کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے میں کتنے دن لگتے ہیں؟

10 مارچ 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — اے ایف پی فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — اے ایف پی فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس کے شکار افراد میں اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی علامات ظاہر ہونے میں اوسطاً 5 دن کا عرصہ لگتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع تحقیق میں علامات نمودار ہونے کے دورانیے کے نئے تخمینے کو بیان کیا گیا جو وبا کے حوالے سے ہونے والی ابتدائی تحقیقی رپورٹس کی تصدیق کرتا ہے۔

نئے کورونا وائرس کے مرض کی ابتدا سے پہلی علامت کے ظہور ہونے تک کا وقت 5 دن ہے اور بیشتر افراد میں علامات 12 دن میں نظر آنے لگتی ہیں۔

امریکا کی جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں شامل جسٹن لیسلر نے بتایا کہ اس دورانیے کا تعین مزید معلومات کے حصول کے دوبارہ کیا جاسکتا ہے مگر ابتدائی تفصیلی تجزیہ مختلف تدابیر جیسے قرنطینہ اور متحرک نگرانی کے لیے بہت اہم ہے۔

عام طور پر دنیا بھر میں مشتبہ مریضوں کو 14 دن کے لیے الگ تھلگ رکھا جارہا ہے کیونکہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کووڈ 19 کی علامات ایک ہفتے تک ظاہر ہوجاتی ہیں اور لگ بھگ انفیکشن کے شکار لگ بھگ ہر ایک میں 14 دن کے دورانیے میں علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔

اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ہر 10 ہزار میں سے ایک فیصد مریضوں میں علامات 2 ہفتے کے مانیٹرنگ دورانیے کے بعد نمودار ہوتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ اب یہ وائرس امریکا میں متعدد مقامات میں پہنچ چکا ہے اور خطرات کی روک تھام اور اس کی رفتار کو سست کرنا ہی بہتر حکمت عملی ہوگی، جس کے بعد قرنطینہ کے عمل کو زیادہ سخت کرنا ہوگا۔

محققین نے چین اور دیگر ممالک کے مصدقہ کیسز کا تجزیہ کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ بیشتر افراد میں یہ علامات 5 ویں دن تک نظر آنے لگتی ہیں جبکہ ایسا مریض جو 12 ویں دن تک علامات سے محفوظ رہے، اس میں علامات ظاہر ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، مگر وہ وائرس کو صحت مند افراد میں متاثر کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے بارے میں اب بھی بہت کچھ جاننا باقی ہے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنے افراد میں علامات نظر آئیں اور کتنے افراد میں نہیں۔

اس سے پہلے فروری میں چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی رپورٹس میں 8 دسمبر سے 11 فروری تک چین میں رپورٹ ہونے والے تمام کیسز کا تجزیہ کرتے ہوئے دریافت کیا تھا کہ 1.2 فیصد افراد میں علامات ظاہر ہوئے بغیر کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

چین میں تو ایک خاتون بھی سامنے آئی جس نے اپنے خاندان کے 5 افراد میں اس وائرس کو منتقل کیا مگر وہ خود جسمانی طور پر کبھی بیمار نہیں ہوئی۔

اب تک کورونا وائرس کے بیشتر کیسز کی شدت معتدل رہی ہے اور کچھ عرصے قبل جرمنی میں بھی ایسا کیس سامنے آیا تھا جس میں ایک 33 سالہ جرمن شخص نے علامات ظاہر کیے بغیر وائرس کو کم از کم 2 افراد میں منتقل کیا تھا۔

مگر چینی خاتون کے کیس سے قبل سائنسدان یقین سے کہنے سے قاصر تھے کہ بغیر علامات ظاہر کیے بغیر بھی لوگ اس مرض کووڈ 19 کو دیگر افراد میں منتقل کرسکتے ہیں، مگر اب ان کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہے۔

یعنی لوگ علامات کے بغیر بھی وائرس کو دوسروں میں منتقل کرسکتے ہیں مگر یہ اس وائرس کے پھیلاﺅ کا مرکزی ذریعہ نہیں، تاہم اس کی روک تھام کو مشکل بنانے والا عنصر ضرور ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں اب تک کورونا وائرس سے ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 4 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔