لندن: خاتون کا چرچ میں بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کا اعتراف

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

36 سالہ خاتون صفیہ شیخ — فوٹو: ڈان
36 سالہ خاتون صفیہ شیخ — فوٹو: ڈان

لندن: پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خاتون نے 2 دہشت گردی کے جرائم کا اعتراف کیا ہے جس میں سینٹ پال کیتھیڈرل چرچ پر بم حملے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 36 سالہ صفیہ شیخ کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے اور 11 مئی کو اولڈ بیلے عدالت میں انہیں سزا سنائی جائے گی۔

گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں ان پر دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا جس میں کسی ایسے شخص سے رابطہ کیا جانا بھی شامل تھا جو ان کے مطابق ان کی دھماکا خیز مواد کی تیاری میں مدد کرسکتا تھا۔

مزید پڑھیں: لندن میں چاقو حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

الزامات میں بتایا گیا کہ مذکورہ خاتون نے دھماکا خیز مواد کے لیے ایک ہوٹل کو ہدف کے طور پر منتخب کیا اور پھر دوسرے بم دھماکے کے لیے سینٹ پال چرچ کا انتخاب کیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے داعش سے بیعت کے لیے خطوط بھی لکھے تھے جبکہ پولیس کے مطابق ان پر دوسرا الزام دہشت گردی پر اکسانے پر مبنی مواد کو پھیلانے کا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 2 فروری کو لندن میں چاقو زنی کے واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لندن: پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک، واقعہ دہشت گردی قرار

20 سالہ نوجوان نے جعلی خود کش جیکٹ پہنی ہوئی تھی جسے لندن کی مصروف شاہراہ ساؤتھ اسٹریٹ پر 2 افراد کو چاقو سے زخمی کرنے پر پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

مذکورہ شخص اس سے قبل کیے گئے دہشت گردی کے جرم کی سزا کاٹ کر کچھ عرصہ قبل ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔

داعش کے پروپیگنڈا دھڑے نے حملہ آور کو ’داعش کا جنگجو‘ قرار دیا تھا اور کہا کہ ’اس نے یہ حملہ شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑنے والے عالمی اتحاد میں شامل ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کال کے جواب میں کیا'۔