کورونا وائرس سے ایران میں 2 افراد ہلاک، مجموعی تعداد 2100 سے متجاوز

اپ ڈیٹ 20 فروری 2020

ای میل

چین سے پھیلنے والے وائرس نے 25 ممالک کو متاثر کیا ہے—فوٹو: رائٹرز
چین سے پھیلنے والے وائرس نے 25 ممالک کو متاثر کیا ہے—فوٹو: رائٹرز

چین سے شروع ہونے والے نئے مہلک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چین سے باہر ایران اور جاپان میں مجموعی طور پر 4 افراد ہلاک ہوگئے۔

ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ وسطی ایرانی شہر قم میں صحت کے حکام نے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے واقعے کے نتیجے میں 2 افراد کی موت کی تصدیق کردی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر صحت کے قریبی ذرائع نے مہر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 2 بزرگ مرد، قم کے ہسپتال میں جاں بحق ہوئے۔

مزید پڑھیں: چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرگئی

علی رضا وہاب زادے کا کہنا تھا کہ دونوں میں سے ایک فرد 1980 کی دہائی میں ہونے والی ایران-عراق جنگ کے کیمیائی ہتھیاروں کے زخموں کا شکار ہوا تھا جبکہ 65 سالہ دوسرے شخص کے بارے میں انہوں نے اس طرح کی کوئی بات واضح نہیں کی۔

یہاں واضح رہے کہ ایران میں دونوں افراد کی موت کی خبر حکام کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے 2 کیسز کی تصدیق کے کچھ گھنٹوں بعد سامنے آئی۔

دوسری جانب فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ چین میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں بڑی کمی آرہی ہے لیکن جاپان میں کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور قرنطینہ کیے گئے جہاز کے 2 مسافر ہلاک ہوگئے۔

مقامی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بیرون ملک جانے والی بزرگ خاتون اور مرد جاپان میں ہلاک ہوئے۔

ادھر خبر رساں ادارے نے ایران سے متعلق رپورٹ کیا کہ یہ دونوں ہلاکتیں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پہلی اموات ہیں۔

علاوہ ازیں چین میں 114 مزید اموات کے ساتھ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار ایک سو 18 ہوگئی جبکہ اس مہلک وائرس سے اب تک چین میں 74 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ دیگر 25 ممالک میں یہ تعداد 100 سے زائد ہے۔

چین کے صحت حکام نے تقریباً ایک ماہ کے دوران نئے کیسز کی سب سے کم تعداد کو رپورٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں نرس کی منگیتر سے ویڈیو چیٹ پر شادی

عالمی ادارہ صحت کے حکام نے چین میں پیش رفت کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ابھی یہ اہم موڑ پر نہیں پہنچی۔

تمام صورتحال پر رواں ہفتے چینی حکام نے کہا تھا کہ صوبہ ہوبے میں کروڑوں افراد کو قرنطینہ کرنے سمیت سخت روک تھام کی کوششیں اور دیگر شہروں میں نقل و حرکت پر پابندی کے ثمرات آنا شروع ہوگئے۔

علاوہ ازیں چینی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے جنوب مشرقی ایشیائی ہم منصوبوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ مشکل کوششوں کے بعد صورتحال تبدیل ہوکر بہتری کی طرف جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ ہوبے اور اس کا دارالحکومت ووہان اس وقت بھی مذکورہ وبا سے 'کافی متاثر' ہے لیکن صورتحال اس وقت مؤثر طریقے سے کنٹرول میں ہے۔

کورونا وائرس ہے کیا؟

کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصے ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد فرہم کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے کمپنیوں کی پروڈکشن میں کمی سام سنگ کیلئے فائدہ مند؟

ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتے ہیں اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرسز بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں اور پھر انہیں دیگر مقامات پر منتقل کرنے لگتے ہیں، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

عموماً اس طرح کے وائرسز جانوروں میں پائے جاتے ہیں، جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرسز نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔