کورونا وائرس: اٹلی میں چینی و ایشیائی نژاد باشندوں کے ساتھ نفرت آمیز رویہ

اپ ڈیٹ 18 فروری 2020

ای میل

رپورٹ کردہ واقعات میں حملہ، جنسی تشدد، توہین اور کاروبار کا بائیکاٹ شامل ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی
رپورٹ کردہ واقعات میں حملہ، جنسی تشدد، توہین اور کاروبار کا بائیکاٹ شامل ہیں— فائل فوٹو: اے ایف پی

چین میں جان لیوا نئے کورونا وائرس پھوٹنے کے بعد یورپی ملک اٹلی میں چینی سیاحوں، چینی نژاد اطالوی باشندوں سمیت ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نفرت پر مبنی امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات کا سامنا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینی نژاد اطالوی باشندوں پر مشتمل کمیونٹی اور انسانی حقوق کے اراکین کے مطابق چینی سیاحوں سمیت ایشیائی نژاد شہریوں کو تشدد، نفرت، امتیازی سلوک کا سامنا اور ہراساں کیا جارہا ہے۔

مزیدپڑھیں: چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1665 تک پہنچ گئیں

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں حملہ، جنسی تشدد، توہین اور کاروبار کا بائیکاٹ شامل ہیں۔

اٹلی کے شمالی شہر بولونہ میں 15 سالہ چینی نژاد اطالوی لڑکے کو مقامی لڑکوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 'تم اٹلی میں کیا کررہے ہو! چلے جاؤ، تم ہمارے لیے بیماری لارہے ہو'۔

اٹلی کے جنوبی شہر کگلیاری کے ہسپتال میں زیر علاج 31 سالہ فلپائنی شخص نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ اس پر اطالوی نوجوانوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور وہ مجھے چینی باشندہ سمجھ رہے تھے اور متشدد گروہ نے 'کورونا وائرس اٹلی میں لانے' کا الزام لگایا۔

اٹلی کے مرکزی شہر میلان میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے چینی خاتون کو سروس دینے سے انکار کردیا، خاتون کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ 'اسے خدشہ ہے کہ میں کورونا وائرس کی متاثرہ ہوں'۔

خاتون نے الجزیرہ کو بتایا کہ 'یہ وائرس تعصب اور نفرت کا باعث بن رہا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا سے باہر کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

چینی نژاد اطالوی اور دیگر سماجی کارکنوں نے کہا کہ سیاستدانوں، مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے نتیجے میں نفرت کی فضا جنم لے رہی ہے۔

دوسری جانب اٹلی کے وزارت داخلہ کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اٹلی کے وسطی شہر فلورنس کی رہائشی 22 سالہ مونیکا وانگ نے بتایا کہ انہیں انسٹاگرام پر ایک پیغام موصول ہوا کہ 'تم چین کے لوگ دنیا کو تباہ کررہے ہو، تمہاری بیٹیوں کا ریپ ہو پھر ریپ ہو تاکہ تم ادھر ہی رہنا سیکھو جہاں سے آئے ہو'۔

دریں اثنا چند سرکاری عہدیداروں نے چینی اور ایشیائی نژاد طلبہ کو گھر میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک واقعے میں اٹلی کے دارالحکومت روم کے ایک مشہور میوزک اسکول کنزرویٹریو دی میوزیکا سانتا سیسیلیا کے ڈائریکٹر نے کہا کہ چین، کوریا اور جاپان سے تعلق رکھنے والے تمام 'طلبہ' کو 'چینی وبا کورونا وائرس' کی وجہ سے معطل کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صرف صحت کی جانچ پڑتال کے بعد ہی واپس آنے کی اجازت ہوگی۔

مزیدپڑھیں: ڈاؤ یونیورسٹی نے کورونا وائرس ٹیسٹ کیلئے کٹس کوریا سے درآمد کرلی

عالمی سطح پر وائرس کے پھیلنے پر تشویش برقرار ہے جو پہلی مرتبہ چین کے وسطی صوبے ہوبے میں دسمبر کے مہینے میں سامنے آیا جبکہ ایشیا کے باہر فرانس میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی تھی۔

واضح رہے کہ چین سے شروع ہونے والے اس کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 68 ہزار 500 سے زائد افراد متاثر جبکہ مجموعی طور پر ایک ہزار 665 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں اسے اکثریت چین سے ہی ہے اور چین کے علاوہ جو 3 اموات ہوئیں وہ فرانس، فلپائن، ہانگ کانگ اور جاپان میں سامنے آئیں۔

اس کے علاوہ اس وائرس کا مرکز صوبہ ہوبے اور اس کے دارالحکومت ووہان میں اس وقت 5 کروڑ 60 لاکھ افراد قرنطینہ میں رہ رہے ہیں اور ان شہروں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ چین سے شروع ہونے والے اس کورونا وائرس سے چین کو نہ صرف معاشی بلکہ کھیلوں کے حوالے سے بھی نقصان اٹھانا پڑا اور آسٹریلوی حکومت کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے چین کی جمناسٹک ٹیم آئندہ ہفتے میلبورن میں ہونے والے ورلڈ کپ جمناسٹکس 2020 سے باہر ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے صحت یابی تک، ووہان کے ایک نوجوان کی داستان

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔