مسئلہ کشمیر، یورپی یونین کی 2020 کی ترجیحات میں شامل نہیں

اپ ڈیٹ 23 فروری 2020

ای میل

گزشتہ برس اگست میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی
گزشتہ برس اگست میں بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم اور ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافیوں جیسے اہم ترین معاملات یورپی یونین کی 2020 کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

پاکستان کے زیادہ تر سماجی رہنما یورپی یونین کے اس عمل کو ’دغلے پن اور دوہرے معیار‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یورپی یونین (ای یو) کی کونسل آف دی یورپین یونین نے رواں ماہ 17 فروری کو ایک اہم اجلاس کے دوران رواں سال کی اپنی ترجیحات کی فہرست ترتیب دیں، یہ کونسل تمام ممبر ممالک کے حکومتی عہدیداروں پر مشتمل ہوتی ہے اور اسے یورپین یونین کے خارجہ پالیسی، تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق فیصلے کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

مذکورہ فہرست کی رپورٹ کونسل کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کے نتائج پر مشتمل ہے جس میں کونسل کی جانب سے رواں سال کیے جانے والے اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 6 مظاہرین شہید، 100 زخمی

ان اقدامات میں انسانی حقوق کی تعمیل کو یقینی بنانے سمیت جہاں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اس کی مذمت کرنے سمیت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیشن کی حمایت کرنا شامل ہے۔

علاوہ ازیں کونسل کی مذکورہ فہرست میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ سے ہر طرح کا غیر مشروط تعاون کریں گے اور وہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کو اپنے علاقوں یہاں تک کے متنازع علاقوں تک بھی رسائی دیں گے۔

اس فہرست میں کئی اہم ترجیحات کو شامل کیا گیا ہے جن میں جنسی اور صنفی تشدد، ماحولیاتی تبدیلی، جدید ٹیکنالوجی کے مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، سزائے موت، تشدد، اذیت ناک سزاؤں اور تضحیک آمیز رویوں پر نظر رکھنا، جمہوریت و قانون کی پاسداری، اظہار رائے کی آزادی، ہر طرح کے امتیازی سلوک، اقلیتوں و بچوں کے حقوق اور دہشت گردی جیسے مسائل پر نظر رکھنے کی ترجیحات بھی شامل ہیں۔

اس فہرست میں اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تحقیقات و عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے تحفظ، سمیت مہاجرین و اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کے مسائل کو دیکھے جانے سمیت اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق اور کاروبار سے متعلق اصولوں کے تحت کام کرنے والے مسائل جیسی ترجیحات شامل ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں کونسل کی جانب سے متعدد ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیے جانے سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی فورسز کے سامنے کشمیریوں کے آزادی کے نعرے

اگرچہ رپورٹ میں کئی ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرنے سمیت انہیں حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور رپورٹ سے عندیہ ملتا ہے کہ کس طرح کونسل نے اچھا کام کیا ہے تاہم رپورٹ سے بھی یہ واضح ہوتا کہ کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش بھارت جیسے ممالک کو نظر انداز کردیا ہے۔

گزشتہ چند سال میں مودی حکومت کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں واضح طور پر اضافہ دیکھا گیا اور متعدد عالمی تنظیموں کی رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ وہاں انسانی حقوق کے کارکنان، سماجی رہنماؤں اور صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں جہاں بھارتی فوج کئی دہائیوں سے غیر انسانی مظالم میں ملوث ہے اور وہ بغاوت کو کچلنے کے لیے بے دردی سے طاقت کا استعمال اور یہاں تک کہ وہاں پیلٹ گنوں کا بھی استعمال کررہی ہے، وہیں مودی سرکار نے گزشتہ برس 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کیا اور وادی میں 200 سے زائد دنوں سے کرفیو نافذ ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کمشنر نے گزشتہ برس مسلسل دوسرے سال میں بھی وادی کشمیر میں بھارتی فوج کی انسانی حقوق کی پامالیوں اور مظالم پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ساتھ ہی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ وادی میں بھارتی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال سے عام شہری ہلاک ہوئے جب کہ وہاں من مانی نظربندی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے تفریق پر مبنی قانون نافذ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2 منٹ کی فون کال کیلئے مقبوضہ کشمیر میں طویل قطاریں

حیران کن بات یہ ہے کہ یورپین کونسل کی جانب سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر سے تعاون کرنے سمیت کونسل نے اپنی رپورٹ میں وادی کشمیر کو انتہائی اہم نہیں سمجھا اور وہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کردیا۔

یورپین کونسل کا یہی دوہرا معیار اسے اخلاقی طور پر غیر اہم کونسل قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

اسی حوالے سے ڈان سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ کئی ممالک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں مسائل ہیں، تاہم وہ اپنے تجارتی اور اقتصادی مقاصد کے لیے اس معاملے پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر دنیا کے کئی پارلیمنٹ بشمول یورپین یونین، برطانیہ کا ہاؤس آف کامن اور امریکی کانگریس بھی مسئلہ کشمیر پر بات کر چکا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر بھی اہم ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری یورپین کونسل کے ’2020 کے ایجنڈے‘ کو منافقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ ’یورپین کونسل مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور ہندوستان میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے فاشسٹ مظالم کو بیان کرنے میں مکمل ناکام گئی ہے۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اگرچہ یورپین کونسل میں تشدد کا ذکر کیا گیا ہے تاہم افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس میں بھارت کی جانب سے وادی میں ڈھائے جانے والے مظالم اور متنازع شہریت قانون پر ہونے والے مظاہریں پر کیے جانے والے تشدد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ رپورٹ میں پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے مگر بھارت کا نہیں کیا گیا۔


یہ رپورٹ 23 فروری 2020 کو ڈان میں شائع ہوئی۔