چوہدری اسلم قتل کیس: 2 ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر بری

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

خود کش حملے میں چوہدری اسلم اور ان کے دو پولیس گارڈ بھی مارے گئے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
خود کش حملے میں چوہدری اسلم اور ان کے دو پولیس گارڈ بھی مارے گئے تھے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد اسلم خان (چوہدری اسلم) کے قتل میں زیر حراست 2 ملزمان کو 'عدم ثبوت' کی بنا پر بری کردیا۔

واضح رہے کہ جنوری 2014 میں لیاری ایکسپریس وے پر چوہدری اسلم کے پر خودکش حملے میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں ملزمان ظفر علی عرف سائیں اور عبید عرف عبی کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے انہیں بری کردیا۔

مزید پڑھیں: بہادر پولیس افسرچوہدری اسلم کی زندگی پر فلم

خودکش حملے میں چوہدری اسلم کے علاوہ ان کے دو پولیس گارڈ بھی مارے گئے تھے۔

علاوہ ازیں اسی کیس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چیف ملا فضل اللہ کو مفرور قرار دیا گیا تھا جس پر پولیس نے موقف اختیار کیا کہ جون 2018 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ ہلاک ہوا، لہٰذا اسے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا جا سکتا۔

سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں اے ٹی سی کے جج نے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

عدالت میں دونوں ملزمان ظفر علی اور عبید کو پیش کیا گیا تھا۔

جج نے فریقین کے شواہد اور حتمی دلائل ریکارڈ کرنے کے بعد اپنا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری اسلم کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی

جج نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ زیر حراست ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکا۔

جس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے دونوں ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر قتل، اقدام قتل، مشترکہ ارادے اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات سے بری کردیا۔

علاوہ ازیں عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو یہ بھی ہدایت کی کہ اگر بری ہونے والے دونوں افراد کسی دوسرے مقدمے میں نامزد نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کردیں۔

خیال رہے کہ 13 فروری کو جج نے پراسیکیوٹر اور ملزمان کے وکیل کے حتمی دلائل پیش کیے جانے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ملزمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور اس معاملے میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایس ایس پی چوہدری اسلم کی 5ویں برسی، کئی وعدے وفا نہ ہوئے

استغاثہ کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی اس وقت کی قیادت کے ایما پر کیا گیا تھا اور خودکش حملہ آور کی شناخت پیر آباد کے رہائشی اور ایک مقامی مدرسے کے طالبعلم نعیم اللہ کے نام سے ہوئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خودکش حملہ آور کئی برس سے افغانستان میں تھا۔

فروری 2017 میں تفتیشی افسر کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ملزمان پر مبینہ جرم کے الزام میں چارج شیٹ درج کی گئی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں تفتیشی افسر نے اس وقت کے ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کو مفرور بھی ظاہر کیا، اس طرح عدالت نے انہیں مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔

چوہدری اسلم کے قتل کی ذمہ داری

تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

گروپ کے اس وقت کے ترجمان سجاد مہمند نے کہا تھا کہ اسلم ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشنز میں ملوث تھے جس کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا تھا 'چوہدری اسلم نے طالبان قیدیوں کو سی آئی ڈی سیل میں ہلاک کیا اور وہ ہماری ہٹ لسٹ پر تھے۔'

چوہدری اسلم کو ماضی میں پاکستانی طالبان کی جانب سے متعدد دھمکیاں موصول ہوچکی تھیں جبکہ ستمبر 2011 میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

حملے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا 'میں اپنی جان دے سکتا ہوں تاہم دہشت گردوں کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔'

ایس پی چوہدری اسلم کی زندگی پر فلم ’چوہدری دی مرٹائر‘ بھی بنائی گئی تھی جس میں شمعون عباسی، ارباز خان، عدنان شاہ ٹیپو، زارا عابد اور اصفر مانی سمیت دیگر اداکار شامل تھے۔

خیال رہے کہ چوہدری اسلم نے سندھ پولیس میں 30 سال تک خدمات سر انجام دی تھیں۔

1984 میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی حیثیت سے پولیس فورس کا حصہ بننے والے چوہدری کو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں بھرپور عزائم کی کئی بار قیمت چکانا پڑی۔

سن 1998 میں انہیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور اپنے کام میں پیشہ ورانہ مہارت کے باعث 2005 میں انہیں سپرنٹنڈنٹ کا منصب سونپا گیا۔

سن 2006 میں لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ کی حیثیت سے بدنام زمانہ ڈکیٹ مشتاق بروہی کے قتل کے الزام میں انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔

سولہ ماہ تک جیل میں بند رہنے کے بعد دسمبر 2007 میں سندھ ہائی کورٹ نے اسلم خان اور ان کے ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

ایس پی انوسٹی گیشن شرقی-2 کی حیثیت سے چوہدری اسلم اور ان کے ساتھیوں نے لیاری سے تعلق رکھنے والے رحمٰن ڈکیت کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا۔

ستمبر 2011 میں وہ ایک بار پھر اس وقت شہہ سرخیوں کی زینت بنے جب ڈیفنس سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر حملے میں وہ بال بال بچے جبکہ اپریل 2012 میں لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے علاقے میں کیے جانے والے محاصرے میں بھی ان کا نام میڈیا میں زیر گردش رہا۔

اپنے پروفیشنل کیریئر میں متعدد مشکلات، کیسز اور تنازعات کا سامنا کرنے والے افسر کو 9 جنوری 2014 کو ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا۔