لکھنؤ یونیورسٹی میں حاملہ خواتین کے لباس، رویوں سے متعلق تعلیم دی جائے گی

اپ ڈیٹ 23 فروری 2020

ای میل

یونیورسٹی طلبہ نے بھی کورس کا خیر مقدم کیا ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک
یونیورسٹی طلبہ نے بھی کورس کا خیر مقدم کیا ہے — فوٹو: شٹر اسٹاک

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی معروف ’لکھنؤ یونیورسٹی‘ نئے تعلیمی سال سے ایک نیا اور اہم کورس پڑھانے جا رہی ہے۔

لکھنؤ یونیورسٹی نئے سال سے لڑکوں اور لڑکیوں کو ’گربھ سنسکار‘ نامی ایک منفرد تعلیمی کورس پڑھانا شروع کرے گی، جس میں طلبہ کو حاملہ خواتین کی صحت سے متعلق پیچیدگیوں سمیت ان کی صحت کے حوالے سے پڑھایا جائے گا۔

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے خبر رساں ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئے تعلیمی سال سے یونیورسٹی ’گربھ سنسکار‘ نامی نیا تعلیمی کورس پڑھانا شروع کرے گی۔

یونیورسٹی کے ترجمان نے نئے کورس کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ سال اترپردیش کی خاتون گورنر آنندیبن پٹیل نے یونیورسٹی انتطامیہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ لڑکیوں کو حمل اور مستقبل میں ماں بننے کے سنسکار اور اس کی اہمیت سے متعلق بھی تعلیم دے۔

آنندیبن پٹیل گورنر ہونے کی حیثیت سے یونیورسٹی کی چانسلر بھی ہیں اور ان کی تجویز کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی نے ’گربھ سنسکار‘ کا نیا تعلیمی کورس ترتیب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اکثر خواتین سرد موسم میں حاملہ کیوں ہوتی ہیں؟

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ ’گربھ سنسکار‘ کے دوران طلبہ کو حاملہ خواتین سے متعلق ہر طرح کی تعلیم دے گی۔

کورس کے دوران طلبہ کو پڑھایا جائے گا کہ حاملہ خاتون کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے، اسے کس طرح کی غذائیں کھانی چاہیے، وہ کیسے اپنے پیٹ میں پلنے والے بچے کا خیال رکھ سکتی ہیں اور کس طرح وہ خود کو صحت مند اور پرکشش رکھ سکتی ہیں۔

’گربھ سنسکار‘ کا نیا کورس متعارف کرائے جانے پر نوجوان طلبہ نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور اس کورس کو مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

طلبہ کے مطابق ’گربھ سنسکار‘ کورس کے باعث نئی نسل کو اپنے مستقبل کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوگی اور آنے والی نسل صحت مند پیدا ہوگی۔

یونیورسٹی کے مطابق ’گربھ سنسکار‘ میں لڑکیوں سمیت لڑکے بھی داخلے کے اہل ہیں۔

یونیورسٹی جہاں اس کورس کے ذریعے نئی نسل کو تعلیم دے گی، وہیں یونیورسٹی کورس کے مطابق ’گربھ‘ سے متعلق سیمینارز کا انعقاد بھی کرے گی۔