئی بحرانوں کا سامنا کیا ہے جبکہ کئی سالوں سے پاکستان کے عوام نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ سخاوت اب دہائیوں اور نسلوں پر محیط ہے جو دنیا کی تاریخ میں مہاجرین کا سب سے طویل عرصے تک جاری رہنے والا قیام ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ کہانی بھی میرے دل کے بہت قریب رہی ہے، جب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کے عہدے پر تھا، اس عرصے کے دوران پاکستان زیادہ تر دنیا میں مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر رہا۔

انہوں نے کہا کہ 1979 سے لے کر ہر 4 میں سے 3 سال پاکستان یا ایران مہاجرین کی میزبانی کرنے والے سب سے بڑے ملک میں شمار ہوتا رہا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بڑے تنازعات سامنے آئے ہیں اور مہاجرین کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان آج بھی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہاں کے ہر دورے پر میں پاکستانی عوام کی دردمندی، غیر معمولی سخاوت سے متاثر ہوا، میں نے نہ صرف ان کے الفاظ بلکہ ان کے عمل میں بھی دردمندی دیکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سخاوت، قرآن مجید کی سورہ توبہ میں مہاجرین کے تحفظ کی بہترین تفصیل کے عین مطابق ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ میں نے پاکستان میں اس دردمندی کا مظاہرہ دیکھا جو وژن کا حصہ بن گیا، ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں بائیو میٹرک رجسٹریشن، قومی نظام تعلیم تک رسائی، ہیلتھ کیئر اور معیشت میں شمولیت کی پالیسیز کو متعارف کروایا گیا ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان کو درپیش کئی چیلنجز کے باوجود ان اقدامات کے آغاز سے ایک بہت بڑا فرق پڑا، ان میں سے کئی کو مہاجرین کے حوالے سے اچھے طریقوں کے عالمی ماڈل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ پالیسیوں نے عالمی سطح پر مہاجرین پر اثر اندار ہونے والے عناصر کو متاثر کیا، ہمیں افغان مہاجرین کی میزبانی میں پاکستان کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان کی قومی کوششوں کے مقابلے میں پاکستان کے لیے عالمی تعاون بہت کم رہا ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہم چیلنجز کا جائزہ لیں تو عالمی برادری کو آگے بڑھنا چاہیے، جیسا کہ ہم نے یکجہتی کے 40 اٹوٹ سال مکمل کیے ہیں ہم لڑائی کے 40 برس پر مایوس بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان تنازع بڑھتا چلا گیا اور ہم نے تنازع، غربت اور جبری نقل مکانی کے اثرات دیکھے، ہم جانتے ہیں کہ افغان تنازع کا حل افغانستان میں ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ امن کے ممکنہ راستے کے اشارے افغانستان کے عوام کے بہتر مستقبل کا باعث ہوں گے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں زلمے خلیل زاد کو اس سلسلے میں ہمارے ساتھ دیکھتا ہوں اور امن کے راستے پر گامزن ہونے کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں‘۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ افغانستان کے عوام امن کی کوششوں کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ پر اعتماد کرسکتے، ہم یہاں صرف خدمت کرنے کے لیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان کے عوام کو امن، خوشحالی اور انسانی حقوق کے احترام کی ضرورت ہے اور یہ ان کا حق ہے۔

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے، وزیر خارجہ

قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان 40 سال سے 30 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور ہم آج بھی ان کی میزبانی کررہے ہیں اور یہ کوششیں مہمان نوازی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ہیں۔

—فوٹو:ڈان نیوز
—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان مہاجرین کو اس برس بھی کانفرنس سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا تعلق مشترکہ مذہب، ثقافت اور اقدار پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کو صحت، تعلیم اور فنی تربیت کی سہولیات مہیا کرتا آرہا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا، مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے افغانستان میں پائیدار امن بنیادی شرط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور افغانستان کے معاشرے میں بحالی کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت ہے، انتونیو گوتریس

وزیر خارجہ نے کہا کہ مہاجرین کی واپسی میں تعاون اور اس کے فروغ کے لیے اور معاشرے میں افغان مہاجرین کی پائیدار تنظیم نو کی صلاحیت میں اضافے کے لیے پاکستان، ایران اور یو این ایچ سی آر کی جانب سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کیا گیا تھا۔

گزشتہ 40 سال سے پاکستان اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے، فلیپو گرینڈی

وزیر خارجہ سے قبل مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرینڈی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان مہاجرین واپس اپنے گھر جانے کے منتظر ہیں وہ گھر تعمیر کرنے، اپنے بچوں کو تعلیم دینے اور آزادانہ طریقے سے جینے کا حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان 22 سال کے طویل عرصے تک افغان مہاجرین کا سب سے بڑا میزبان رہا ہے، افغان مہاجرین کو بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دینے کا حالیہ اقدام خوش آئند ہے جس سے ان کی معاشی ہم آہنگی میں مدد ملے گی۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

فلیپو گرینڈی نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں سے جیسا کہ ہم نے سنا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے افغان پڑوسیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت بھی افغانستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوا جب وہ استحکام کی تلاش میں وطن واپس لوٹ گئے تھے۔

فلیپو گرینڈی نے کہا کہ پاکستان، مشکلات، تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کے موقع پر اور سالوں کی کوششوں سے ایک بکھری ہوئی قوم کی تعمیرِ نو کے ذریعے افغانستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل کو کامیابی سے سرانجام دینے کے لیے ابھی بہت کوشش کی ضرورت ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے 40 سال یکجہتی کے لیے ایک نئی شراکت داری‘ کے عنوان سے پاکستان میں 40 برس سے مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے۔

2 روزہ عالمی کانفرنس 17 اور 18 فروری کو جاری رہے گی جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور وزیراعظم عمران خان سمیت اہم ملکی اور عالمی شخصیات شریک ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین ہائی کمشنر فلیپوگرینڈی، تقریباً 20 ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام جو دنیا بھر سمیت پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی مددکررہے ہیں، کانفرنس میں شریک ہیں۔

واضح رہے کہ عالمی کانفرنس کا انعقاد اہم موقع پر کیا گیا ہے جب افغانستان میں امن کے لیے کوششیں تیز ہوئیں ہیں اور ان میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔