کورونا وائرس کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

20 فروری 2020

ای میل

نیا کورونا وائرس انسانی خلیات کی سطح پر ابھر رہا ہے — فوٹو بشکریہ راکی ماؤنٹین لیبارٹریز
نیا کورونا وائرس انسانی خلیات کی سطح پر ابھر رہا ہے — فوٹو بشکریہ راکی ماؤنٹین لیبارٹریز

نیا کورونا وائرس کووِڈ 19 چین سمیت دنیا بھر میں اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے؟ اس کی ممکنہ وجہ سائنسدانوں نے تلاش کرلی ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان میں پہلی بار سامنے آنے والے کورونا وائرس اب تک متعدد ممالک تک پھیل چکا ہے اور اب تک 2130 ہلاکتیں اور 75 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

پہلے مانا جارہا تھا کہ یہ وائرس متاثرہ افراد کے منہ سے نکلنے والے ذرات اور مریضوں سے تعلق پر ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مگر چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر انسانی فضلے سے بھی لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے دوران اس نئے وائرس کے شکار مریضوں کے فضلے میں کووڈ 19 کو دریافت کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ فضلے سے ہاتھوں، غذا یا پانی جراثیموں سے آلودہ ہوکر ناک، منہ اور آنکھوں کے راستے جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ منہ سے خارج ہونے والے ذرات اور قریبی تعلق ہی اس وائرس کی منتقلی سب سے عام وجوہات ہیں، مگر ایسا تمام کیسر میں نظر نہیں آیا اور یہ نئی وجہ ممکنہ طور پر اس کے تیزی سے پھیلنے کا بڑا سبب ہے۔

تحقیق کے مطابق وائرس کی منتقلی کے متعدد ذرائع ہیں، جس سے جزوی طور پر اس کی مضبوط اور تیزی سے منتقلی کی وضاحت ہوتی ہے'۔

جریدے جرنل ایمرجنگ مائیکروبیس اینڈ انفیکشنز میں پیر کو شائع ایک الگ تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر یہ وائرس فضلے کے ذریعے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے۔

اس تحقیق میں ووہان کے ایک ہسپتال کے 178 مریضوں کے نمونے لیے گئے تھے اور ان میں وائرس کو دریافت کیا گیا تھا۔

تاہم فی الحال اس کو ممکنہ سبب تو مانا جاسکتا ہے مگر اس کی باضابطہ تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی، ویسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا جاچکا ہے کہ اس نئے کورونا وائرس سے خود کو بچانے کا بہترین طریقہ بنیادی صفائی جیسے ہاتھوں کی اچھی طرح صفائی کرنا ہے۔

کھانسی اور چھینکتے ہوئے ٹشو یا کہنی سے منہ کو ڈھانپ لیں اور ٹشو کو فوری طور پر کچرے میں پھینک دیں اور ہاتھوں کو صاف کریں تاکہ وائرس کو پھیلنے اور چیزوں کو آلودہ ہونے سے روکا جاسکے۔

عالمی ادارے نے آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھونے کا مشورہ بھی دیا ہے تاکہ وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے روک سکیں۔

کچا یا کچا پکا گوشت کھانے سے گریز کریں اور بیمار جانوروں کے قریب جانے سے گریز کریں۔