کورونا وائرس سے صحت یابی تک، ووہان کے ایک نوجوان کی داستان

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

کورونا وائرس کے مریض کے روز و شب کیسے گزرتے ہیں وہ ایک ایسے نوجوان کی زبانی جان لیں جس کا انفیکشن سے بحالی صحت تک کا سفر کسی بھیانک خواب جیسا ہے جس کے دوران اسے متعدد ہسپتالوں میں جانا پڑا، علامات اتنی شدت اختیار کرگئی تھیں کہ اسے لگا کہ وہ مرنے والا ہے جبکہ پولیس کی نگرانی میں قرنطینہ کے عمل سے گزرنا پڑا۔

ٹائم میگزین میں شائع رپورٹ میں ووہان (چین کا وہ شہر ہے جہاں سے یہ کووِڈ19 نامی نیا کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا) کے 21 سالہ طالبعلم ٹائیگر یائی (یہ اصل نام نہیں کیونکہ اس نے اصل نام چھپانے کی شرط عائد کی تھی)، کی داستان بیان کی گئی ہے۔

21 جنوری کو اس طالبعلم کو اس وقت شک ہوا ہے کہ وہ اس وائرس کا شکار ہوچکا ہے جب وہ بہت زیادہ کمزوری محسوس کرنے لگا، اس نے اپنا درجہ حرارت چیک کیا جو بڑھ چکا تھا۔

اس وقت تک کورونا وائرس کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی تھی، مگر انتظامیہ کی جانب سے تصدیق ہوچکی تھی کہ یہ مرض انسانوں کے درمیان تیزی سے پھیل رہا ہے۔

نصف شب کو ٹائیگر یائی ووہان کے ٹونگ جی ہسپتال پہنچا جہاں کے ویٹنگ روم میں اس جیسے افراد کا رش تھا اور طالبعلم کو معلوم تھا کہ اسے ٹیسٹ کے لیے گھنٹوں تک انتظار کرنا ہوگا۔

اس نے بتایا کہ 'میں خوفزدہ تھا، لاتعداد کیسز کا ڈیٹا میزوں پر اکٹھا ہورہا تھا اور ہر ڈاکٹر نے حفاظتی ملبوسات پہنے ہوئے تھے، ایسا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا'۔

اگلے 2 ہفتے سے زائد وقت تک اس طالبعلم کا وقت ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کے ساتھ گزرا، جس دوران وہ یہ تصدیق کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہوچکا ہے اور علامات کی شدت میں اضافے کا علاج کراسکے۔

وہ ان چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہے جو اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب رہا کیونکہ اس کے والد ایک ہیلتھ ورکر ہیں، جس کی وجہ سے اس نوجوان کو ووہان کی بیشتر آبادی سے پہلے اس کے خطرات کا علم ہوچکا تھا۔

چین کے صوبے ہوبے (ووہان اس کا صدر مقام ہے) میں اس وائرس سے اب تک ایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ ہسپتالوں میں بستروں، ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر بنیادی طبی آلات کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے متعدد افراد کو تشخیص کے عمل میں تاخیر کا سامنا ہوا۔

جس رات پہلی بار ٹائیگر یائی نے علاج کے حصول کی کوشش کی، وہ ایک چھوٹے ہسپتال سے ادویات کے حصول میں کامیاب رہا، چونکہ اس کی علامات بہت زیادہ شدید نہیں تھیں، تو ڈاکٹروں نے اسے گھر جا کر خود کو الگ تھلگ یا قرنطینہ میں رکھنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں : چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں 1665 تک پہنچ گئیں

بیماری کے ساتھ اگلے 4 دن بہت سخت ثابت ہوئے اور طالبعلم نے بتایا کہ 'مجھے تیز بخار اور پورے جسم میں شدید درد کا سامنا ہوا'۔

اس نے یہ دن جاپانی کارٹون دیکھتے ہوئے گزارے تاکہ ذہن کا دھیان تکلیف سے ہٹا سکے۔

4 دن بعد وہ دوبارہ ہسپتال پہنچا تو وائرس کے پھیلاﺅ کے اقدامات کیے جارہے تھے اور حالات اچانک بدل گئے تھے جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا تھا۔

اس وقت تک ٹائیگر یائی کی حالت زیادہ خراب ہوچکی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ 'میں ایسے کھانس رہا تھا جیسے میں مرنے والا ہوں'۔

ہسپتال میں متعدد سی ٹی ٹی اسکینز سے معلوم ہوا کہ یہ نوجوان نوول کورونا وائرس کا شکار ہوچکا ہے، جو اس کے پھیپھڑوں تک پھیل چکا ہے مگر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کا کیس اتنا سنگین نہیں کہ اس کا nucleic acid test (وائرس کا جینیاتی سیکونس استعمال کرکے متاثر ہونے کی تصدیق کرنے والا ٹیسٹ) کیا جائے، کیونکہ وہ ٹیسٹ کٹس کی کمی کے باعث انہیں زیادہ بیمار افراد کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔

چین میں گزشتہ ہفتے وائرس کی تشخیص کے طریقہ کار میں تبدیلی کرکے سی ٹی اسکین امیجنگ کے ذریعے یہ کام کرنا شروع کیا گیا۔

دوسری بار ہسپتال سے گھر واپسی پر بھی اس نوجوان کو معلوم نہیں تھا کہ وہ وائرس سے متاثر ہوا ہے یا نہیں، اس دوران اس کے بھائی اور دادی میں بھی انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے لگیں جبکہ راتوں رات ٹائیگر یائی کی علامات میں شدت بڑھنے لگی اور اسے لگا کہ وہ مرنے والا ہے۔

یہ نوجوان اس وقت ایک مرتبہ پھر ہسپتال واپس گیا جب اس کا درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے آئی وی ڈراپ اور Kaletra کا استعمال کرایا، یہ ایچ آئی وی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا امتزاج ہے جس کے استعمال سے وائرس سے مقابلے میں کچھ کامیابی ملی ہے۔

ان ادویات کے امتزاج کے استعمال سے ٹائیگر یائی کا درجہ حرارت کے اختتام تک 37 ڈگری تک گرگیا اور علامات ظاہر ہونے کے ایک ہفتے بعد نوجوان ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا۔

اس کی حالت میں مسلسل بہتری آتی رہی اور پھر اسے 29 جنوری کو آخر کار ٹیسٹ کٹ مل گئی، جس نے وائرس کی تصدیق کردی۔

ڈاکٹروں نے اسے اینٹی وائرل دوا Aluvia کی 5 روز کی مقدار دی اور اسے واپس گھر پر قرنطینے کے لیے بھیج دیا، کیونکہ ہسپتال میں اتنے بستر نہیں تھے، جہاں اسے رکھا جاسکتا۔

9 دن بعد 7 فروری کو ایک بار پھر nucleic acid test میں اس نوجوان میں وائرس کی موجودگی نیگیٹو ظاہر ہوئی مگر نوجوان کے لیے حالات میں تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ صحت یاب ہونے والے مریضوں میں شدید پریشانی اور اذیت کی رپورٹس کے باعث مقامی حکومت نے ٹائیگر یائی کو ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں ڈال دیا، جسے عارضی ہسپتال کا درجہ دیا گیا تھا۔

پولیس اس کے باہر تعینات تھی تاکہ کوئی بھی ہوٹل سے باہر نہ جاسکے یا داخل نہ ہوسکے۔

5 دن بعد اس نوجوان کو گھر جانے کی اجازت دی گئی اور 3 ہفتوں سے زائد دورانیے کا یہ بحران ختم ہوا۔

وہ ڈاکٹروں اور نرسز کو سیلوٹ کرتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر اس کی مدد کی، کچھ ڈاکٹروں نے اسے بتایا تھا کہ انہیں شک ہے کہ وہ خود وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، مگر پھر بھی مریضوں کا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔