زیادہ تر دہشت گرد ’مسلمان‘ ہوتے ہیں، سربراہ آئرش ایئرلائن کی ہرزہ سرائی

23 فروری 2020

ای میل

ائرش ایئرلائن کے سربراہ کے مطابق اکیلے سفر کرنے والے مرد مسلمان خطرہ ہوتے ہیں — فائل فوٹو: اے پی
ائرش ایئرلائن کے سربراہ کے مطابق اکیلے سفر کرنے والے مرد مسلمان خطرہ ہوتے ہیں — فائل فوٹو: اے پی

مغربی ممالک اور خاص طور پر یورپی ممالک کی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اس کا تازہ ثبوت جمہوریہ آئرلینڈ کی معروف فضائی کمپنی ’رایان ایئر‘ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کا حالیہ مسلم مخالف بیان ہے۔

رایان ایئر کے سی ای او مائیکل او لیرے نے تازہ انٹرویو میں مسلم مخالف بیان دیتے ہوئے یورپی ایئرپورٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی سخت چیکنگ کرنے سمیت ان کی کڑی نگرانی کی جائے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق مائیکل او لیرے نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں متنازع بیان دیا اور کہا کہ ’زیادہ تر دہشت گرد مسلمان ہی ہوتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: 19 گھنٹے کی دنیا کی طویل ترین پرواز

مائیکل او لیرے نے ایئرپورٹ حکام سے تنہا سفر کرنے والے مرد مسلمانوں کی سخت نگرانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جان لیں کہ اگر کوئی بھی مسلمان تنہا سفر کر رہا ہے تو وہ خطرناک ہے لیکن اگر اس کے ساتھ اہل خانہ بھی ہے تو اس کی جانب سے حملے کرنے کے امکانات صفر ہوتے ہیں'۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’خود کش حملہ آور کون ہوتے ہیں؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مسلمان ہی یہ کام کرتے ہیں اور اگر کوئی مرد مسلمان اکیلا سفر کر رہا ہے تو اس کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے'۔

فضائی کمپنی نے سی ای او کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنایا—فوٹو: رایان ایئر
فضائی کمپنی نے سی ای او کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنایا—فوٹو: رایان ایئر

انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مسلمانوں کو دہشت گرد کہیں گے تو ان کے بیان کو انتہا پسندانہ اور نفرت پر مبنی قرار دیا جائے گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر دہشت گرد مسلمان ہی ہوتے ہیں۔

انہوں نے مثال دی کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے 30 سال قبل آئرش لوگوں کے حوالے سے یہی خیال ظاہر کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں: 2019 کی دنیا کی سب سے بہترین فضائی کمپنی

رایان ایئر کے سی ای او کی جانب سے متنازع اور قابل نفرت بیان دیے جانے کے بعد برطانیہ کی مسلمان تنظیموں نے ان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت انگیز قرار دیا ہے۔

مائیکل او لیرے کو مسلمان مخالف بیان دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد فضائی کمپنی کی جانب سے ایک وضاحتی بیان بھی جاری کیا گیا۔

رایان ایئر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مائیکل او لیرے نے کسی ایک گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بات نہیں کی، انہوں نے مسلم مخالف بیان نہیں دیا بلکہ مجموعی طور پر ایئرپورٹس پر بہتر سیکیورٹی انتطامات کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ رایان ایئر کا شمار دنیا کی سستی ترین فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے، یہ کمپنی یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے 40 سے زائد ممالک میں سروس فراہم کرتی ہے۔

اندازے کے مطابق یہ کمپنی سالانہ 20 کروڑ مسافروں کو ایک سے دوسری جگہ پہنچاتی ہے اور یہ کمپنی یورپ میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فضائی کمپنیوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔