ٹین ایجر بچوں کی ضد اور باغیانہ رویوں سے کیسے بچا جائے؟

01 اپريل 2020

ای میل

ٹین ایجر بچوں سے غصے سے پیش آنا خطرناک ہو سکتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک
ٹین ایجر بچوں سے غصے سے پیش آنا خطرناک ہو سکتا ہے—فوٹو: شٹر اسٹاک

'بیٹا اب نہ میری سنتا ہے نہ اپنی ماں کی بلکہ بد تمیزی پر اتر آتا ہے, آوارہ گردی، وقت ضائع کرنے اور لڑکیوں کے پیچھے بھاگنے کے علاوہ اسے کچھ سوجھتا ہی نہیں،' ایک ٹین ایجر لڑکے کے والد نے بیٹے کی شکایت کرتے ہوئے کاؤنسلنگ ماہر کو بتایا۔

ٹین ایجر لڑکے کے والد صاحب کے بالوں سے سفیدی جھلکنا شروع ہو گئی تھی اور وہ اپنی بڑھتی عمر اور بیٹے کے بگڑتے رویے سے پریشان تھے اور اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بچوں کے رویوں سے متعلق کاؤنسلنگ کرنے والے شخص کے پاس پہنچے ہوئے تھے۔

کاؤنسلر نے پوچھا کہ آپ کی بیگم یعنی لڑکے کی والدہ کی گھر کے کام کے علاوہ اور کوئی مصروفیات ہیں؟ جن پر انہوں نے بتایا کہ وہ سوشل ورکر ہیں، یوں والد صاحب کا وقت نوکری میں اور والدہ کا وقت سماجی معاملات میں گزرتا رہا اور بیٹے کو اپنے جذبات، مشکلات اور ایشوز کی کمیونیکیشن کے لیے دونوں میں سے کوئی میسر نہیں تھا، دوست، میڈیا اور موبائل فون ہی اس کی جائے پناہ تھے اور وہی رفتہ رفتہ والدین کا متبادل بھی بن گئے، جس وجہ سے اب بیٹے کے باغیانہ رویے نے دونوں والدین کو پریشان کر دیا ہے اور وہ اس مشکل سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

یاد رکھیں کہ عام طور پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹین ایج یا بڑھتی عمر کے بچوں پر یہ مرحلہ آتا ہے جب وہ خود کو والدین سے دور رکھنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں، کبھی والدین کی لا پروائی اور عدم توجہ پر تو کبھی اپنے تبدیل ہوتے جذبات و احساسات کے نتیجے میں مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ والدین اپنی توجہ، محبت اور وقت کا بہترین حصہ ان کے لیے وقف کردیں۔

والدین کے پاس بھی یہ آخری موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے تعلقات کو ہمیشہ کے لیے بنالیں یا ہمیشہ کے لیے بگاڑ دیں، ہم اس بار آپ کو ایسے ہی وقت میں اپنے بچوں سے تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے چند مفید باتیں بتانے جا رہے ہیں۔

یاد رکھیں کہ بچوں سے مسلسل کمیونیکیشن ہی ان کی شخصیت کو بہتر بنانے کی واحد طاقت ہے کیوں کہ ٹین ایج زندگی کے سب سے زیادہ جذباتی اور الجھاؤ والا حصہ ہوتا ہے، اس لیے عمر کے اس حصے میں والدین کی طرف سے پیش قدمی، مسلسل کمیونیکیشن اور جذبات کو سلجھانے والے الفاظ بچوں کی زندگی کو معیاری بنا سکتے ہیں۔

ٹین ایج بچے سے بہتر کمیونیکیشن کے لیے والدین بہت سی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں، تاہم یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ بڑھتی عمر میں بچوں اور والدین کے درمیان بات چیت کا دورانیہ کم ہونا فطری ہوتا ہے اور صرف آپ ہی نہیں بلکہ بہت سے والدین اس صورتحال سے گزر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن ٹیج ایج میں بچوں کے ساتھ کمیونیکیشن کو مسلسل اور مؤثر بنانے کے لیے والدین درج ذیل حکمت عملیاں استعمال کر سکتے ہیں۔

بھرپور توجہ دینا ۔

بچوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ بھرپور توجہ سے ان کی بات سنیں اور ان کے ساتھ بات کریں، ان کا جذباتی ریڈار فورا اس بات کو جان لے گا کہ آپ 'واقعی' ان کی بات سن رہے ہیں یا صرف سر ہلا کر بات سننے کی اداکاری کر رہے ہیں۔

اپنی توجہ کو بچوں کی طرف پوری طرح مرکوز کرنے کے لیے درج ذیل چند اقدامات کو اپنایا جا سکتا ہے۔

1- محبت کے ساتھ ان کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ پکڑیں اور جب موقع ملے گرم جوشی سے گلے لگائیں ۔

2 - توجہ ہٹانے والی چیزوں مثلاً ٹی وی، موبائل یا دیگر ڈیوائسز کو دور کر لیں ۔

3 - گھر سے باہر یعنی بازار یا کسی رشتے دار کی طرف جاتے وقت بچے سے غور و فکر اور اسے سمجھانے کے لیے مؤثر انداز میں بات کریں ۔

4 - ٹین ایج بچے کی طرف سے اپنی تجاویز اور تدابیر کو مسترد کیے جانے کے باوجود اپنی 'پیش قدمی' جاری رکھیں، بچے کا لاشعور دراصل آپ کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، تھوڑی سی کوشش کی ناکامی سے ہمت نہ ہاریں ۔

5 - ٹین ایجرز کو فن یا مزے والی سرگرمیاں پسند ہوتی ہیں، ایسے مشترکہ کام اور کھیل ڈھونڈیں جو آپ ان کے ساتھ کر سکتے ہوں ۔

6 - بچوں کے دوستوں کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہیں، برے دوستوں سے بچانے اور خبردار کرنے کے لیے بہترین وقت اور الفاظ تلاش کریں ۔

ٹیج ایجرز بچوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ آپ ان پر بھرپور توجہ دیں اور صرف انہیں ہدایات کرتے پھریں، اس کے لیے بچوں کی بات کو بھی سمجھنے اور سننے کی کوشش کریں۔

زیادہ تر والدین کی طرح آپ اپنے بچوں کی بات کو صرف بات سنانے کے لیے نہ سنیں بلکہ ان کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں، یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے جذبات و احساسات کیا ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس بات یا جذبے کا اظہار کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔

اس عمل کے لیے درج ذیل حکمت عملیاں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں ۔

1 - اتفاق یا عدم اتفاق سے گریز کریں اور سمجھنے کے لیے ان کی باتیں سنیں ۔

2 - بچوں کے احساس کو اپنے الفاظ میں ان کے سامنے پیش کریں تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ آپ نہ صرف ان کی بات سن رہے ہیں بلکہ بچے کی 'اندر کی دنیا' کو بھی سمجھ رہے ہیں ۔

3 - ہر بات پر لیکچر یا اخلاقی نصحیتیں دینے کا موقع بنانے کی عادت پر کنٹرول پائیں، ورنہ ٹین ایج بچہ آپ کی بات سننا ختم کر دے گا ۔

4 - کمیونیکیشن کو بچے سے تعلق میں گرم جوشی اور 'گفتگو' کرنے کا موقع بنائیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ آپ ان کی نظروں سے دنیا دیکھ رہے ہیں ۔

5 - ان کے پسند کے موضوعات کو جانیں، ان پر بات کریں، مزید بات کریں اور پھر مزید بات کریں ۔

سب سے اہم بات یہ کہ ٹیج ایجرز بچوں سے بات کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں کیوں کہ یہ جان لیں کہ بچوں سے کمیونیکیشن ہی سب سے اہم اور بڑی حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے آپ ان کے قریب جا سکتے ہیں اور ان کا دل جیت سکتے ہیں۔

اہم حکمت عملی کے لیے چند تدابیر ۔

1 - بات کو ہمیشہ بچوں کی غلطیوں اور خامیوں پر گھمانے سے گریز کریں اور بیشتر وقت ان کی خوبیوں اور کامیابیوں پر گفتگو کریں، مسلسل منفی گفتگو کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بچہ آپ کی گفتگو سے دور بھاگے گا ۔

2 - ایک بات، نصحیت اور تبصرے کو بار بار کرنے سے گریز کریں، ورنہ ایک ہی طرح کے لیکچر سنتے، سنتے بچہ ہر بات 'سننے' سے انکار کر دے گا۔

اس ضمن میں بات کی تکرار سے بچنے کے لیے متبادل حکمت عملی(Token Strategy) استعمال کریں جیسے کہ 'ایک یا دو دفعہ بات نہ سننے پر کسی قسم کا جرمانہ یا سزا کا اصول بنائیں اور لیکچر دینے کے بجائے اس سزا کو نافذ کر دیں تاکہ بچے کو سمجھ آئے کے غلطی کے اثرات ان کے لیے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح مثبت باتوں اور کاموں پر ٹین ایجرز کو ان کی پسند کے تحائف یا انہیں ٹریٹ بھی دی جا سکتی ہے ۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ٹین ایجرز بعض اوقات اپنے والدین کو ایک کھلونے کی طرح استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین کو بچوں کی ایسی ذہنیت کا مقابلہ انتہائی دلیری سے کرنا ہے، بچوں کی جانب سے والدین کو کھلونے کی طرح استعمال کرنے کی صورتحال عام طور پر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب والدین کسی بات پر شدید ردعمل (Overreact) یا منفی رد عمل دیتے ہیں، پھر بچے اس چیز کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے والدین کو جذباتی طور پر بلیک میل کرکے ان سے اپنے اپنے مطلب کی بات منوا لیتے ہیں۔

اس لیے والدین کو اپنے آپ کو کھلونا بنانے سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کرنی ہوگی اور اس کے لیے درج ذیل چند تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔

1- فوری ردعمل دینے کے بجائے، اپنے آپ کو تھوڑا سا وقت دیں، پرسکون ہو جائیں اور پھر بچوں کی غلطی پر بات کریں ۔

2 - بچوں سے بات کرنے سے مت بھاگیں، انہیں احساس دلائیں کہ آپ 'کھلونے' کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتے، رفتہ رفتہ وہ منفی کاموں سے بچنے کی کوشش کرنا شروع کر دیں گے، مثلا وہ کہیں کہ وہ گھر چھوڑنا چاہتے ہیں تو پوچھیں کہ وہ کہاں رہیں گے؟ پیسوں کا بندوبست کیسے کریں گے؟ ممکنہ خطرات سے کیسے بچیں گے؟

**عین ممکن ہے کہ آپ کے پرسکون ردعمل سے انہیں اپنی سوچ کی غلطی کا اندازا ہو اور وہ اس سے بچنے کی کوشش کریں۔**

ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آپ کو بچوں کی تربیت کے لیے اپنی جنگوں یا حکمت عملیوں کا چناؤ بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ آپ'پاور اسٹرگل' (طاقت کی جدوجہد) کر رہے ہیں اور ان پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ۔

جان لیں کہ ہر چھوٹے مسئلے پر اپنی بات منوانے کا مزاج بنانے کے بجائے مفاہمت کا رویہ اپنانا بہت سے مسئلے حل کر دیتا ہے، جب آپ اپنے بچوں کو فیصلہ سازی کا اختیار اور اپنے رویے کے نتائج کا ذمہ دار بناتے ہیں تو بچے آپ کی بات کو 'ایک ڈانٹ' سے زیادہ سمجھنے اور اہمیت دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے منفی انداز گفتگو سے بچیں، بچے کی غلطی اور بچے کے درمیان فرق رکھیں۔

مثلا 'تم ناشکرے ہو' جیسے الفاظ کے بجائے 'جب تم اس طرح کرتے ہو تو میں پریشان ہو جاتا یا ہوجاتی ہوں' سے ملتے جلتے جملے استعمال کریں، براہ راست الزام اور منفی الفاظ بچوں کو ضد اور بغاوت کی طرف لے جاتے ہیں۔

ٹین ایجرز کے لیے والدین کے مسلسل سوالات بھی ذہنی دباؤ کا سبب بنتے ہیں، ٹین ایجرز مشکل سے ہی اپنی 'من کی دنیا'(Internal World) تک رسائی دیتے ہیں، تاہم والدین کی طرف سے سوالات کی بمباری کی صورت میں وہ اپنی اندرونی دنیا کے گرد مضبوط حفاظتی دیوار قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔

براہ راست سوالات کی جگہ ایسے سوالات سے آغاز کیا جائے جن کا جواب 'ہاں یا ناں' میں نہ ہو بلکہ بچہ اپنے جذبات کسی حد تک والدین تک پہنچا سکتے ہوں، یہ ذہن نشین کرلیں کہ الفاظ بظاہر چند حروف کا مجموعہ(Group of Alphabets) ہی ہوتے ہیں تاہم ان کے اثرات سے آپ اپنے بچوں کی زندگی بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔


فرحان ظفر اپلائیڈ سائیکالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ہولڈر ہیں، ساتھ ہی آرگنائزیشن کنسلٹنسی، پرسنل اور پیرنٹس کاؤنسلنگ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے ساتھ [email protected] اور ان کے فیس بک پر ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔