تعلیمی اداروں کی مزید بندش کا فیصلہ جلد کرلیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2020

ای میل

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ — فائل فوٹو:ڈان نیوز
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ — فائل فوٹو:ڈان نیوز

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے فیصلہ ایک دو روز میں کرلیں گے۔

نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے پوری دنیا میں تشویش ہے تاہم اس سے بڑی تعداد میں لوگ صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب چین میں کورونا وائرس پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا تو ہم نے 34 مشتبہ افراد کا ٹیسٹ کیا جن میں کیسز کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 26 فروری کو کراچی میں ہمارے پاس پہلا کیس سامنے آیا اس وقت سندھ میں کیسز کی مجموعی تعداد 15 ہیں، جن میں سے 8 عراق، شام اور دوحہ سے ہوتے ہوئے کراچی آئے تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا 13 مارچ تک تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ 4 متاثرین ایران سے آئے جبکہ 3 متاثرین ایسے ہیں جو زیادہ تشویش ناک ہیں اور وہ لندن اور دبئی سے آئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 'جس وقت ہمیں معلوم ہوا تو ہم نے ایمیگریشن سے رابطہ کیا اور انہوں نے بتایا کہ ایران سے 13 ہزار 826 لوگ آئے ہیں اور 2 ہزار 355 سندھ کے رہائشی تھی، ہم نے ان تمام سے رابطہ کیا اور ان کو قرنطینہ میں رکھا اور ٹیسٹ کیے'۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سندھ میں تمام کیسز باہر سے آئے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطہ کرکے وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس کرنے کا کہا تھا جس میں، میں نے تجویز دی تھی کہ ایئرپورٹ اور سرحدوں پر قرنطینہ کرنے کا طریقہ کار اپنایا جائے تاہم اب تک اس سطح پر چیکنگ نہیں ہورہی۔

انہوں نے کہا کہ 'اب تک سامنے آنے والے 15 کیسز میں سے کسی کا بھی ایئرپورٹ پر تشخیص نہیں ہوئی تھی، ایمیگریشن افسر کے ساتھ ڈاکٹر یا پیرامیڈک ہونا چاہیے، وفاقی حکومت سے کہا ہوا ہے کہ ایئرپورٹ پر اقدامات مزید مؤثر بنائیں'۔

سندھ میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آنے پر ان کا کہنا تھا کہ 'حیرت ہے کہ 11 ہزار سے زائد لوگ دیگر صوبوں میں گئے ان میں سے کسی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی'۔

یہ بھی دیکھیں: 'سندھ میں تمام تعلیمی ادارے 16 مارچ کو کھل جائیں گے'

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے متعلق کچھ ایڈوائزری دی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کو مکمل احتیاطی سامان دیا جانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر کسی نے گزشتہ 14 روز میں بیرون ملک سفر کیا ہے یا اس میں کوئی علامات ہیں تو وہ میچ گھر پر بیٹھ کر دیکھیں اور اسٹیڈیم نہ آئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گراؤنڈ میں ہینڈ سینیٹائزر، ماسک رکھنے اور ایک سیٹ کے فاصلے سے بیٹھنے وغیرہ کی تجویز دی ہے۔

پی سی بی سے اس حوالے سے رابطے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'اب تک خوف و ہراس کی صورتحال نہیں جو لوگ باہر سے آئے ہیں صرف ان میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، لوگ سمجھتے ہیں سندھ حکومت کچھ چھپا رہی ہے، میڈیا سے درخواست ہے کہ خوف و ہراس پھیلانے والی خبریں نہ دیں'۔

اسکولوں کے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'اندازہ ہے کہ اسکولوں میں امتحانات کا وقت ہورہا ہے، اگر ہم نے اسکول بند کردیے تو لوگوں میں خوف و ہراس بھی پھیلے گا تاہم اسکولوں کے حوالے سے فیصلہ آئندہ ایک دو روز میں تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر کریں گے'۔

مزید پڑھیں: کراچی کے تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز شروع کردیں

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بچے میں علامات ہیں تو اسے اسکول نہ بھیجیں اور اگر کوئی بچہ گزشتہ 14 روز میں باہر سے آیا ہے تو وہ بھی اسکول نہ آئے۔

خیال رہے کہ سندھ میں 26 فروری کو پہلے کورونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں اس میں توسیع کرکے 13 مارچ تک تعلیمی اداروں کو مزید بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی طور پر اس وقت تک 19 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ 15 کیسز صرف سندھ میں ہیں۔