کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں کے دوران ہی وفاقی سیکریٹری صحت کو ہٹادیا گیا

اپ ڈیٹ 12 مارچ 2020

ای میل

ڈاکٹر توقیر کی جگہ دوسرے 21ویں گریڈ کے افسر کو تعینات کردیا گیا — فائل فوٹو: رائٹرز
ڈاکٹر توقیر کی جگہ دوسرے 21ویں گریڈ کے افسر کو تعینات کردیا گیا — فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: وزارت صحت جہاں ایک طرف نوول کورونا وائرس سے خطرے کے باعث متحرک ہیں، وہیں دوسری طرف وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک ہفتے میں اس طرح کی دوسری برطرفی ہے کیونکہ 4 مارچ کو اس وقت کے سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک (بی ایس-22) کو ہٹا کر ڈاکٹر توقیر حسین شاہ (بی ایس-21) کو انچارج ایڈیشنل سیکریٹری کی حیثیت سے تعینات کیا گیا تھا۔

بظاہر آخری تبدیلی پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے کی گئی تنقید کے بعد سامنے آئی چونکہ ڈاکٹر توقیر حسین شاہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں اور وہ سال 2014 میں ماڈل ٹاؤن آپریشن کے وقت سابق وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔

مزید پڑھیں: ملک میں اب تک کورونا وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوا، ظفر مرزا

ادھر پی اے ٹی کے سربراہ نے ڈاکٹر توقیر شاہ کی تعیناتی پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 'ماڈل ٹاؤن قتل عام کے مجرموں اور ماسٹر مائنڈز کو ماضی کی حکومتوں میں پکڑے جانے کا خوف تھا لیکن اب وہ عمران خان کی حکومت میں بھی کوئی خوف محسوس نہیں کرتے'۔

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 'میرے پاس وزیراعظم عمران خان کو ماڈل ٹاؤن کیس میں شامل مرکزی کرداروں اور مجرموں کو اپنی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے پر مبارک باد دینے کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں'۔

دوسری جانب ڈان کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق ڈاکٹر توقیر حسین شاہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ کے ایک افسر ہیں اور وہ اس سے قبل اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں خصوصی ڈیوٹی پر بطور افسر فرائض انجام دے چکے ہیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ کے 21 ویں گریڈ کے افسر ڈاکٹر تنویر احمد قریشی کو نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کا ایڈیشنل سیکریٹری (انچارچ) تعینات کیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

ڈاکٹر تنویر احمد قریشی اس سے قبل پیٹرولیم ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔

علاوہ ازیں وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں سیکریٹریز کو بہت اہم وقت پر ہٹایا گیا کیونکہ یہ کورونا وائرس کے خلاف کوششوں کو دیکھ رہے تھے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا کی نظریں ہم پر ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں یہیں یقین نہیں ہے کہ سیکریٹری صحت کون ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر توقیر حسین شاہ شہباز شریف کے قریبی تھے لیکن وہ بہت قابل تھے اور کچھ ہی دنوں میں انہوں نے وزارت سے متعلق تمام مسائل کو سمجھ لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں کورونا کا نیا کیس، پاکستان میں مجموعی تعداد 20 ہوگئی

تاہم عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'ہم یہ بھی سن رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ان کی تعیناتی سے ناخوش ہے کیونکہ یہ ان کے لیے مشکل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس تعیناتی کا دفاع کریں'۔

علاوہ ازیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہم سن رہے ہیں کہ ڈاکٹر تنویر احمد قریشی 3 ماہ میں ریٹائر ہوجائیں گے تو اس عرصے میں اگر ان کو تبدیل نہیں کیا جاتا تو حکومت کو ایک اور سیکریٹری صحت کو تلاش کرنا ہوگا'۔

اس تمام صورتحال پر جب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے رابطہ کیا گیا کہ تو ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری صحت کی تعیناتی اور ہٹانے سے متعلق انہوں نے کچھ نہیں کیا۔