کورونا وائرس کے دونوں مریضوں کی طبیعت بہتر، دیگر میں تشخیص نہیں ہوئی، ظفر مرزا

اپ ڈیٹ 28 فروری 2020

ای میل

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا — فائل فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا — فائل فوٹو: اے پی پی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے دونوں مریضوں کی طبیعت 'مستحکم اور بہتر' ہورہی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تمام مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ 26 فروری کو پاکستان میں سی او وی آئی ڈی-19 کے میں دو کیسز کی تصدیق ہوئی تھی جس میں سے ایک کراچی اور ایک اسلام آباد میں تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق

سندھ میں پہلے کیس کی تصدیق 22 سالہ شخص میں ہوئی تھی، جس نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تھا جبکہ دوسرا کیس پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد میں اسکردو سے تعلق رکھنے والے نوجوان میں سامنے آیا تھا، جس نے ایک مہینے قبل ایران کا دورہ کیا تھا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوول کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے جمعے کی صبح تفتان سرحد کے دورے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 'صورتحال کا جائزہ لیا اور اب ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے، آئندہ چند روز میں ہم ایران سے آنے والے پاکستانی زائرین کو بتدریج مکمل صحت کی اسکریننگ کے بعد داخل ہونے کی اجازت دے دیں گے'، ساتھ ہی انہوں نے لکھا 'داخلی راستوں کو مضبوط بنایا گیا ہے سخت محنت کا شکریہ'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور کورونا وائرس سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بلوچستان میں کافی کام مکمل ہوگیا ہے جبکہ مزید کیا جانا باقی ہے'۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تفتان سرحد کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو بھی کی گئی، جہاں انہوں نے وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک اور صوبائی وزرا ظہور بلیدی، میر محمد عارف محمد حسنی کے ہمراہ پاکستان ہاؤس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے امیگریشن آفس میں وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے بارے میں وہ انکشافات اور تفصیلات جنہیں جاننا بہت ضروری ہے

انہوں نے عوام سے پاکستان میں کورونا وائرس کے چند کیسز کے سامنے آنے کے بعد خوف و ہراس میں مبتلا نہ ہونے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پُر عزم ہے، پاک-ایران سرٖحد کو بند کردیا گیا ہے اور جو زائرین ایران سے آئے تھے انہیں تفتان میں اسکریننگ کے مرحلے کے بعد سرحد پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے نشاندہی کی کہ حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام ایئرپورٹس اور زمینی راستوں پر داخلی پوائنٹس پر اسکریننگ کا عمل جاری ہے اور ملک بھر میں ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈز قائم کردیے گئے ہیں تاکہ کورونا وائرس کو ملک میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ہنگامی صورتحال کے لیے (1166) ہیلپ لائن نمبر قائم کردیا گیا۔

ایران میں پھنسے پاکستانی زائرین کی قسمت کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر زائرین نے کورونا وائرس سے متاثرہ ایرانی شہر قم کا دورہ کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں تفتان سرحد پر آنے کے بعد مقررہ وقت تک سخت نگرانی میں رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات ایران سے پاکستان آنے اور جانے والی پروازوں کو معطل کردیا تھا جبکہ براستہ سڑک اور ریل نقل و حرکت کو ایک ہفتہ قبل ہی معطل کردیا گیا تھا۔

ماسک غائب

ادھر پمز میں کورونا وائرس کے مریض کی تصدیق کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد میں ماسک کی طلب زیادہ ہونے اور ان کی اور دیگر حفاظتی سامان کی برآمدات کی اجازت ہونے کی وجہ سے مارکیٹوں سے ماسک غائب ہوگئے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی ابتدائی انتباہی علامات کی شناخت ہوگئی

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پاکستان میں 2 کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کے بعد دکانداروں کو حفاظتی ماسک کی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف تجویز دی جاتی ہے کہ اس کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کو چکلالہ اسکیم 3 سے 20 ہزار کے قریب ماسک اور دیگر خام مال ضبط کیا تھا۔

علاوہ ازیں سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

وزارت صحت کی کو آرڈینیٹر میران یوسف کا کہنا تھا کہ 'کورونا وائرس کے کسی بھی کیس کی تصدیق نہیں ہوئی'۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس مریض میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی انہیں ہسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ متاثرہ شخص کے اہلخانہ کے ٹیسٹ منفی آنے پر انہیں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔