ممکن ہے کہ طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری نہ کریں، امریکی انٹیلی جنس

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2020

ای میل

امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو تاریخی معاہدہ ہوا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو تاریخی معاہدہ ہوا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: امریکی حکومت کو خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان، امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق این بی سی نیوز کی رپورٹ میں 3 امریکی حکام کے انٹریو شامل کیا گیا جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کو 29 فروری کو دوحہ میں طالبان سے ہونے والے معاہدے کے بعد ملنے والی خفیہ رپورٹس پر بریفنگ دی گئی تھی۔

ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'ان کا معاہدے کی پاسداری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے' جبکہ دیگر دو نے خفیہ معلومات کے حوالے سے بتایا کہ 'یہ انتہائی برے شواہد تھے جو طالبان کے ارادوں پر روشنی ڈالتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: 'امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد طالبان افغان حکومت میں جگہ بنا لیں گے'

دوحہ معاہدے میں طالبان نے دہشت گردوں کو پناہ گاہ نہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا کہا گیا تھا کہ جس کے بدلے میں امریکا نے 14 ماہ کے اندر افغانستان سے اپنی تمام فوج کو واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔

انٹیلی جنس کی معلومات رکھنے والے ایک افسر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ 'ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی طرف کے معاہدے کی پاسداری کریں گے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے اصل ارادے جانتے ہیں'۔

سابق امریکی حکام نے بتایا کہ انتظامیہ ویتنام کی طرح سے افغانستان جنگ کے خاتمے کے خدشات جانتی ہے جس میں طالبان معاہدہ توڑ دیں گے اور ملک پر قبضہ کرلیں گے تاہم کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کر رہا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس امکان کا علم رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ممالک کو اپنا خیال خود رکھنا ہوتا ہے، آپ صرف کسی شخص کا ہاتھ ہی تھام سکتے ہیں'۔

کیا طالبان اقتدار میں آجائیں گے؟ سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ 'اس میں ممکنات کا دخل نہیں بلکہ ایسا ہوگا'۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو جو دوحہ میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک تھے کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی فیصلہ سنانا قبل از وقت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امن معاہدے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ذاتی طور پر طالبان سے ملنے کے خواہاں

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے دیکھا ہے کہ طالبان کی سینئر قیادت تشدد کو کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ہمیں اب بھی اعتماد ہے کہ طالبان کی قیادت اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے'۔

اس معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات کی بحالی اور دونوں جانب سے ہزاروں قیدیوں کی رہائی ضروری ہے تاہم افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

این بی سی نیوز سے گفتگو کرنے والے دو دفاعی حکام کے مطابق حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق طالبان افغان فورسز پر حملے جاری رکھیں گے تاکہ حکومت کو قیدیوں کے تبادلے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

دیگر دفاعی و انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ امریکی صدر افغانستان سے امریکی افواج بلانے کے لیے پرعزم ہیں بھلے اس انخلا کے بعد طالبان جو بھی کریں۔

سابق سی آئی اے حکام ڈوگ لندن کا کہنا تھا کہ 'زلمے خلیل زاد ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کوور دینے کی کوشش کر رہے ہیں'۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹوئٹ کیا کہ 'ہم امریکی انٹیلی جنس حکام کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ طالبان کا معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا ارادہ ہے، نفاذ کا عمل اب تک بہترین جارہا ہے اور امریکی حکام کی جانب سے اس طرح کی رائے منصفانہ نہیں'۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ تقریبا 2 صدی سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں، چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔

1- طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

2- افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

3- طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔

4 - انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں پینٹاگون نے خبردار کیا تھا کہ اگر طالبان انٹرا افغان مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار نہیں کریں تو معاہدہ منسوخ کردیا جائے گا۔

دوسری جانب معاہدے کے فوراً بعد ہی طالبان قیدیوں کا معاملہ تنازع اختیار کرگیا تھا۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب افغان صدر اشرف غنی نے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے میں شامل 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق شق کو مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ امریکا اور طالبان، اعتماد کی فضا کو قائم کرنے کے لیے فوری طور پر سیاسی اور جنگی قیدیوں کو رہا کریں گے، جس کے لیے تمام متعلقہ فریقین سے رابطہ کیا جائے گا اور ان سے اجازت لی جائے گی۔