عام صابن کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے مؤثر کیوں ہے؟

اپ ڈیٹ مارچ 11 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے طبی ماہرین جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیتے ہیں وہ ہے ہاتھوں کو دھونا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس 11 مارچ 2020 کی سہ پہر تک دنیا کے 118 ممالک تک پہنچ چکا تھا اور اس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 19 ہزار 133 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

مگر صرف پانی سے ہاتھ دھونا نہیں بلکہ ایک عام صابن اس وائرس کے خلاف اہم ترین ہتھیار ہے۔

جی ہاں واقعی صابن متعدد وائرسز جیسے نئے نوول کورونا وائرس کو ہاتھوں سے نکال پھینکتا ہے کیونکہ وہ وائرس کی چربی کی جھلی کو تحلیل کردیتا ہے۔

یہ بات نیو ساﺅتھ ویلز کے کیمسٹری پروفیسر فلی تھورڈسن نے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ چربی کی جھلی تحلیل ہونے پر وائرس تاش کے پتوں کے گھر کی طرح گرجاتا ہے اور غیرمتحرک ہوجاتا ہے۔

صرف پانی سے ایسا ہونا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ اسے جلد اور وائرس کے درمیان موجود گلیو جیسے مضبوط تعلق کا سامنا ہوتا ہے، وائرس عام طور پر چپکنے والا ہوتا ہے اور آسانی سے سرکتا نہیں۔

پروفیسر فلی کا کہنا تھا کہ صابن والا پانی بالکل مختلف ہوتا ہے، صابن میں چربی جیسے اجزا ہوتے ہیں، کچھ ساخت کے لحاظ وائرس کی جھلی میں موجود لپڈ سے ملتے جلتے ہیں، تو صابن میں موجود مالیکیولز وائرس کی جھلی میں موجود لپڈ سے لڑتے ہیں۔

چونکہ ہمارے ہاتھ کافی سخت اور جھریوں والے ہوتے ہیں، تو ہمیں ان کو رگڑنے اور بھگونے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ صابن جلد کے ہر حصے پر پہنچ جائے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صابن وائرسز کو غیرمتحرک کرنے میں دیگر مصنوعات سے بہتر کیوں ہے ' جراثیم کش یا لیکوئیڈ، وائپس، جیل اور کریموں کا اثر بھی صابن سے ملتا جلتا ہوتا ہے مگر وہ عام صابن جتنے اچھے نہیں ہوتے، ان مصنوعات میں بیکٹریا کش اثرات وائرس کی ساخت پر اثرانداز نہیں ہوتے'۔

انہوں نے کہا 'بیشتر اینٹی بیکٹریل مصنوعات بنیادی طور پر صابن کے مہنگے ورژن ہوتی ہے، صابن بہترین ہوتا ہے مگر الکحل والے وائپس اس وقت اچھے ہوتے ہیں جب صابن دستیاب نہ ہوں (جیسے دفاتر یا پبلک ٹوائلٹ وغیرہ)۔

امریکا کی رٹگیوس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈونلڈ اسکافنر نے اس بارے میں کہا کہ صابن صابن وائرسز کو ہاتھ دھونے کے دوران جلد سے نکال پھینکتے ہیں م جبکہ ہینڈ سینیٹائزر وائرس کو ہاتھوں میں غیرمتحرک کردیتے ہیں، تو آپ دونوں کو استعمال کرکے اثر زیادہ بڑھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پانی کا درجہ حرارت کوئی بھی ہو صابن کے ساتھ وائرس کے خلاف موثر ثابت ہوتا ہے، بس لوگوں کو ہاتھوں کے تمام حصوں کی صفائی کی مشق کرنی چاہیے اور ایسی جگہوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے جہاں مٹی پھنس جاتی ہو جیسے ناخنوں کے نیچے۔

گزشتہ ماہ عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ عام صابن کی طاقت کو نظرانداز مت کریں۔

عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو اکثر دھونا، چاہے الکحل والے لیکوئیڈ یا عام صابن اور پانی سے، یہ کووڈ 19 اور دیگر متعدد امراض سے تحفظ کے موثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔

ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک دھونا چاہیے یا دورانیہ اس سے بھی زیادہ ہو تو بہتر ہے۔

اور ہاں ہاتھ دھونے کے بعد ان کو فوراً خشک کرنا مت بھولیں کیونکہ گیلے ہاتھوں پر جراثیموں کے دوبارہ چپکنے کا امکان بڑھتا ہے اور ہاتھوں کو خشک کرنے کے لیے گھر میں تولیے جبکہ گھر سے باہر ٹشو یا کسی پیپر ٹاﺅل کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

۔