سپریم کورٹ میں بیان: انور منصور اور فروغ نسیم کے ایک دوسرے پر الزامات

اپ ڈیٹ فروری 21 2020

ای میل

انور منصور خان اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
انور منصور خان اٹارنی جنرل کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان سے حکومت آگاہ تھی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’ نیوز آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انور منصور خان نے کہا کہ ہر کوئی جانتا تھا کہ میں کس حوالے سے بات کررہا تھا اور ہر کوئی جانتا تھا کہ میں نے کیا بیان دینا ہے لہذا یہ کہنا کہ میں نے ذاتی طور پر بیان دیا تو یہ غلط ہے۔

حکومت کی جانب سے استعفیٰ لیے جانے سے متعلق سوال پر انور منصور خان نے کہا کہ کوئی جو کہنا چاہے کہہ سکتا ہے، کیا میں ان سے ملا؟ کیا کسی نے مجھ سے بات کی یا آکر کہا ہے؟ اگر کسی نے مجھ سے آکر نہیں کہا، اطلاع نہ دی یا استعفیٰ نہیں مانگا تو یہ کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اٹارنی جنرل انور منصور خان اپنے عہدے سے مستعفی

تاہم اس حوالے سے آگاہ افراد کی شناخت ظاہر کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میرے لیے ان کی شناخت ظاہر کرنا بہت مشکل ہے، اگر میں یہ تفصیلات دینا چاہتا تو میں یہ پہلے ہی کرچکا ہوتا‘۔

انور منصور خان نے کہا کہ میرے لیے اداروں کی اقدار اور ان کی سالمیت بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دلائل کے دوران دیے گئے مذکورہ بیان سے دستبردار ہوگئے تھے۔

ججز اور عدلیہ کی جاسوسی سے متعلق سوال پر انور منصور خان نے کہا کہ یہ غلط ہے کسی صورت میں کوئی جاسوسی نہیں کی گئی، کسی کی جانب سے انفارمیشن دی گئی تھی اور میں یہی کہہ سکتا ہوں۔

انور منصور خان نے کہا کہ اگر مجھ سے استعفیٰ دینے کا کہا جاتا تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ مجھے قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے لیکن بعد میں جو باتیں ہوئی ہیں وہ البتہ مجھے کچھ عجیب سی لگی ہیں لیکن مجھے استعفیٰ دینے کا نہیں کہا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہر وکیل کی ایک حکمت عملی ہوتی ہے، میں اپنی اسٹرٹیجی سے چل رہا تھا اور عدالت چاہ رہی تھی کہ میں اس سے ہٹ کر کسی اور جانب آؤں جو میں کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی حکمت عملی سے دلائل دینے تھے میرا کیس بہت سادہ تھا کہ اس عدالت کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ ایک دفعہ سپریم جوڈیشل کونسل معاملہ اٹھالے تو پھر سپریم کورٹ دوبارہ اسی بات کو لے کر چلے۔

انور منصور خان نے کہا کہ یہ میری حکمت عملی تھی اگر ان کو پسند نہیں آئی تو وہ ان کی صوابدید ہے۔

عدالت میں دیے گئے متنازع بیان سے متعلق سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے پاس یہ اطلاع آئی تھی جو ظاہر ہے کہ متعلقہ حلقوں سے آئی تھی لیکن جب انفارمیشن دی جاتی ہے تو اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہم خاموش ہوکر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات مجھ سے شیئر کی گئی تھی لیکن خصوصی طور پر نہیں کہا گیا تھا، جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ پر تھا کہ اس انفارمیشن کو استعمال کریں یا نہیں تو انور منصور خان نے کہا کہ بالکل ایسا ہی تھا۔

نجی چینل اے آر وائے کے پروگرام پاور پلے سے گفتگو کرتے ہوئے لندن میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اثاثوں کی جاسوسی سے متعلق مشاورت کے سوال پر انور منصور خان نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کب شروع ہوا اور کیا باتیں ہوئیں۔

انور منصور خان نے کہا جب یہ بن گئی تھیں تو اس کا ڈرافٹ بننے کے بعد دائر کرنے سے ایک روز قبل میرے پاس آیا تھا اور مجھ سے پوچھا گیا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کی پیروی کروں گا یا نہیں تو میں نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل کی حیثیت سے میرا کام معاملے کو آگے بڑھانا ہے کیونکہ یہ اٹارنی جنرل کا فرض ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی مرحلے پر مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی بلکہ مجھے ایک ڈرافٹ دیا گیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ بطور اٹارنی جنرل میں اس کی پیروی کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس عیسیٰ کیس: 'اٹارنی جنرل اپنے بیان سے متعلق مواد دیں یا تحریری معافی مانگیں'

2 روز قبل سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان سے متعلق انور منصور خان نے کہا کہ ’یہ سب (وزارت قانون) موجود تھے، انہیں سب پتہ تھا اور ظاہر ہے جب پتہ تھا تو میں نے بیان دیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے سراہا بھی تھا کہ یہ بات ہوئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہم باہر نکلے ہیں میرے کمرے میں اس پر بات چیت ہوئی اور ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ آپ نے کیوں کہہ دیا یا کیسے کہہ دیا؟

انور منصور خان نے کہا کہ عدالت میں بیان دینے کے بعد جب میں ان سے ملا تو انہوں نے مجھ سے جو کہا یا جو میں نے ان سے کہا اس حوالے سے وزارت قانون کو واضح بتانا چاہیے۔

بیان دینے سے قبل معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سے تبادلہ خیال سے متعلق سوال پر سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل اس حوالے سے دونوں پر بات چیت ہوئی تھی لیکن وزیراعظم سے اس سلسلے میں کبھی بات نہیں ہوئی۔

تاہم انہوں نے معلومات کے ذرائع دینے سے انکار کردیا کہ اگر یہ مناسب ہوتا تو میں اس حوالے سے عدالت میں بھی بتادیتا۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے بیان دینے کی ہدایت نہیں دی تھی لیکن انہیں معلوم تھا کہ میں بیان دینے جارہا ہوں اور اس حوالے سے ہم تینوں ایک پیج پر تھے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے بیان دینے کے ارادے کی پیشگی اطلاع ہونے سے انکار کردیا۔

نجی چینل جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ یہ بالکل جھوٹ ہے، میں تو ان کی عزت کررہا ہوں ہر چینل میں ان کا دفاع کررہا ہوں اور اب یہ اس طرح کی بات کررہے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ صرف انور منصور کی دلیل اور اختراع تھی اس سے نہ تو حکومت کا کوئی تعلق ہے نہ ہمیں اس بارے میں کچھ پتہ تھا، اگر حکومت کو حقیقت میں علم ہوتا کہ وہ کیا کہنے والے ہیں تو کیا ہم انہیں کہنے دیتے؟

انہوں نے کہا کہ عدالت میں کوئی وکیل دلائل دے رہا ہوتا ہے تو وہ ایسا دوسروں سے مشورہ کیے بغیر کرتے ہیں، ہم مداخلت نہیں کرسکتے تھے اور جب ہم نے سنا ہمیں دھچکا لگا تھا، شروع میں تو ہم ان کے دلائل سمجھے بھی نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز ریفرنس: ناخوشگوار انداز میں اٹارنی جنرل کے دلائل کا آغاز

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ عدالتی بینچ نے انور منصور خان سے کافی پوچھ گچھ کی اور وہ اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سابق اٹارنی جنرل اپنے بیان سے خود دستبردار ہوئے تھے ہم نے انہیں ایسی کوئی ہدایات نہیں دیں تھیں، میں وہاں وزیر قانون کی حیثیت سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت سے موجود تھا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ یہ کوئی طے شدہ نہیں تھا کسی کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جبکہ کیس میں ان کی کارکردگی بہت خراب تھی ججز نے کہا تھا کہ آپ کی تیاری نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 'متنازع بیان' دینے کے بعد انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردہ استعفے میں انہوں نے کہا کہ ’میں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان بار کونسل جس کا میں چیئرمین ہوں، نے 19 فروری 2020 کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ میں اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفٰی دے دوں‘۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل کے بیان پر وفاقی حکومت کی طرف سے محکمہ قانون و انصاف کے سیکریٹری محمد خشیش الرحمٰن نے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا تھا کہ 18 فروری 2020 کو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے مذکورہ بینچ کے سامنے زبانی بیان دیا جو غیر مجاز اور وفاق حکومت کی ہدایت اور علم میں لائے بغیر تھا اور جواب دہندگان اسے مکمل طور پر بلاجواز سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی انتہائی عزت و احترام کرتے ہیں، لہٰذا وفاقی حکومت اور جواب دہندہ خود اٹارنی جنرل کے مذکورہ بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان قانون، آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

استعفے کا پس منظر

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے۔

اس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر کے وکیل اپنے دلائل دے چکے ہیں اور اب حکومتی مؤقف کے لیے اٹارنی جنرل کو دلائل دینے تھے، جس پر انہوں نے 18 فروری کو اپنے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلاجواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔

اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔

اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا کہ جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلاجواز' تھا۔

ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔

تاہم اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا جس کے ساتھ ہی عدالت نے میڈیا کو بیان شائع کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ بعدازاں یہ رپورٹ ہوا تھا کہ ’اٹارنی جنرل اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے تھے‘۔

بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔

اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔