چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1665 تک پہنچ گئیں

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

جاپان میں قرنطینہ میں رکھے گئے بحری جہاز میں مزید 70 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی — فوٹو: اے پی
جاپان میں قرنطینہ میں رکھے گئے بحری جہاز میں مزید 70 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی — فوٹو: اے پی

چین میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی ہلاکتیں ایک ہزار 665 سے تک پہنچ گئیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کہ وبا کا پھیلاؤ کس جانب جائے گا۔

خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی تعداد میں مسلسل تیسرے روز بھی کمی آئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر وائرس کے پھیلنے پر تشویش برقرار ہے جو پہلی مرتبہ چین کے وسطی صوبے ہوبے میں دسمبر کے مہینے میں سامنے آیا جبکہ ایشیا کے باہر فرانس میں اس وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی ہے۔

چین میں اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 665 ہوگئی ہیں جبکہ گزشتہ روز سے اب تک اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 142 بتائی گئی ہے اور 68 ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔

وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبے میں نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل تیسرے روز کمی دیکھی گئی جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 139 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ مزید ہلاکتیں سامنے نہیں آئیں۔

مزید پڑھیں: ایشیا سے باہر کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

علاوہ ازیں ملک کے دیگر حصوں میں کیسز کی تعداد میں مسلسل 12 روز سے کمی دیکھی جارہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ تیدروس ادھانوم نے خبر دار کیا ہے کہ 'یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کہ وبا کا پھیلاؤ کس جانب جائے گا'۔

جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم تمام حکومتوں، کمپنیوں اور نیوز اداروں سے ساتھ میں کام کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ بے چینی پھیلائے بغیر مناسب انتباہ پھیلایا جاسکے'۔

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے چین سے مزید تفصیلات طلب کرلی ہیں کہ اس کی تشخیص کس طرح کی جارہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی بین الاقوامی ٹیم رواں ہفتے چینی حکام سے ملاقات اور مشترکہ مشن کے آغاز کے لیے بیجنگ پہنچے گی۔

جاپانی سمندر میں موجود کشتی پر مزید 70 افراد میں وائرس کی تشخیص

جاپانی وزیر صحت کاٹسونوبو کاٹو کا کہنا ہے کہ قرنطینہ میں رکھے گئے بحری جہاز میں مزید 70 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے جس کے بعد اس میں موجود کیسز کی مجموعی تعداد 355 ہوگئی۔

— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کارنیوال کارپوریشن کے ڈائمنڈ پرنسز نامی بحری جہاز کو 3 فروری کو یوکوہاما پہنچنے کے بعد سے ایک شخص میں کورونا وائرس کی موجودگی کی اطلاع پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

بحری جہاز میں 3 ہزار 700 مسافر اور عملہ موجود ہے اور جن افراد میں وائرس کی تشخیص ہورہی ہے انہیں جاپان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

جہاز میں وائرس سے تاحال کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: چین: کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی

واضح رہے کہ چین سے شروع ہونے والے اس کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 68 ہزار 500 سے زائد افراد متاثر جبکہ مجموعی طور پر ایک ہزار 665 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں اسے اکثریت چین سے ہی ہے اور چین کے علاوہ جو 3 اموات ہوئیں وہ فرانس، فلپائن، ہانگ کانگ اور جاپان میں سامنے آئیں۔

اس کے علاوہ اس وائرس کے مرکز صوبہ ہوبے اور اس کے دارالحکومت ووہان میں اس وقت 5 کروڑ 60 لاکھ افراد قرنطینہ میں رہ رہے ہیں اور ان شہروں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا ہے۔

یاد رہے کہ چین سے شروع ہونے والے اس کورونا وائرس سے چین کو نہ صرف معاشی بلکہ کھیلوں کے حوالے سے بھی نقصان اٹھانا پڑا اور آسٹریلوی حکومت کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے چین کی جمناسٹکس ٹیم آئندہ ہفتے میلبورن میں ہونے والے ورلڈ کپ جمناسٹکس 2020 سے باہر ہوگئی۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: سفری پابندیوں کے باعث چین، جمناسٹکس ورلڈ کپ سے باہر

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔