سپریم کورٹ: رجسٹرار آفس کے اعتراض کیخلاف مشرف کی اپیل پر 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے چیمبر میں پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کا موقف سننے کے بعد اپیل کو بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے چیمبر میں پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کا موقف سننے کے بعد اپیل کو بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کے خلاف سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی درخواست کو بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پرویز مشرف کی جانب سے سنگین غداری کیس میں 17 دسمبر کے فیصلے کو کالعد قرار دینے کے لیے دائر کی گئی اپیل پر رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھا دیا تھا۔

بینچ کے سامنے معاملے کو مقرر کرنے کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے چیمبر میں پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کا موقف سننے کے بعد کیا، جس پر سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض کےخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

واضح رہے کہ 18 جنوری کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی اپیل کو اس بات پر واپس کردیا تھا کہ درخواستگزار جب تک سرینڈر نہیں کرتے ان کی درخواست کو نہیں سنا جائے گا۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ملک کے سابق فوجی سربراہ اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ قوانین 1980 کے رول 8، آرڈر 23 عدالت عظمیٰ کو اختیار دیتا ہے کہ ملزم کے حکام کے سامنے سرینڈر کرنے تک وہ درخواست کو منظور نہ کرے۔

تاہم جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی اپیل میں عدالت عظمیٰ سے اپنی سزا ختم کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ 'ٹرائل کو آئین اور کرمنل پروسیجر کوڈ 1898 کے خلاف مکمل کیا گیا تھا'۔

اپیل میں کہا گیا کہ درخواست گزار کا کیس صرف یہ تھا کہ ان کے خلاف آئینی جرم کا ٹرائل بالکل غیر آئینی طریقے سے کیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پاک فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے اور ملک کی خدمت میں ان کا بہت اہم کردار رہا، انہوں نے 43 سال تک فوجی افسر کے طور پر ایمانداری اور محنت سے خدمات انجام دیں اور اہم ترین عہدے تک پہنچے۔

مذکورہ اپیل کے مطابق پرویز مشرف نے 13ویں چیف آف آرمی اسٹاف کا منصب اکتوبر 1998 سے نومبر 2007 تک سنبھالا تھا اور 1998 سے 2001 تک وہ 10ویں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بھی رہے جبکہ 2001 سے 2008 تک پاکستان کے 10ویں صدر مملکت کے منصب پر بھی فائز رہے۔

یہ بھی پڑھیں: مدعی پہلے خود پیش ہو، سزائے موت کے خلاف مشرف کی اپیل پر سپریم کورٹ کا اعتراض

اپیل میں کہا گیا تھا کہ 'ملک کے صدر ہونے کے ناطے پرویز مشرف نے 1990 میں تباہ ہونے والی معیشت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی پالیسیوں نے تقریباً بحران کا سامنا کرنے والی معیشت کو بدل کر ایشیا کی چوتھی تیزی سے بڑھنے والی معیشت بنایا تھا'۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔

جس کے بعد 19 دسمبر کو اس کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں 27 دسمبر کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے چیلنج کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 13 جنوری کو فیصلہ سناتے ہوئے پرویز مشرف کو سنگین غداری کے جرم میں سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔