کیا چہرے سے جذبات پڑھنا ممکن ہوتا ہے؟

22 فروری 2020

ای میل

یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کیا آپ لوگوں کے چہرے کو دیکھ کر ان کے جذبات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو ایسا کرنا چھوڑ دیں کیونکہ یہ حماقت سے کم نہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چہرے کے تاثرات ممکنہ طور پر جذبات کا اندازہ لگانے کے لیے قابل اعتبار ذریعہ نہیں بلکہ زیادہ درست یہ کہنا ہوگا کہ کسی فرد کے چہرے پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔

جیسا آپ خود جانتے ہیں کہ ہم چہرے پر مسکراہٹ کو خوشی جبکہ تناﺅ کو اداسی یا غصے سے جوڑتے ہیں اور اس کے مطابق ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمارا سوال یہ تھا کہ کیا ہم واقعی جذبات کو چہرے کے تاثرات سے بھانپ سکتے ہیں؟ اور جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ نہیں، آپ نہیں بھانپ سکتے۔

محقین نے ایسے کمپیوٹر الگورتھم تیار کیے جو چہرے کے تاثرات کا تجزیہ کرسکتے تھے اور چہرے کے مسئلز کی حرکت کا موازنہ اس فرد کے جذبات سے کرتے تھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ چہرے کے تاثرات سے جذبات کو بھانپنا یا تعین کرنا لگ بھگ ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہر ایک حالات کے تناظر اور ثقافتی پس منظر کے تحت چہرے کے مختلف تاثرات ظاہر کرتا ہے اور یہ احساس کرنا اہم ہے کہ ہر وہ فرد جو مسکرا رہا ہے، ضروری نہیں خوش ہو، ہر مسکراہٹ خوشی کی مسکراہٹ نہیں ہوتی، بلکہ ہم تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسے افراد جو مسکراتے نہیں، ضروریو نہیں کہ ناخوش ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بھی درست ہے کہ کئی بار لوگوں کی مسکراہٹ سماجی دباﺅ کا نتیجہ ہوتی ہے جو کہ بنیادی طور پر کوئی مسئلہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ افراد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چہرہ دیکھ کر پکڑ سکتے ہیں کہ کسی نے جرم کیا ہے یا نہیں، یا طالبعلم کلاس پر توجہ مرکوز کررہے ہیں یا نہیں، ہماری تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس طرح کا دعویٰ مکمل طور پر غلط ہوتا ہے، ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے آپ اس طرح کے معاملات کا تعین کرسکیں، کیونکہ یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔

ان کے بقول چہرے کے تاثرات سے دھوکا کھا کر لوگ دوسرے فرد کے حقیقی جذبات یا ارادے کو جان نہیں پاتے اور ہوسکتا ہے کہ اس فرد کے مستقبل یا اہلیت کے بارے میں غلط فیصلے کردیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب آپ کو کسی جذبے کے تجربے کا سامنا ہوتا ہے تو ہمارا دماغ ایسے ہارمونز خارج کرتا ہے جو دوران خون اور خون کے اجتماع کو بدل دیتے ہیں اور اس عمل کے دوران چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے، یعنی چہرے کی رنگت اس حوالے سے جاننے میں مدد دے سکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جسم بھی اشارے دیتا ہے جیسے جسم کا انداز یا پوز اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔