کابینہ نے صحافیوں کے تحفظ کا بل منظوری سے روک دیا

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

بل گزشتہ 2 دہائیوں میں درجنوں صحافیوں کے قتل، اغوا، تشدد کے سلسلے کے خلاف تیار کیا گیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
بل گزشتہ 2 دہائیوں میں درجنوں صحافیوں کے قتل، اغوا، تشدد کے سلسلے کے خلاف تیار کیا گیا—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے تیار کردہ ایک جامع بل کے مسودے کی باضابطہ منظوری روک دی۔

مذکورہ بل کا مقصد ’صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے آزادی اظہار، تحفظ، آزادی، غیر جانبداری کو فروغ دینا اور موثر طریقے سے یقینی بنانا ہے‘۔

تاہم کابینہ نے اس بل کو وزارت اطلاعات کے تیار کردہ پہلے بل کے ساتھ یکجا کرنے اور ضروری تبدیلیوں اور ایک واحد بل کی شکل میں ڈھالنے کے لیے انہیں وزارت قانون بھجوانے کی ’اصولی‘ منظوری دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بل کا مسودہ دیکھنے والے سینئر ایڈیٹرز اور میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صحافیوں کے تحفظ اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی تفصیلی قانون سازیوں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ پراسرار، نامعلوم عناصر سے ہے، سی پی این ای

تاہم 2 بلز کو یکجا کرنے کے بعد وزارت قانون اسے حتمی شکل دے گی جس کی وجہ سے اس کے قانون بننے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

کابینہ سے منظوری کے بعد بل کا مسودہ پارلیمان بھجوایا جائے گا جہاں سے پاس ہونے کے بعد یہ صدر کی باضابطہ اجازت سے قانون بن جائے گا۔

اس ضمن میں ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تسلیم کیا کہ صحافیوں کو ہراساں کیے جانے، اغوا، دھمکیوں اور اذیتوں کے خلاف ضروری سیکیورٹی فراہم کرنے میں اب بھی وقت لگے گا۔

وزارت اطلاعات کے تیار کردہ مسودے میں زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز اور وزارت داخلہ، خزانہ اور صحت کی آرا شامل ہیں جبکہ مسودہ وزارت انسانی حقوق نے تیار کیا ہے، جس میں بین الاقوامی قوانین اور اس سلسلے میں پاکستان نے جن کنوینشنز پر دستخط کیے ان کے حوالہ جات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں صحافیوں پر تشدد کا خاتمہ کیسے ممکن؟

مذکورہ بل گزشتہ 2 دہائیوں میں درجنوں صحافیوں کے قتل، اغوا، تشدد کے سلسلے کے خلاف تیار کیا گیا جو ملک میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنٰی کی روایت کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اس بارے میں صحافتی یونینز کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں 70 صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کیا جاچکا ہے لیکن اب تک صرف 3 کیسز حل ہوئے باقی تمام کے مجرمان فرار ہیں۔

قتل کے ساتھ صحافیوں کو عوام تک معلومات پہنچانے کی ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو انجام دینے سے روکنے کے لیے تقریباً روزانہ دھمکیوں اور ڈرانے کے واقعات ہوتے ہیں۔

دوسری جانب وزرت اطلاعات کے تیار کردہ مسودے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے حکومتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ بل کے آغاز میں ہی کہا گیا کہ ’حکومت آئین کی دفعہ 9 کے مطابق ہر صحافی اور میڈیا پروفیشنل کے حقِ زندگی اور شخصی سلامتی کو یقینی بنائے گی اور یہ کہ ایسے کسی شخص کو ناروا سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے'۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019 بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کیلئے پریشان کن رہا!

خیال رہے کہ دونوں بلز میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے لیے آزاد کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا کوئی ایسا شخص ہوگا جو قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے معاملات کی خاصی معلومات اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔

مجوزہ قانون ’جبری یا رضاکارانہ گمشدگی، اغوا، قید یا دباؤ کے دیگر طریقوں‘ کے خلاف تحفظ کو یقینی بنائے گا اور ملک میں تنازع کا شکار علاقوں میں کسی دھمکی، ہراسانی یا حملے کے خوف کے بغیر صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کی ضمانت دے گا۔

علاوہ ازیں وزارت انسانی حقوق اور اطلاعات و نشریات نے صحافیوں کی بہبود کے لیے اسکیم اور معاندانہ ماحول میں کام کرنے کے لیے ان کی سلامتی اور حفاظت یقینی بنانے کی خاطر صحافیوں کو صحت اور سیفٹی پروٹوکول کے ساتھ تربیت دینے کی تجویز دی ہے۔