آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ پراسرار، نامعلوم عناصر سے ہے، سی پی این ای

اپ ڈیٹ جنوری 20 2020

ای میل

2019 میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم 7 صحافیوں کو قتل کیا گیا —تصویر: شٹر اسٹاک
2019 میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم 7 صحافیوں کو قتل کیا گیا —تصویر: شٹر اسٹاک

اسلام آباد: پاکستان میں میڈیا کو سخت دباؤ کا سامنا ہے اور گزشتہ برس کم از کم 7 صحافی ہلاک اور انسداد دہشت گردی اور دیگر قوانین کے تحت 60 صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی پاکستان میں میڈیا کی آزادی 2019 سے متعلق رپورٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حالانکہ آئین کی دفعہ 19 اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ آزاد میڈیا اور آزادی اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے لیکن پاکستان میں میڈیا گزشتہ برس کے دوران بھی سخت دھمکیوں کی زد میں رہا۔

اور مزید یہ کہ ہتک عزت کے حوالے سے مخصوص قانون موجود ہے حکومت اور دیگر عناصر نے میڈیا میں کام کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)، برقی جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) اور پاکستان پینل کوڈ (جرائم) کی دفعات کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019 بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کیلئے پریشان کن رہا!

رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر ان کیسز کے متاثرہ افراد کی تعداد اور واقعات کے تسلسل نے ملک میں میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار کا مذاق اڑایا۔

رپورٹ میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

رپورٹ میں صحافی چوہدری نصراللہ کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک صحافی کو 5 سال قید کی سزا دے کر ملک میں ممنوع مواد رکھنے پر پہلی مرتبہ سزا دی گئی۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم 7 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

ان 7 مقتول صحافیوں میں سے 5 عروج اقبال، مرزا وسیم بیگ، محمد بلال خان، علی شیر راجپر اور ملک امان اللہ خان شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈان دفتر کے گھیراؤ کےخلاف صحافیوں کا مختلف شہروں میں احتجاج

رپورٹ کے مطابق آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ پراسرار اور نامعلوم عناصر سے ہے، جس میں غیر ریاستی عناصر اور کالعدم عسکری گروہوں کی جانب سے صحافیوں کی جانوں کو خطرہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ میڈیا پر حملہ کرنے والوں کے لیے غیر اعلانیہ استثنیٰ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا کے کارکنان کا کوئی ایک قاتل یا حملہ کرنے والا انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا۔

سی پی این ای کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سائبر قانون پیکا 2016 سائبر جرائم اور خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے سے متعلق ہے جس کا استعمال صحافیوں اور میڈیا کے خلاف نہیں کیا جائے گا لیکن اس کے برعکس یہ قانون ایک طرح سے میڈیا اور آزادی اظہار کے خلاف استعمال کیا گیا۔

میڈیا پر حملے

رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈان اخبار کی کئی رپورٹس، ملک کے کچھ 'گروہوں' کے لیے بہتر نہیں تھیں اس لیے 2019 میں متعدد مرتبہ ڈان کے دفاتر پر حملہ کیا گیا، مشتعل ہجوم نے اسلام آباد میں ڈان کے دفاتر کا گھیراؤ کیا اور اخبار کی انتظامیہ اور مدیر ظفر عباس کے خلاف غیر مہذبانہ زبان کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ہفتے میں دوسری بار ڈان اخبار کے اسلام آباد بیورو کا گھیراؤ

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے سی پی این سی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2019 میں پیمرا نے نہ صرف ٹیلی ویژن چیننلز کو نوٹسز بھیجے بلکہ کچھ اینکر پرسنز کو ٹاک شو میں اپنی رائے دینے سے بھی روکا۔

اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق میڈیا کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کے معاملے پر بھی گفتگو نہ کرنے کا حکم دیا گیا، مزید یہ کہ ٹی وی چیننلز کو مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی پریس کانفرنس کو لائیو ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی اور عملدرآمد نہ کرنے پر 21 ٹی وی چینلز کو نوٹسز بھیجے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 2019 میں 60 صحافیوں کو بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، پولیس مقابلے، قتل کی کوشش اور بلیک میلنگ وغیرہ کے الزامات پر مقدمات میں نامزد کیا گیا۔

تاہم ان صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں حکام کے خلاف غیر جانبدار رپورٹنگ پر نشانہ بنایا گیا۔